غزلیات

وقت مُشکل ہو کہ آسان گُزر جائے گا
تُو بھی اک دن اِسی مٹی میں اُتر جائے گا
پھر اُگے گا نیا سورج نئی اُمید کے ساتھ
پھر کسی شام کی دہلیز پہ مر جائے گا
ایک دریا مری آنکھوں سے جو نکلا ہے ابھی
جب سمندر سے ملے گا تو ٹھہر جائے گا
لوٹ آتے ہیں پرندے بھی گھروں کو اکثر
وہ بھی اب عالمِ بالا سے اُتر جائے گا
جسم مٹی کے مجسمے کے سوا کچھ بھی نہیں
ایک ٹھوکر جو لگے گی تو بکھر جائے گا
میں نے اُمیدِ رہائی نہیں باندھی جاویدؔ
میرا محسن سرِ اجلاس مُکر جائے گا
 
سردارجاویدؔخان
مینڈھر پونچھ
موبائل نمبر؛ 9419175198
 
 
 
غزل
سخن سخن کو گُلِ تر بنا کے بیٹھے ہیں 
کلامِ یار سے خوشبو چُرا کے بیٹھے ہیں 
 
نگاہِ ' بزم میں جو سر جھکا کے بیٹھے ہیں 
دریچہ آنکھ کا لیکن کُھلا کے بیٹھے ہیں 
 
چراغِ حسن سے آنکھیں جلا کے بیٹھے ہیں 
دیارِ خواب کی کھڑکی کُھلا کے بیٹھے ہیں 
 
دعاء دعاء کو لبوں پر سجا کے بیٹھے ہیں 
چراغِ صبر ہوا میں جلا کے بیٹھے ہیں 
 
گزر گئے ہیں یہاں سے جو لوگ غافل تھے 
کہ منزلوں کے نشاں بھی مٹا کے بیٹھے ہیں 
 
جو لوگ چاند کو تکتے ہوئے اُداس ہوئے 
جگر کا داغ بھی لیکن مِٹا کے بیٹھے ہیں 
 
وہی ہے ہجر کا موسم وہی ہے وصل کی رُت 
چمن چمن گُلِ تر رنگ اُڑا کے بیٹھے ہیں 
 
اشرف عادل ؔ
الٰہی باغ سرینگر 
موبائل نمبر؛7780806455
 
 
غربت میں یار لوگ بھی ملنے نہیں آتے
پھل پیڑ پر نہ ہوں تو پرندے نہیں آتے
 
بیٹی کے ہاتھ کس طرح پیلے کرے غریب
مفلس کی بیٹیوں کو  تو رشتے نہیں آتے
 
رہتے ہیں روز و شب وہ کمائی کی فکر میں
اب تتلیوں سے کھیلنے بچے نہیں آتے
 
احباب ہو چکے ہیں مرے کتنے بد گماں
اب تو وہ روزِ عید بھی ملنے نہیں آتے
 
آتے تو ہیں وہ اب بھی ملاقات کو رفیقؔ
آتے تھے پہلے جس طرح ویسے نہیں آتے
 
رفیق عثمانی
 آکولہ ( مہاراشٹر )
 
کریں گے گفتگو شیرین ذرا ٹھرو 
زُباں ہو اپنی یوں رنگین ذرا ٹھرو
 
خوشی سے جھوم اٹھنا ہے تو آجائو 
سجی محفل نہ ہو غمگین ذرا ٹھرو 
 
تبسم ہو، ہنسی ہو اور ہو مسکان 
نکھاریں گے یہی دو تین ذرا ٹھرو 
 
توّکل ہو خدا  پر ہی جہاں اس کے 
ورد ہو سورة یاسین ذرا ٹھرو 
 
میں زاہد ؔ مسکرانے میں پہل کرلوں 
دُعا مانگی کہو آمین ذرا ٹھرو
 
زاہدؔ جمال بانڈے پوشونی 
زچلڈارہ پوشون راجوار ہندوارہ کشمیر 
موبائل نمبر؛7006560689
 
