اک مدت آنا جانا چھوڑ دیا
اُس نے رشتوں کو اپنانا چھوڑ دیا
نہیں رہی اب اُس میں کشش وہ پہلی سی
اُس نے جب سے ہے شرمانا چھوڑ دیا
اُس کے بگڑتے ہوئے سے تیور لگتے ہیں
جب سے اُس نے گلے لگانا چھوڑ دیا
ہم بھی خاموشی سے گزر جاتے ہیں اکثر
اُس نے جب سے نظریں ملانا چھوڑ دیا
ماضی میں ہم پر ہے جو کچھ بھی گزرا
ہم نے اُن پر آنسو بہانا چھوڑ دیا
اپنے جھوٹے وعدوں سے پہلے کی طرح
اُس نے میرے دِل کو لبھانا چھوڑ دیا
اب اپنے بھی مذاق اُڑاتے رہتے ہیں
ہم نے دل کا حال سنانا چھوڑ دیا
پلٹ کے اب وہ نہیں آسکتا ہتاشؔ
ہم نے ہے جو پیچھے زمانہ چھوڑ دیا
پیارے ہتاش
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
حسنِ قدرت کا حسیں ردعمل لگتا ہے
ہو بہو چاند کا وہ شخص بدل لگتا ہے
چاندنی رات میں جب چھت پہ وہ آتا ہے نظر
اس کا چاندی سا بدن تاج محل لگتا ہے
مسکراتا ہے کسی بات پہ وہ جب یارو
جھیل میں کِھلتا ہوا ایک کنول لگتا ہے
کیوں نہ حسرت بھری نظروں سے میں دیکھوں اُسکو
تپتے صحرا میں جو بہتا ہوا جل لگتا ہے
گویا جنت کی بہاریں سمٹ آئیں ہوں تمام
کتنا پر کیف ترے قرب کا پَل لگتا ہے
سینچنا پڑتا ہے سو بار لہو سے پہلے
تب کہیں جاکے کسی پیڑ پہ پھل لگتا ہے
اپنے اشعار اسے کیسے سناؤں اے رفیق
وہ تو خود میر کی رنگین غزل لگتا ہے
رفیق عثمانی
سابق آفس سپرانٹنڈنٹ
BSNL آکولہ مہاراشٹر
آتے جاتے درد سنانا پڑتا ہے
دل میں غم کا دیپ جلانا پڑتا ہے
جن سے دل کے رشتے گہرے ہوتے ہیں
اُن کو ہر دم خود ہی منانا پڑتا ہے
جینا ہے جو چین سے ہم کو دنیا میں
دشمن کو بھی دوست بنانا پڑتا ہے
اہلِ ثروت عیش میں جب پڑ جاتے ہیں
ماں کو پتھر روز پکانا پڑتا ہے
کس نے کہا یہ فن غزلوں کا آساں ہے
خون جگر کا خوب جلانا پڑتا ہے
جب آتا ہے کوئی شکاری جنگل میں
پنچھی کو چپکے سے اُڑانا پڑتا ہے
جیسے جیسے بچے بڑھنے لگتے ہیں
اپنی ہر خواہش کو دبانا پڑتا ہے
دھوپ میں چھاؤں لکھ دینے سے کیا حاصل
“بیٹا پہلے پیڑ لگانا پڑتا ہے”
کم ظرفوں کو عالم ؔ جا کر سمجھا دو
ہر اک رشتہ دل سے نبھانا پڑتا ہے
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک
موبائل نمبر؛8105493349
یہ کون آگیا آسمان سے اُتر کے
جو چلتا ہے لیکر خزانے ہنر کے
مبارک ہو عیدالضحیٰ سب کو لیکن
مناؤ محبت کی رہ سے گزر کے
تمہیں حق اگر دیکھنے کی ہے چاہت
تصوف کی راہوں سے دیکھو گزر کے
تمنا ہے مٹنے کی تو مٹئیے لیکن
رہے یاد ہاتھوں میں ہیں آپ شر کے
مسافر کرو دھوپ میں بھی سفر تم
یوں بیٹھو گے سائے میں کب تک شجر کے
کبھی مت ڈراؤ کسی کو تم اتنا
کہ ہوجائے وہ دور تم سے بھی ڈر کے
تھا وہ اک زمانہ جو ہاتھوں سے پھسلا
نکلتا تھا جب گھر سے میں بھی سنور کے
محمد فاروق گیاوی کلال
ضلع گیا بہار
موبائل نمبر؛9905021495
اپنے اشکوں کو مٹاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ساری محفل کو ہنساتے ہوئے مر جاتے ہیں
بعد میرے نہ انہیں کوئی چُرائے مجھ سے
ان کو سینے سے لگاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عشق کے گھاؤ پہ پردہ ہی رہا ہے اب تک
اپنے ناسور چُھپاتے ہوئے مر جاتے ہیں
خوف ِمقتل ہے جنہیں رات میں چلے جائیں
ہم چراغوں کو بجھاتے ہوئے مرجاتے ہیں
پھر سے اک بار ہو کوشش کہ آئیے موسٰی
رُخ سے پردے کو ہٹاتے ہوئےمر جاتے ہیں
