بزرگوںکیلئے محبت، احترام، شمولیت اور اپنائیت کا احساس صحت کیلئے اتنا ہی اہم ہے جتنی کوئی دوا یا نسخہ!
طبی آگہی
ڈاکٹر زبیر سلیم
چند روز قبل ایک 82سالہ بزرگ اپنی بیٹی کے ہمراہ مول موج ہیلتھ سینٹرآئے۔ انہیں سانس پھولنے، نیند کی خرابی، کمزوری، گھٹنوں کے درد، کبھی کبھار بھول جانے اور بھوک نہ لگنے کی شکایت تھی۔ جب میں نے ان کی طبی رپورٹس کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ وہ بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر)، ذیابیطس، دل کی بیماری، گٹھیا اور گردوں کی ابتدائی خرابی جیسے امراض میں مبتلا ہیں۔ وہ روزانہ نو مختلف ادویات استعمال کر رہے تھے۔واپس جاتے ہوئے انہوں نے ایک سادہ مگر گہرا سوال کیا”ڈاکٹر صاحب! کیا یہ ساری بیماریاں میرے بڑھاپے کی وجہ سے ہیںکیا؟‘‘۔
یہ سوال میرے ذہن میں نقش ہو گیا۔ بطور ماہرِ امراضِ بزرگاں (Geriatrician)، میں اکثر خاندانوں کو یاد دلاتا ہوں کہ بڑھاپا بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں۔ تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ انسان مختلف بیماریوں کا زیادہ شکار ہو جاتا ہے اور کئی امراض بیک وقت لاحق ہو سکتے ہیں۔ہندوستان میں بڑھتی عمر کی حقیقت ایسی ہے جس پر نہ صرف ڈاکٹروں اور پالیسی سازوں بلکہ خاندانوں اور پورے معاشرے کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے۔
ہندوستان میں بڑھاپا
آج ہندوستان کی آبادی کا 12فیصد سے زیادہ حصہ 60سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ سادہ الفاظ میں، ہر 100 ہندوستانیوں میں تقریباً 12 افراد بزرگ شہری ہیں۔بزرگوں میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے، اور بزرگ خواتین میں نصف سے زائد بیوہ ہیں، جس کے باعث وہ سماجی اور معاشی چیلنجوں کا زیادہ سامنا کرتی ہیں۔
دائمی بیماریوں کا بوجھ
بزرگوں میں سب سے عام صحت کا مسئلہ ہائی بلڈ پریشر ہے۔ 35سے 42فیصد بزرگ ہندوستانی بلند فشار خون میں مبتلا ہیں، اور اکثر انہیں اس کی کوئی واضح علامت محسوس نہیں ہوتی۔اس کے بعد ہڈیوں اور جوڑوں کی بیماریاں ہیں جو تقریباً ہر پانچ میں سے ایک بزرگ کو متاثر کرتی ہیں۔ ذیابیطس 19فیصد تک اور دائمی پھیپھڑوں کی بیماریاں تقریباً 10فیصد بزرگوں کو متاثر کرتی ہیں۔یہ بیماریاں رفتہ رفتہ نقل و حرکت، خودمختاری اور معیارِ زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔خطرناک بات یہ ہے کہ اکثر بزرگ خود کو کافی حد تک صحت مند محسوس کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ فالج، دل کا دورہ، ہڈی ٹوٹنے یا گردوں کی ناکامی جیسی سنگین پیچیدگیاں سامنے آ جائیں۔
جب بیماریاں اکٹھی آتی ہیں
عصرِ حاضر میں بڑھاپے کا ایک تشویشناک پہلو ملٹی موربیڈیٹی (Multimorbidity) ہے، یعنی ایک ہی فرد میں دو یا دو سے زیادہ دائمی بیماریوں کا موجود ہونا۔ہندوستان کے تقریباً ایک تہائی بزرگ متعدد بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ 75سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح بڑھ کر تقریباً 74فیصد ہو جاتی ہے۔عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے بزرگ بیک وقت ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، گٹھیا، گردوں کی بیماری، نیند کے مسائل، سماعت کی کمزوری اور بینائی کی خرابی کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ایک بیماری کا انتظام ہی مشکل ہوتا ہے، جبکہ کئی بیماریوں کو ایک ساتھ سنبھالنا مریض اور تیماردار دونوںکے لئے نہایت مشکل بن جاتا ہے۔
دل سب سے زیادہ متاثر ہونے والاعضو
