فلسطین اسرائیل تنازع جنگ بندی اور قیدیوں سے متعلق گفتگو اہم مرحلے میں داخل: امریکہ

عظمیٰ نیوز سروس

واشنگٹن//امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل، مصر، قطر اور امریکہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بارے میں مفاہمت کر چکے ہیں اور بات چیت اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق جیک سلیوان نے کہا کہ اس معاہدے پر ابھی گفتگو جاری ہے اور قطر اور مصر کے درمیان حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات بھی کئے جائیں گے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے رفح پر حملے کی دھمکیوں کے حوالے سیمذکورہ اعلیٰ امریکی افسر نے تصدیق کی کہ جو بائیڈن کو ابھی تک رفح آپریشن کا اسرائیل کا منصوبہ موصول نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ رفح آپریشن عام شہریوں کے تحفظ کیلئے منصوبہ بندی کے بغیر نہیں کیا جانا چاہئے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آج میں اپنے اسرائیلی ہم منصبوں سے رفح کے حوالے سے ان کے ارادوں کے بارے میں بات کروں گا۔ ‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن کا موقف ہے کہ دو ریاستی حل اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت کا بہترین طریقہ ہے۔ امریکی عہدیدار کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حماس کے ایک سینئر رکن کا کہنا ہے کہ اس امید کا اظہار کہ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ جلد طے پا جائے گا، حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا۔ دوسری جانب یرغمالوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات کے حوالے سے اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والی گفتگو میں 40 یرغمالوں کی رہائی کے بدلے غزہ جنگ میں6ہفتوں کے وقفے اور سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔ امریکہ ماہ رمضان سے پہلے غزہ سے متعلق معاہدہ کروانا چاہتا ہے۔ دریں اثناء اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فلسطینی تنظیم اپنے موقف سے دستبردار ہوجائے تو فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ غزہ میں جاری آپریشن کئی ہفتوں میں پورا ہوجائے گا۔ چنانچہ یرغمالوں کی رہائی کے سلسلے میں کوئی معاہدہ نہ ہوسکے تو رفح شہر پر حملہ کیا جائے گا۔