زبان بند آنکھوں میں دریا رواں سا
بہت اَن کہا بھی ہوا یوں بیاں سا
اُدھر شوق کی رہنمائی غضب کی
اِدھر کھنڈروں میں بھی اُٹھتا دھواں سا
مجھے مجھ سے چھینو تو مانوں شرارہ
ترے نام میں ہے کتابی نشاں سا
جسے ڈھونڈتی ہے نگاہ منظروں میں
یقینا ًہے مجھ میں ہی لیکن نہاں سا
چلو پوچھ لیتے ہیں پانی سے مہدیؔ
گیا کس طرف ناو والا جواں سا
مشتاق مہدی
مدینہ کالونی، ملہ باغ حضرتبل سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9419072053
رکھا تھا سونا گھر پختہ نہیں تھا
وہ ساری زندگی سویا نہیں تھا
کسی نے پھول کو سمجھا نہیں تھا
فقط پانی کا یہ پیاسا نہیں تھا
اسی کے نیچے بیٹھا تھا یہ مالی
ابھی جس پیڑ کا سایہ نہیں تھا
کھلونے بیچتے میں روتی تھی وہ
کہ اس پر خود کوئی بچہ نہیں تھا
جہاں تک آیا وہ سایوں کے پیچھے
وہاں تک پہلے وہ آیا نہیں تھا
مجھے سامان تو واپس ملا پر
یہ اتنا اور یہ ویسا نہیں تھا
بہت سے جوڑ اس میں بھی دکھے اب
جسے میں سمجھا وہ ٹوٹا نہیں تھا
غلط مورت وہ مجھ سے بن گئی تھی
اسے میں نے مگر توڑا نہیں تھا
چھپا کر رکھ دیا تھا ایک گہنا
اسے میں نے کبھی پہنا نہیں تھا
کسی کے سارے پتے ہی تھے سوکھے
دھواں جلنے پہ بھی اٹھتا نہیں تھا
کسی کی موت پر رویا نہیں وہ
مگر وہ پھر کبھی ہنستا نہیں تھا
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
عیش و آرام سے بھر لینے کو آنگن اپنا
رب سے کیا مانگ لوں ماں پھر سے وہ بچپن اپنا
خاک نے اوڑھ لیا ہاتھ کی عظمت کا وقار
ذائقہ لائے ہیں پھر چاک کے برتن اپنا
جو روایت سے تعلق ہے وہ ٹوٹے گا نہیں
ہم بدل سکتے نہیں پیاس، کبھی فن اپنا
فکروں اندیشوں سے آزاد طرب میں ڈوبا
چھوڑ آئے کہاں ہم لوگ لڑکپن اپنا
مرگ اور زیست کا ہے دل پہ ہی جب دار و مدار
مارتا ہے تو انا کے لئے کیوں من اپنا
جس کی آواز مرے کانوں میں رس گھولتی تھی
تو گنوا آیا کہاں ہاتھوں کا کنگن اپنا
اب مرا جسم مری ذات کہاں باقی بچی
کر دیا نام ترے جب یہ سرو تن اپنا
ذکی طارق بارہ بنکوی
ایڈیٹر ہفت روزہ صدائے بسمل
سعادتگنج، بارہ بنکی، اترپردیش،
جان و تن میں اَگن لگی ہوگی
آنکھ بہتی ہوئی ندی ہوگی
یاد اس کی مچل رہی ہوگی
شبِ فرقت یوں ہی کٹی ہوگی
جب شناسا بھی اجنبی سا لگے
کس قیامت کی وہ گھڑی ہوگی
میرے محسن نے دے کے دکھ یہ کہا
اب نہ تجھ کو کوئی کمی ہوگی
چاہنا، اور تمھیں نبھانا بھی؟
عہدِ رفتہ کی عاشقی ہوگی
پہلےپانےسے،اورکھونے کے بعد
اے جبیںؔ شئے وہ قیمتی ہوگی
جبیںؔ نازاں
لکشمی نگر ، نئی دہلی
دار پر چڑھ کے حق بیانی کی