قلبی امراض (Cardiovascular Diseases) بزرگوں کی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔دل کی بیماریاں اور فالج ہندوستان میں تقریباً 28فیصد اموات کا سبب بنتے ہیں۔ 45سال سے زائد عمر کے تقریباً 29فیصد افراد کسی نہ کسی قلبی بیماری کا شکار ہیں، اور 70سال کی عمر کے بعد اس کی شرح نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔بزرگوں میں دل کی بیماری کو خطرناک بنانے والی بات یہ ہے کہ اس کی علامات اکثر مختلف ہوتی ہیں۔ شدید سینے کے درد کے بجائے بزرگ افراد غیر معمولی تھکن، سانس پھولنے، بدہضمی جیسی کیفیت، چکر آنا، ذہنی الجھن، جسمانی سرگرمی میں کمی یا محض یہ احساس ظاہر کر سکتے ہیں کہ “کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا‘‘۔اکثر خاندان ان علامات کو بڑھاپے کا فطری حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کے باعث تشخیص اور علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
بہت زیادہ ادویات کا استعمال
جدید طب نے لوگوں کی عمر میں اضافہ کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک نیا چیلنج بھی پیدا ہوا ہے جسے پولی فارمیسی (Polypharmacy)کہا جاتا ہے۔تقریباً نصف بزرگ مریض روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ ادویات استعمال کرتے ہیں۔ خصوصی ہسپتالوں میں بعض بزرگ روزانہ دس یا اس سے زیادہ دوائیں لیتے ہیں، جسے ہائپر پولی فارمیسی کہا جاتا ہے۔اگرچہ ہر دوا ضروری ہو سکتی ہے، لیکن متعدد ادویات ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کر کے غیر متوقع مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ایک تہائی سے زیادہ بزرگ مریض ادویات کے مضر اثرات کا شکار ہوتے ہیں، جو گرنے، چکر آنے، ذہنی الجھن، کمزوری، بھوک میں کمی، نیند کی خرابی یا بار بار ہسپتال داخل ہونے کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔بزرگ افراد کو کبھی بھی خود علاج نہیں کرنا چاہئے، دوستوں کی دوائیں استعمال نہیں کرنی چاہئیں اور نہ ہی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند کرنی چاہئے۔ ادویات کا باقاعدہ جائزہ کئی پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے۔
انحصار کا چیلنج
بزرگوں کی صحت صرف بلڈ پریشر اور شوگر تک محدود نہیں۔65فیصد سے زیادہ بزرگ خواتین اور تقریباً ایک تہائی بزرگ مرد مالی طور پر دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔بہت سے بزرگ خاندان میں رہتے ہوئے بھی تنہائی، سماجی علیحدگی، نظراندازی اور جذباتی عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔بطور ڈاکٹر ہم اب بہتر طور پر سمجھتے ہیں کہ جذباتی تکلیف اکثر جسمانی بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ذہنی دباؤ، تنہائی، خاندانی تنازعات، بے توجہی اور مقصدِ حیات کا فقدان ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، نیند کے مسائل، قوتِ مدافعت اور مجموعی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
ہر بزرگ کو کیا کرنا چاہئے؟
اپنے اہم طبی اشاریے جانیں
باقاعدہ جانچ سنگین مسائل پیدا ہونے سے پہلے بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
بلڈ پریشر
مثالی طور پر 120/80ملی میٹر مرکری کے قریب ہونا چاہئے۔ زیادہ تر بزرگوں کو 140/90سے کم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے، الایہ کہ معالج کوئی اور ہدایت دے۔
خون میں شوگر (ذیابیطس کے مریض)
صحت مند بزرگ:
فاسٹنگ شوگر: 80 تا mg/dL130
کھانے کے دو گھنٹے بعد: 190 mg/dL سے کم
HbA1c : 7تا 7.5 فیصد
*کمزور بزرگ یا متعدد بیماریوں/ڈیمنشیا کے مریض
فاسٹنگ شوگر: 90 تا 150 mg/dL
کھانے کے بعد: 200 mg/dL تک
HbA1c : 7.5 تا 8.5 فیصد
شوگر کو حد سے زیادہ کم رکھنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ کم شوگر گرنے، ذہنی الجھن، ہڈی ٹوٹنے، ہسپتال میں داخلے اور حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتی ہے۔
کولیسٹرول
مجموعی کولیسٹرول: 200 mg/dL سے کم
LDL کولیسٹرول:
* صحت مند بزرگ: 100 mg/dL سے کم
ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کے مریض: 70 mg/dL سے کم
دل کی بیماری، فالج یا بائی پاس/انجیو پلاسٹی کروا چکے افراد:
50 mg/dL سے کم
HDL
مرد: 40 mg/dL سے زیادہ
خواتین: 50 mg/dL سے زیادہ
ٹرائی گلیسرائیڈز: 150 mg/dL سے کم
جسمانی وزن
BMI کو 18.5 سے 24.9 kg/m² کے درمیان رکھنے کی کوشش کریں۔ بزرگوں میں بلاوجہ وزن کم ہونا معمولی موٹاپے سے زیادہ تشویش کا باعث ہوتا ہے۔
گردوں کی صحت