قوم ِ شبیر سے ہیں۔۔۔ ہم نہ جھکائے گردن
سر کو سجدے میں کٹاتے ہوئے مر جاتے ہیں
بوڑھے ماں باپ کا شور غنیمت ہے فلک ؔ
پھر یہ خاموشی سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
فلک ریاض
حسینی کالونی چھترگام کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109
یہ مہکتی ہوئی کیا بادِ صبا بول رہی ہے
کہ یہ مسجد کے میناروں سے صدا بول رہی ہے
کبھی پونچھے ہونگے تو نے ،کسی مجبور کے آنسو
تیرے ہاتھوں کی یہ خوشبو بخدا بول رہی ہے
میری حرمت کو سمجھ ،اے نئی نسل کی بیٹی
جو گَلے تیرے سے لِپٹی ہے رِدا بول رہی ہے
تیرے لہجے میں ہے پنہاں، تیری تہذیب کا زیور
تیری ہر بات ہی صحبت کا پتا بول رہی ہے
اے ضیاؔء تو ہی سمجھ لے لبِ خاموش کا مطلب
نہ مکرنے کا اشارہ ، نہ وفا بول رہی ہے
امتیاز احمد ضیاؔء
پونچھ، جموں
موبائل نمبر؛9697618435
کس سے دل کا حال چھپائے کس سے پھر اظہار کرے
کس کو چھوڑے شاخ پہ تنہا کس گل کو گلزار کرے
اپنی انا تو جان کنی ہے پتھر پوجے جاتے ہیں
اس کی طلب گر میں ہی نہیں تو خواہش کیوں بے کار کرے
ہم کو تڑپ سے یہ مطلب ہے ہم کو سکوں کچھ راس نہیں
ایک خلش سے کیا ہوتا ہے تیر جگر کے پار کرے
اپنی بھی تو اس محفل میں شان کوئی ہے جان کوئی
رسوا مرے غم کو ساقیؔ اللہ نہ کرے غم خوار کرے
عشق وہ اس کا ہم میں اکثر شور مچائے پھرتا ہے
خود بھی جاگے رات کو ساقیؔ ہم کو بھی بیدار کرے
ساقی اعجاز
موبائل نمبر؛6005500468
شعلوں کو کیونکر ہوائیں دیتی ہیں
خواہشیں دل کو صدائیں دیتی ہیں
رات کے سائے ڈرانے لگتے جب
چاندنی راتیں دعائیں دیتی ہیں
ہے خموشی بھی یاں سناٹا بھی یاں
روحیں پھر کس کو صدائیں دیتی ہیں
چاند کی بھی چاندنی اس رات میں
اک ادا ، اُف سو بَلاہیں دیتی ہیں
اتنے خنجر ہیں چھپائے لفظوں میں
مسکانیں بھی سزائیں دیتی ہیں
دھوپ شدت کی ہو تو پھر قدرت
ہوا بارشیں،اولے، گھٹائیں دیتی ہیں
رُخسانہ پروین
باغات برزلہ، سرینگر ، کشمیر
غبارِ ہجر سے دل کا عجب حساب ہوا ہے
فریبِ عہد کا ہر خواب بھی سراب ہوا ہے
شرارِ عشق سے سینچا تھا جس چمن کو
وہی گلستان کسی اور پہ شاداب ہوا ہے
سرودِ شوق کی تحریر مٹ گئی لیکن
دل کا نگر ابھی درد سے سیراب ہوا ہے
کبھی آنکھیں خوابوں سے پُر رہا کرتی تھیں
اب ہر اک خواب یہاں حسرتِ نایاب ہوا ہے
غمِ ہجراں نے سنبھالا ہے مری روح کا شہر
وگرنہ ہر نقشِ تمنا بھی عذاب ہوا ہے
دلِ با ضبط کو اب نہ طلب ہے تیری
ہر اک خوابِ محبت بھی بے نقاب ہوا ہے
صائمہ یہ داغِ تمنا ہے سرمایہ تیرا
کہ زخمِ دل سے سخن بھی لاجواب ہوا ہے
صائمہ مقبول
کپوارہ، کشمیر
ایسا نہیں کہ سایہ کئے آسماں نہ تھا
لیکن یہ ہے کہ جب کوئی سورج عیاںنہ تھا
پرچھائیاں سی آنکھ مچولی میں محو تھیں
حالانکہ دور تک کہیں جنگل وہاں نہ تھا
مجبور ہو کے تاپ سے رشتے بڑھا لئے
اس قرب میں تو وصل کا کوئی بیاں نہ تھا
جلتے گئے تپش میں دریچے وجود کے
اس دشتِ زیست کا تو کہیں سائباں نہ تھا
اک چاند کے ظہور کی اُمّید جگا کئے
شب ہی چلی اماوسی جس کا گماں نہ تھا
چاروں طرف نگاہ میں تاریکیاں لئے
تا حد نظر تاباں کوئی بھی نشاں نہ تھا
ہاتھوں کی ان لکیروں کو کُھرچے تو کیا کئے
سچ پوچھئے نصیب ہی کچھ مہرباں نہ تھا
تھے کن کو عدنؔ چیختے چلّاتے پھر رہے
انجام کار آسرا ہی درمیاںنہ تھا
فردوس تسلیم عدؔن
باغ مہتاب،سرینگر ، کشمیر