پُر خطر اپنی زندگانی کی
آج در در بھٹک رہا ہے وہ
جس نے باطل کی ترجمانی کی
ایسے لوگوں سے دور ہی رہیے
جن کی فطرت ہے بد زبانی کی
ظلم ڈھائے ہیں جس نے روز وشب
ہم نے اُس پر بھی مہربانی کی
لوٹ کر پھر کبھی نہ آئے گی
قدر احسنؔ کرو جوانی کی
افتخار حسین احسن
بانکا بہار بھارت
دل پہ آخر یہ وار، کس نے کیا ؟
مجھ کو پھر بے قرار، کس نے کیا ؟
رات پتھر کی ہو گئی تھی مگر
اشک کو آبشار، کس نے کیا
میں تو خود سے بھی بات کرتا نہ تھا
مجھ کو پھر راز دار، کس نے کیا
میں نے چاہا تھا بھول جاؤں اُسے
دل مگر سوگوار، کس نے کیا
ایک ٹوٹا سا خواب تھا دل میں
اتنا پھر تابدار، کس نے کیا
اب بھی سینے میں درد زندہ ہے
یہ چراغ استوار، کس نے کیا
دل نے خود بھی نہ دی صدا، سبّدرؔ
پھر اسے ہم کنار، کس نے کیا
سَبدر شبیر
اوٹو اہربل ، اننت ناگ، کشمیر
[email protected]
نکتہ چیں حسرتوں کا تیری تمـاشا بنادیتے ہیں
تیرا بن کے تیرے دکھ کی ہنسی اُڑا دیتےہیں
تم بھی خاموش اپنے مصائب کو چھپانا سیکھو
بات پھر بھـی کبھی اتفاقاً سنا دیتےہیں
جو نہ ہو تجھ سے مداوا تو مسیحا نہ بنو
پھول کی بات تو کرتےہیں کانٹے بھی بچھادیتے ہیں
وہ تو رسمِ اُلفت کو جتا کر دکھادیتے ہیں
اور نبھانے کے ہنر سے طعنے بھی دیا دیتےہیں
لائق ہمراز نہ ملے کوئی تو کیا دے جائیگا
بات اُن پہ آ جائے تو دغا دیتےہیں
ہم خلش سے کہاں بات کرتےہیں کوئی
ہنس ہنس کے ہی ہم اپنے زخم چھپا دیتےہیں
کوئی ہمدم نہ کوئی ہمراز سنو تم عذراؔ
دیکھ کیسے خونَ باراں آنکھوں میـں رُکا دیتےہیں
عذرا غنی
آسنور کولگام ، کشمیر
ہمیں گزرے زمانے سے نہیں ہے سروکار اب
یہی اک لمحہ اپنا ہے، اسی پر ہے قرار اب
لئے ریوڈ گلہ بان سب رواں سوئے بناں ہیں
مرا دل یوں پھرے کیوں وہ نہ پائے کچھ قرار اب
مرے دل میں بجز تیرے نہیں آیا کبھی کچھ
ترے آنے سے آئی ہے مرے دل میں بہار اب
مربّی ہستیاں تھیں وہ ہمیں جن نے سنبھالا
مگر کیوں اُن ہی ہاتھوں میں نہیں کچھ اعتبار اب
بچھڑ تجھ سے بہت رویا دل ناشاد، صورتؔ
ملوں گی نہ کبھی یوں پھر کہے جاتی بہار اَب
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
رنگ بدلے گا پھر دیار کا موسم
آیا گیا چمن میں ہے بہار کا موسم
پھول اُلفت کے پھر مسکرائینگے
رنگ لائے گا پھر پیار کا موسم
دی ہے دستک آسانی کی ہواوں نے
پھر اختتام ہو جائے گا دشوار کا موسم
محبت کے گلوں پہ چھائی ہے شبنم
ختم ہو گیا اب انتظار کا موسم
بدلا رُخ ہے ہواؤں نے دیکھو
قادری میں پھر ہوگا اُس تاجدار کا موسم
فاروق احمد قادری
کوٹی ڈوڈہ، جموں