سیرم کریاٹینن کو معمول کی حد میں اور eGFR کو ممکنہ طور پر 60 mL/min/1.73m² سے اوپر رکھنے کی کوشش کریں۔باقاعدہ طبی معائنہ اور بروقت علاج دل کے دورے، فالج، گردوں کی خرابی، معذوری اور خودمختاری کے خاتمے سے بچا سکتا ہے۔
روزانہ چہل قدمی کریں
چہلقدمی بڑھاپے کے اثرات کم کرنے کا ایک مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ روزانہ صرف 30منٹ پیدل چلنے سے دل کی صحت، نقل و حرکت، مزاج، توازن اور خودمختاری بہتر ہوتی ہے۔
صرف ذائقےکے لئے نہیں، طاقت کے لئے کھائیں
چینی، زیادہ نمک، پراسیس شدہ غذا اور سیر شدہ و ٹرانس چکنائی والی اشیاء کم استعمال کریں۔تازہ سبزیاں، پھل اور ثابت اناج زیادہ کھائیں جبکہ سفید چاول، میدے کی روٹیاں، بیکری مصنوعات اور میٹھے مشروبات کم استعمال کریں۔دالیں، دودھ سے بنی اشیاء، انڈے، مچھلی، سفید گوشت، کم چکنائی والا گوشت، خشک میوہ جات اور دیگر مناسب ذرائع سے پروٹین ضرور حاصل کریں۔مناسب پروٹین عضلات، طاقت، قوتِ مدافعت، نقل و حرکت اور خودمختاری برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور کمزوری و گرنے کے خطرات کو کم کرتا ہے۔
سماجی طور پر متحرک رہیں
بامقصد گفتگو، سماجی سرگرمیوں میں شرکت، مذہبی اجتماعات، رضاکارانہ خدمات اور خاندانی روابط ایسی مؤثر دوائیں ہیں جو کسی فارمیسی میں دستیاب نہیں ہوتیں۔
دماغ کو متحرک رکھیں
کتابیں پڑھیں، نئی مہارتیں سیکھیں، پہیلیاں حل کریں، لکھیں، دوسروں کو سکھائیں اور تجسس برقرار رکھیں۔ متحرک دماغ زیادہ وقار کے ساتھ بڑھاپے کا سفر طے کرتا ہے۔
ادویات کا باقاعدہ جائزہ لیں
اپنی تمام ادویات کی تازہ فہرست ساتھ رکھیں اور ہر ملاقات پر اپنے معالج سے اس پر بات کریں۔
نئی علامات کو کبھی نظر انداز نہ کریں
سانس پھولنا، سینے میں تکلیف، پیروں میں سوجن، بار بار گرنا، بلاوجہ وزن کم ہونا، یادداشت میں کمی، نیند کے مسائل یا مسلسل اداسی کو کبھی صرف “بڑھاپا” سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
خاندان: سب سے مؤثر دوا
کوئی بھی دوا ایک محبت کرنے والے خاندان کے شفابخش اثرات کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔جو بزرگ خود کو باعزت، شامل، سنا گیا اور محبوب محسوس کرتے ہیں، ان کی جسمانی صحت بہتر رہتی ہے، دائمی بیماریوں پر زیادہ قابو ہوتا ہے، ہسپتال میں داخلے کم ہوتے ہیں، یادداشت بہتر رہتی ہے اور معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے۔چند منٹ کی گفتگو، ایک ساتھ کھانا، جذباتی تعاون اور خاندانی فیصلوں میں شمولیت اکثر وہ نتائج دے سکتی ہے جو صرف ادویات سے حاصل نہیں ہوتے۔بہت سے بزرگوںکے لئے محبت، عزت اور اپنائیت کا احساس صحتکے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کوئی طبی نسخہ۔
حاصل کلام
جب ہم پالیسیوں، اعدادوشمار اور صحت کے نظام پر گفتگو کرتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ بڑھاپا دراصل ایک انسانی داستان ہے۔ہر نسخے کے پیچھے ایک ماں یا باپ ہوتا ہے، ہر تشخیص کے پیچھے قربانیوں سے بھری ایک پوری زندگی ہوتی ہے، اور ہر کمزور بزرگ وہ شخص ہے جس نے کبھی اپنے کندھوں پر پورا خاندان اٹھا رکھا تھا۔مول موج فاؤنڈیشن میں ہم اپنی استطاعت کے مطابق بزرگ شہریوںکے لئے مفت طبی کیمپ منعقد کرتے ہیں اور ایسے بزرگ افراد کی نشاندہی کرتے ہیں جو مالی مشکلات، بے توجہی، تنہائی یا دیگر مسائل کے باعث صحت کی سہولیات حاصل نہیں کر پاتے۔ایسے مستحق بزرگوں کو ایم ایم ایف کے لائف ٹائم پرولیج کارڈکے لئے زیر غور لایا جاتا ہے، جس کے تحت انہیں دائمی بیماریوںکے لئے مفت ماہانہ مشاورت، ضروری طبی ٹیسٹ اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔یہ خیرات نہیں بلکہ اس نسل کے لئے اجتماعی تشکر اور ذمہ داری کا اظہار ہے جس نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی خدمت اور نگہداشت میں گزاری۔جو معاشرہ اپنے بزرگوں کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، وہ صرف زندگی میں سالوں کا اضافہ نہیں کرتا بلکہ ان سالوں میں وقار، تحفظ، ہمدردی اور امید بھی شامل کرتا ہے۔