بے باک آواز
ڈاکٹر سید تابش امام
بہار کی سیاسی اور صحافتی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا تذکرہ محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے لیے ایک فکری حوالہ بن جاتا ہے۔ مرحوم غلام سرور کا شمار بھی انہی باوقار، صاحبِ کردار اور ہمہ جہت شخصیات میں ہوتا ہے ،جنہوں نے قلم اور اقتداردونوں کوذاتی مفاد کے بجائے عوامی خدمت اور سماجی ذمہ داری کا وسیلہ بنایا۔ وہ صحافت کے میدان میں بھی ضمیر کی آواز تھے اور سیاست میں بھی اصولوں کے سچے علم بردار۔
غلام سرور کو عام طور پر روزنامہ سنگم کے بانی مدیر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، لیکن یہ شناخت ان کے فکری قد و قامت کا محض ایک پہلو ہے۔ سنگم ان کے نزدیک صرف ایک اخبار نہیں تھا بلکہ عوامی مسائل، سماجی ناہمواریوں اور اقتدار کی جواب دہی کا ایک جرأت مند اور باوقار پلیٹ فارم تھا۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والی خبریں نہ سنسنی کی اسیر ہوتیں اور نہ سطحی بیانیہ کی محتاج، بلکہ حقائق کی مضبوط بنیاد، مستند حوالوں اور بے لاگ تجزیہ پر قائم ہوتیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریریں اکثر ایوانِ اقتدار میں اضطراب پیدا کر دیتی تھیں۔
غلام سرور کا صحافتی مزاج مصلحت کوشی اور مفاہمت پسندی سے یکسر مختلف تھا۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ صحافت کا اصل فریضہ طاقت کے سامنے سچ کہنا ہے، نہ کہ طاقت کی ترجمانی کرنا۔ انہوں نے کبھی قلم کو ذاتی مفادات، اشتہاری دباؤ یا وقتی فائدوں کے آگے سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ کسانوں کی بدحالی، مزدوروں کے حقوق، پسماندہ طبقات کی محرومیاں اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک جیسے مسائل ان کی تحریروں کا مستقل موضوع رہے۔ ان کا اخبار کمزوروں کی آواز اور محروموں کا مقدمہ بن چکا تھا۔
یہی فکری دیانت، سماجی شعور اور عوامی وابستگی انہیں سیاست کے میدان میں لے آئی۔ جب غلام سرور نے عملی سیاست میں قدم رکھا تو اس فیصلے کو اقتدار کی ہوس کے بجائے سماجی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ انہوں نے سیاست کو صحافت کا تسلسل سمجھا—ایک ایسا عملی میدان جہاں مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کے حل کی راہیں بھی ہموار کی جا سکتی ہیں۔
بطور سیاستدان غلام سرور نے پسماندہ اور محروم طبقات کو محض نعروں کے سہارے نہیں چھوڑا بلکہ انہیں تعلیم، روزگار اور سماجی انصاف کی منظم جدوجہد سے جوڑنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ ان کی سیاسی بصیرت اس حقیقت میں پوشیدہ تھی کہ وہ مسائل کو وقتی جذبات کے بجائے سماجی ساخت اور تاریخی محرومیوں کے پس منظر میں دیکھتے تھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ حقیقی تبدیلی محض اقتدار کی تبدیلی سے نہیں آتی بلکہ فکری بیداری اور ادارہ جاتی اصلاحات سے شروع ہوتی ہے۔بہار اسمبلی کے اسپیکر کی حیثیت سے غلام سرور کا دور ایک ایسے عہد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب ایوان کا وقار صرف ضابطوں سے نہیں بلکہ طرزِ عمل اور جمہوری روایات سے قائم تھا۔ ان کی صدارت میں اختلافِ رائے کو انتشار نہیں بلکہ جمہوریت کی روح سمجھا گیا۔ وہ حزبِ اختلاف کی آواز کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے سنتے تھے جتنی اپنی جماعت کی، اور یہی ان کی منصفانہ، غیر جانب دار اور باوقار قیادت کا واضح ثبوت تھا۔
ان کے دورِ صدارت کے کئی فیصلے تاریخ میں محفوظ ہیں، مگر ان میں سب سے نمایاں اور دور رس فیصلہ اردو زبان کے وقار کی بحالی کا ہے۔ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ بہار کی تہذیبی وراثت اور مشترکہ ثقافتی شعور کی علامت ہے۔ غلام سرور نے اس حقیقت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسے آئینی اور ادارہ جاتی سطح پر نافذ بھی کیا۔ اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کے طور پر اس کا جائز حق دلانا اور اسمبلی کی کارروائیوں میں اردو کے استعمال کو یقینی بنانا محض ایک لسانی اقدام نہیں تھا، بلکہ تہذیبی انصاف اور سماجی احترام کا واضح اعلان تھا۔یہ فیصلہ اس بات کی دلیل تھا کہ غلام سرور سیاست کو محض عددی اکثریت کا کھیل نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی احترام کا ذریعہ مانتے تھے۔ ان کے نزدیک جمہوریت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ریاست اپنے تمام شہریوں کی شناخت، زبان اور ثقافت کو مساوی وقار عطا کرے۔
غلام سرور کی زندگی کا سب سے تابناک پہلو ان کی اصول پسندی تھی۔ وہ ان معدودے چند صحافیوں اور سیاستدانوں میں شامل تھے جنہوں نے کبھی موقع پرستی کو اصولوں پر غالب نہیں آنے دیا۔ نہ صحافت میں اور نہ سیاست میںانہوں نے کبھی آسان یا مفاد پرستانہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ ان کے فیصلے بسا اوقات مشکل اور غیر مقبول ہوتے تھے، مگر وہ ہمیشہ ضمیر کی آواز پر مبنی ہوتے تھے، اور یہی ان کی اصل طاقت تھی۔
آج، جب صحافت کارپوریٹ دباؤ میں اور سیاست اقتدار کی کشمکش میں گھری ہوئی ہے، غلام سرور کی زندگی ایک زندہ سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ کیا قلم اب بھی ضمیر کی آواز بن سکتا ہے؟ کیا سیاست اب بھی خدمتِ خلق کا وسیلہ ہو سکتی ہے؟ غلام سرور کی مثال ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ سب ممکن ہے،بشرطیکہ نیت صاف ہو اور اصول واضح ہوں۔مرحوم غلام سرور کا سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صحافت اور سیاست، اگر اخلاقی بنیادوں پر استوار ہوں، تو ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل بن سکتی ہیں۔ ان کی خدمات بہار کی سیاسی و صحافتی تاریخ میں محض ایک باب نہیں بلکہ ایک معیار ہیں،ایسا معیار جس پر پورا اترنا آج کے عہد میں سب سے بڑا چیلنج بھی ہے اور سب سے بڑی ضرورت بھی۔
غلام سرور کا نام شاید اب ایوانوں میں نہ گونجے، مگر ان کا ورثہ قلم کی حرمت، اصولوں کی پاسداری اور عوامی خدمت ہمیشہ زندہ رہے گا اور یہی کسی بھی باوقار، صاحبِ کردار اور تاریخ ساز شخصیت کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
رابطہ۔9934933992
[email protected]