غزلیات

جو تتلیاں کبھی کرتی ہیں انتخاب غلط
پرایک ڈال پہ کِھلتا ہے پھر گلاب غلط

سوال کرتی ہوئی آنکھ کیا جھکی ہے کبھی
نظر نظر سے کیا تم نے اجتناب غلط

کبھی جو چونک اُٹھے ہم ہوا کی دستک سے
تمہارے ہجر نے ہم سے کیا حساب غلط

کتابِ عشق کا مطلب نکالا ہے اُلٹا
لکھا ہے اس نے محبت کا انتساب غلط

کمالِ لمس نے تازہ گلاب توڑے تھے
پڑھی تھی ہم نے کبھی وصل کی کتاب غلط

نظر نہ آیا تمہیں اس ہنر کا منہ عادل ؔ
ہمارے شعر نے تم سے کیا حجاب غلط

اشرف عادل ؔ
الٰہی باغ سرینگر
موبائل نمبر؛99065404315

اَنا کی جنگ ہو جس میں وہ رشتہ توڑنا بہتر
خلوصِ دل نہیں جس میں اُسے رشتہ نہیں کہتے
نکالو ذہن سے اُن کو جنہیں ہم یاد نہ آئیں
وفا شامل نہیں جس میں اُسے رشتہ نہیں کہتے
سفر کے بیچ ڈھونڈے ہیں دو آنکھیں آسرا اکثر
کوئی منزل نہیں جس میں اسے رشتہ نہیں کہتے
قرابت کے جزیرے میں کئی طوفان آتے ہیں
سنو ساحل نہیں جس میں اُسے رشتہ نہیں کہتے
کرے جو بوجھ دل کا کم رِوایت ہو ہنسانے کی
وہی محفل نہیں جس میں اسے رشتہ نہیں کہتے
شفقت۔حوصلہ ۔تھوڈی تَسَلی بھی مصیبت میں
ہمیں حاصل نہیں جس میں اسے رشتہ نہیں کہتے
فلکؔ جی ہر مصیبت میں سہارا چاہتا ہے دل
نہ الُجھن حل ہُوئی جس میں اُسے رشتہ نہیں کہتے

فلک ریاض
حسینی کالونی چھتر گام،کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109

ہم نے اتنے خواب الجھائے ہیں کیوں
ظلم اپنے آپ پر ڈھائے ہیں کیوں
سمت کیا منزل ہے کیا شوقِ سفر
لوٹ جانا ہے تو پھر آئے ہیں کیوں
بھولنے کی راہ پر نکلے ہیں ہم
ہمسفر یادوں کے پھر سائے ہیں کیوں
ہوں نگاہِ عشق محرومِ رسن
پیچ وخم زلفوں کے سلجھائے ہیں کیوں
یہ فریب عشق ہی ہے۔۔۔ اور کیا؟
چار جانب آپ ہی چھائے ہیں کیوں
پا بجولاں ہوں جنوں کی خامشی
آہٹوں نے دشت پھیلائے ہیں کیوں
درد لذت آشنا شیدؔا کریں
یوں نہیں تو زخم ہی کھائے ہیں کیوں

علی شیداؔ
نجدون نیپورہ اسلام آباد،اننت ناگ
موبائل نمبر؛9419045087

رات دن انگلیوں پر نچاتے ہو تم
پیار میں اتنا کیوں ظلم ڈھاتے ہو تم
ساتھ میں زندگی لے کے آتے ہو تم
موت ہوتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم
ہوتی ہیں قیمتی موتیاں دستیاب
اے مرے یار جب مسکراتے ہو تم
صاف کہدو کہ ملنا نہیں چاہتے
اس قدر کیوں بہانے بناتے ہو تم
آنکھوں سے آنکھیں کیا مل گئیں دو گھڑی
دل کی گہرائی میں اُترے جاتے ہو تم
کون سی مجھ سے آخر خطا ہوگئی
کس لئے مجھ کو اتنا ستاتے ہو تم
پہلی پہلی توجہ کا مشکور ہوں
ورنہ خاطر میں کب مجھ کو لاتے ہو تم
اک عجب سی مہک سے ہے بھرتا دماغ
مجھ کو جب بھی گلے سے لگاتے ہو تم

ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی یوپی

دل تو پاک صاف ہے عین شین قاف ہے
سب کو اعتراف ہے عین شین قاف ہے
ہر گھڑی طواف ہے عین شین قاف ہے
اب نہ انحراف ہے عین شین قاف ہے
رات مختصر رہی ، روح بے سکوں رہی
اس سے اختلاف ہے عین شین قاف ہے
سوکھ کر زباں مری مثلِ خار ہو گئی
چشم پر غلاف ہے عین شین قاف ہے
نام کی بہار ہے ، ہر کلی اُداس ہے
اس پہ انعطاف ہے عین شین قاف ہے
جہل ہے شباب پر خرد اضطراب میں
دل میں کیوں شگاف ہے عین شین قاف ہے
جاں کنی کا وقت ہے دل میں ایک آس ہے
اب کہاں لحاف ہے عین شین قاف ہے
جنگ ہو جدال ہو یا کوئی مقام ہو
ہر خطا معاف ہے عین شین قاف ہے
مان لو سعیدؔ کی پاس کی بعید کی
گھر میں اعتکاف ہے عین شین قاف ہے