 
نہ کر غم! لوگ جو نفرت کے شرارے بانٹ لیتے ہیں 
ہیں  اب بھی چند ،محبت کے مینارے بانٹ لیتے ہیں
بچھڑتے ہی ہماری زندگی تاریک نہ ہو جاناں!
سنو!یادوں کے ہم جگنو ستارے بانٹ لیتے ہیں
کہا تھا اس نے میں  دیکھوں چمن تم دیکھوویرانہ
برابر ہم یہ قدرت کے  نظارے بانٹ لیتے ہیں
سنا  ہے ہر ملن کے بعد ہوتی ہے جدائی بھی
امیدوں کے ہم سارے اشارے  بانٹ لیتے ہیں    
یہاں تقسیم کی تہذیب دیکھیں گے جنابِ من !؟
سبھی مرحوم کی خاطر سپارے بانٹ لیتے ہیں 
جہاں میں ایسا بھی ہوتا فراخِ دل جو کہتا یہ
تری قسمت کے ہم سارے خسارے بانٹ لیتے ہیں
کہاں مجھ سے چھپا رکھی ہے دولت گراں اپنی
قسم ہے ڈھونڈ کر سب، غم تمہارے بانٹ لیتے ہیں
 
جبیں نازاں
لکشمی نگر، نئی دہلی،<[email protected]
 
 
چراغو ںکو جلائوں میں اجازت ہے 
ہواوں کو بتائوں میں اجازت ہے 
بجھائے پیاس میری یہ سمندر کیا 
سرابوں کو سنادو ں میں اجازت ہے 
ہر ایک تتلی مجھے کتنا ستاتی ہے
پروں کو اب ہلاوںمیں اجازت ہے 
جنہیں تو نے کبھی چھینا تھا مجھ سے سُن
وہ لمحے اب گزاروں میں اجازت ہے 
چھپائوں کس طرح چہرہ وفائوں کا
حجابوں کو ہٹا ئوں میں اجازت ہے 
ہمارے زخم ہنستے ہیں ذرا سمجھو
دلِ ویراں دکھائوں میں اجازت ہے 
 
یاسمینہ اقبال
شوپیان، کشمیر
 
 
بچھڑنے کی رسم بھی ہم نے خوب نبھائی ہے
جب بہائی ہے تو اکیلے میں یہ آنکھ بہائی ہے
تیری یادوں سے میں چن کر اک یاد دیکھو
میں نے ہر شام تیری یاد سے سجائی ہے
تم کبھی آکے ان کی بھی زبانی سن لو
میں نے ساحل کو سمندر کو جو سنائی ہے
کئی افسانے سمندر میں بہائے میں نے
میں نے لکھ لکھ کے کئی غزلیں جلائی ہیں
تم تو رہتے ہو ہمیشہ ہی پہلو میں مرے
میری تو کب کی ہوئی خود سے جدائی ہے
اب قلم بھی میرا لکھنے سے جھجکتا ہے
اب کہاں پہلی سی وہ لب کُشائی ہے
میں نے کرلی ہے محبت جو خلشؔ اُن سے
مان لے، خوامخواہ، یہ جان پھنسائی ہے
 
خلشؔ
لارم اسلام آباد کشمیر
 
 
دل کو سکون سا آنے لگا ہے
خوشیاں اب برسانے لگا
خوبیٔ دنیا کا ہر منظر
مجھ کو کیوں بہکانے لگا ہے
خود پہ بھروسہ ختم ہوا گَر
پھر کیوں تُو اِترانے لگا ہے
عمر گزاری نیند میں ساری
اب کیوں خود کو جگانے لگا ہے
خالقِ کُل پہ یقین جب آیا
جو کھویا تھا پانے لگا ہے
رکھ معراجؔ اِسے تو دل میں
کیسے سکوں کو بڑھانے لگا ہے!
 
معراجؔنذیر ڈار
طالم علم، جماعت 9ویں 
ریشی پورہ زینہ پورہ شوپیان
موبائل نمبر؛9622484053