سعید ؔقادری
مظفر پور، بہار
موبائل نمبر؛9199533834

کس طرح دم توڑ بیٹھی تیرے آنے کی خوشی
یعنی سچ میں کٹ رہی ہے تیرے بِن یہ زندگی

تم نے اتنے زاویوں سے آزمایا ہے مجھے
اب تو خود بے بس پڑی ہے میرے آگے بے بسی

جسکا لہجہ پھول جھڑتا تھا یہ کل کی بات ہے
داستاں کتنے بیاں کرتی ہے اسکی بے کلی

چلچلاتا ایک صحرا ہجر میں تپتا ہوا
اور اُس میں ہے مقفل وجد کی وہ آگہی

اے میرے ماضی مجھے اِس حال میں تو بخش دے
اب تو حد سے بڑھ چکی ہے میری یہ آورگی

خیر مقدم ہر نئے غم کا میں کرتا ہوں عقیل ؔ
ہاں نظر آتا ہے مجھ کو راستہ یہ آخری

عقیل فاروق
بنہ بازار شوپیان،موبائل نمبر؛7006542670

میں خود کو کھو رہا ہوں مجھ کو بچائے کوئی
میرے وجود کا پھر سپنا دکھائے کوئی
وہ دل وہ شہرِ امید، وہ گُل وہ باغِ خورشید
ویران ہو چکا ہے اس کو بسائے کوئی
وہ جس کو میں ابھی تک اپنا وجود کہتا
موجود ہے کہیں تو مجھ کو دکھائے کوئی
اب تو میں خواب گر کی ہر بات سے ہوں واقف
جو درمیاں ہے پردہ اس کو ہٹائے کوئی
دل تو یوں پھولوں سے بھی اُکتا ہی جاتا ہے پھر
کانٹوں سے رشتہ آخر کب تک نبھائے کوئی
کیا ہے نصیب میں گر بس انتظار ہی ہے
جی لیں گے ہم کسی طورآئے نہ آئے کوئی
میرا بھی خواب تھا یہ جاناں کبھی یوں بھی ہو
میں روٹھ جاؤں مجھ کو مجھ سا منائے کوئی
زندہ دِلی ہی تو ہے دشتِ وجود یارو
یہ لوگ زندہ لاشیں ان کو جگائے کوئی

میر شہریار
اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛7780895105

اگر پاس تم ہو گزارا بہت ہے
ہمیں سائے کا بھی سہارا بہت ہے
صراطِ محبّت میں کیا کارِ جُگنو
تری آنکھ کا اِک اِشارہ بہت ہے
نہیں چاہیے جھیل ڈل کے نظارے
تو دکھتا رہے تو نظارہ بہت ہے
کہ تاروں بری رات کا کیا کروں میں
نظارے میں گُم سُم تو تارا بہت ہے
خوشی ہے ترا آئینہ بن گیا ہوں
یہی اک مسرّت خدارا بہت ہے
نکلتے ہوئے گھر سے صدقے دیا کر
زمیں پر مرا چاند پیارا بہت ہے
سنبھالے رکھو اپنے چہرے سے زُلفیں
مجھے دامِ کاکل نے مارا بہت ہے
ہو ایسا کہ ہر شام دیکھوں تجھے میں
حسیں آنکھ کا بھی خمارا بہت ہے
ذرا پاس آؤ کریں کام پہلا
بریں زخم دل کا کہ کھارا بہت ہے
میں شاداںؔ بھی ہوں اور زخموں کا گھر بھی
شروع میں محبت نے مارا بہت ہے

شاداںؔ رفیق
بلکوٹ اُوڑی بارہمولہ
موبائل نمبر؛8491982514

یہ میری خاموشی یہ میرے صبر كا امتحاں ہے
تیری حرارت سدا رہے گی یہ تیرا وہم وگماں ہے
یہ پابندِ سلاسل کوچے یہ اونچی دیواریں، کیا ہے
میرے لئے تو بنایا گیا ہے یہ سارا جہاں ہے
اس دل کا حال مجھ سے کیا پوچھتے ہو
میرا حال تو میرے چہرے پہ عیاں ہے
ہم اپنی وقعت کو کھو رہے ہیں یہاں
اور غفلت میں سویا ہوا ہمارا ہی جواں ہے
برسوں پہلے تیری بے وفائی کا تیر جو لگا
آج بھی اُس زخم سے میرے خوں رواں ہے
تیری بے وفائی کے قصے میرے سینے میں قید ہیں
گواہی کے لیے میرے پاس سارا آسماں ہے
میں تیرے اشاروں کو بھی قبول کر لیتا
مگر تیرا دل کہاں میرا دیواں ہے
یہ دل کس ہیبت میں جی رہا ہے راشد ؔ
جیسے یہاں کوئی کربلا کا میدان ہے

راشد اشرف
کرالہ پورہ سرینگر،
موبائل نمبر؛9622667105

تو بھی ناراض ہے میں بھی خاموش ہوں
میرے ساتھ جیسے تیری کوئی لڑائی ہے

یاد ہے وہ دن یا بھول گئی ہو
’’میں دیکھتا ہوں اور تو شرمائی ہے‘‘

تم کو دیکھتے ہی مجھ کو تم سے الفت ہوئی ہے
یا تیری خوشبو ہے جو مجھ کو تیرے پاس لائی ہے

دو پل کی تھی تیری اور میری ملاقات
جب کہ تیری یاد نے میری نیند اڑائی ہے

میرے دل میں تیری یاد رہے گی تا عُمر
خوشبو تیری مجھ کو آئی ہر جائی ہے

دل کی تسلی کے لیے آہ جا رو برو میرے
تیری دوری نے مجھ پہ قیامت لائی ہے

کیسر خان قیسؔ
تنگواري بالاضلع بارہ مولہ
موبائل نمبر؛ 6006242157