حضرت! ملک ِبے امان میں ہوں۔ سنگ با زولد جانباز ساکن مجاہد منزل کا مہمان ہوں۔ یہ پتھروں کا دیس ہے ، چٹانوں کا مسکن ہے، یہاں نہ آدمی کا کوئی بھروسہ نہ موسم کا کوئی ٹھکانہ۔ کب پسیاں گریں ، کب تودے لڑھک جائیں، کب شاہراہ بند ہو ، کب ہڑتال ہوجائے، کب شادی کے شادیانے ہوں ، کب جنازہ اُٹھے۔۔۔ کو ئی پیش بینی نہیں کی جاسکتی ۔اب دیکھئے نا گزشتہ دنوں چشم زدن میں موسم نامہربان ہوا، بارش موسلادھار ، برف لگاتار، ندی نالے مردُم آزار ہوئے۔۔۔ مطلب سیلابِ کشمیر نے دستک دی، تباہی کی گھنٹی سنائی ، عذابِ الہٰی کا بگل بجایا۔ ۔۔کیاپتہ کس کی دعائیں رنگ لائیں، کس کی آہیں کام کر گئیں ، دفعتاًقدرت کی نگاہ ِ کرم ہوئی، رحمت ِالہٰی بر جوش آئی، برف وباراں یک بیک رُک گیا، جہلم کا بہاؤتھم گیا، ڈل، ولر، ندی نالے کی بپھراہٹ قرار پاگئی ، بے ہنگم بہہ رہا سنگم ٹھہر گیا، عشم کا خشم کافور ہوا۔۔۔ بچ بچاکے سیلابِ نو کا خطرہ فی الحال ٹل گیا، آگے اللہ مالک۔ بندہ بے حدوحساب سہما سہما تھا یقین تھا ؎
اس کی اُمت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب ؔ گنبد ِبے در کھلا
سوچتا ہوں رحم کی یہ رم جھم، کرم کی یہ برسات ، احسان کی یہ مینہ نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ کشمیر ہوتا پانی پانی ، خلقِ خدا بنتی لامکانی،بستی بستی امڈ آتے غولِ آسمانی ، قریہ قریہ بجلی ہوتانہ پانی ،غریب رہتا بے دانہ و پانی ، امیر کو یاد آتی نانی ۔۔۔ اُدھر مصائب وآلام کے مہیب لمحات میں دروغ گویانِ ہندوستان سر پر آسمان اُٹھا کے پھنکارتے : دیکھا افواجِ ہند کتنی مہان ہیں ،دشمن پہ بھی مہربان ہیں، شترو پتھر ماریں، جوتے چلائیں، گالیاں دیں ، لٹھ لئے پیچھے پڑجائیں اوریہ باوردی شریف ابابیلیںانہیں ڈوب مر نے سے بچائیں ، ہیلی کواپٹر چلائیں ، بھلے ہی زائد المعیاد بسکٹ اور بیمار دوائیاں بانٹیں،خوراکیں پہنچائیں ۔۔۔۔ میں سن کر کیا کرتا؟ سر پکڑکے قومی ترانہ گنگنا تا ؎
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
قدرت کا کھیل دیکھئے سرکس شو ہو ا ہی نہیں، معا ملہ پانی کے اُتار چڑھاؤ پر ہی بس کر گیا۔ شکر اللہ کا بارشوں نے باذن اللہ غصہ تھوک دیا، برف کا چلہ کلانی غرورپگھل گیا، سیلاب کا موروثی انتقام چوپٹ ہوا، وگرنہ ہم سب اس وقت سر کے بل بلائے ناگہانی، آفت ِآسمانی کے سیلابی شکم میں غوطہ زن ہوتے ۔ اول اول گناہ گار بہت گھبرایا۔ اِدھر باران ِ قہر کا تسلسل ، اُدھر صاحبہ کی جنگی تیاریاں ، خلقِ خدا میں مایوسیاں ، صاحبان ِ جبہ ودستار کے فتویٰ ٔ توبہ و استغفار ۔ میرا ماتھا ٹھنکا، خوف نے بے چین رکھا ، ڈر نے نیندیںحرام کیں ، سیلابِ ماضی کی ہیبت ناکیوں نے سر چکرایا ، اندیشہ ہائے دور دراز نے گریبان پکڑا، خیالی پلاؤ اپنی طشتری تھماکر بولا : لو جی مرزا ! پہلے چھ ماہ تک ماہی ٔ بے آب بنے رہے،اب سیلابی کیلنڈر اگلے چھ ماہ رہی سہی کسر نکالے گا ، سارا کشمیر آب آب ہو گا ، خوردو کلاں کا کچومر نکلے گا، نہ رہے گی بانس نہ بجے گی بانسری ، درودیوار بھی تمہارا ساتھ نہ چھوڑیں تو کہنا۔۔۔ اندر کی یہ ساری کرخت آوازیں خانہ خراب کو ڈستی رہیں، مرتا کیا نہ کرتا، بھیگی بلی بنے اپنی ہی آوازوں کی ڈانٹ ڈپٹ سنتا رہا: بڑے آئے ہو لاٹ صاحب ! مت ماری تھی تیری جو فاروق اور مفتی کے انتخابی’’ بانڈہ پأتھر‘‘ جشن سے دل بہلانے زمین ِ کوتاہ بین چلے آئے؟ ناشری سرنگ کے میلے سے تمہارا کیا سروکار ؟ میں نے کہا :میری خیر خواہ آوازو! معاف کر ئیو، دوبارہ یہاں آنے سے سو بار توبہ ، کان پکڑتا ہوں ، کبھی ایسی غلطی کی تو جتنا چاہے مارئیو۔۔۔ انہی طفل تسلیوں سے خود کو دلاسہ دے رہاتھا کہ تیزبارشوں کا حشر حریت کیلنڈر جیسا ہوا ، یک بیک تھم گئیں ، آنکھ جھپکتے ہی مطلع صاف ہو ا، کھلی کھلی دھوپ کوہ ودمن ، دشت وبیابان، شہرو دیہات میں کالی گھٹاؤں کا بائیکاٹ کر گئی ، فضا بزبان حال کہہ گئی ع نہ گھبراؤ مسلمانو خدا کی شان باقی ہے ۔ متلون مزاج موسم کی انوکھی کایا پلٹ سے جان میں جان آگئی ، تب خم ٹھونک کر سیلابی اشکالات وشبہات کے مروڑوں کا مذاق اُڑایا ؎
تھی خبر کہ غالب ؔ کے اُڑیں گے پر زے
دیکھنے ہم بھی گئے پہ تماشہ نہ ہوا
بندے نے موسم کے وقتی عذاب سے پیچھا چھڑایا،ا ب انتخابی بخار سے مفت کا پالا پڑا۔ زعفرانی برہمن و یو گیوں کے قصیدہ خوان اپنے مفتیان ِکرام اورشیخانِ دہر میں انتخابی معرکہ کتنابا رنگ کتنابے رنگ رہا، اگلے ملاقات تک اخفائے حال بہتر ہے۔
بر خوردار! عاصی کے رُوبر دلی کے مہا گرو مودی کے ہاتھ ناشری سرنگ کا افتتاح ہوا۔ چشم بددور! سرنگ اچھی کاریگری کا عمدہ نمونہ ہے، بندۂ مزدور کا منہ بولتا کارنامہ ہے، دماغ نے منصوبہ سوچا ہے ، محنت نے خون پسینہ اکٹھا کیا ہے، خزانہ ٔعامرہ نے مال لٹایا ہے ، کاریگروں نے صلاحیتیں کھپا دی ہیں، تب جاکے ایک لمبی چوڑی سرنگ کا روپ دھارن ہوا ہے ۔ سرنگ بنانے میں کتنوں کو چوٹیں لگیں؟ کتنے زخمی ہوئے؟ کتنوں کے اپنے سپنے پتھروں کی تراش خراش ناش کر گئے؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں۔۔۔ اس پر گناہ گار کی تولہ برابر عقل ، ماشہ برابر جذبہ ٔانسانیت سوال جھاڑ گیا : چچا! سر نگ کا افتتاح اگر کسی بندہ ٔ مزدور سے کرایا جاتا تو کیا سیاست کی ناک کٹتی یا دُم؟ میں نے کہا: بٹوا ! رسم دنیا یہی ہے کہ شیش محلوں میں آرام سے رہنے والاکوئی سیاست دان افتتاح کے لئے آئے ، پھول مالائیں گلے ڈلوائے، ربن کاٹے ، تالیوں کی گونج میں کھو جائے، زندہ بادپائندہ باد کا لطف اٹھائے ، تقریر جھاڑے اور معاملہ گول کرجائے۔کلاکاری یہ دکھائے جیسے یہ سارا کارنامہ اُس کے اپنے پتا شری کی کمائی کا شاہ کار ہو، یہ اس کے زخم زخم شانوں کا یہ کمال ہو ، یہ اس کی اَن تھک مزدوری کا ثمرہ ہو ۔ سچ کہاہے اقبال نے ؎
سرما کی ہواؤں میں ہے عریاں بدن اس کا
دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کو دوشالہ
بر سر مطلب آمدم! سر نگ کا افتتاح قابل ِدید تھا یا نہیں، وہ سیاست کے متوالے ہی جانیں ۔۔۔مگر یہ قابل ِداد ضرور تھا ۔ البتہ میری آنکھ دُکھتی رہی کہ مودی قافلے میں اکیلی صا حبہ کباب میں ہڈی بنیں، شاہِ ِہند چھپن انچ چھاتی پھلائے بڑے تاؤ کھارہے تھے،کبھی گاڑی میں سوار کبھی پیدل مارچ۔ صا حبہ سب سے آگے نہیں سب کے پیچھے تھیں۔ مودی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ سچ مچ مابدولت اُدگھا ٹن کر رہا ہے، یا یہ کوئی سپنا ہے۔اُلٹا پلٹ زمانے کی گردش بھی دیکھومنموہن سنگھ نے سرنگ کا سنگ ِ بنیاد ڈالا ، مودی نے افتتاح کیا ، کیا معلوم آگے یوگی کا نام بھی اس کے اتہاس سے جڑ جائے۔ کہتے ہیں نو سرنگیں اور بننی ہیں ۔ شاہ ِ ہند نے پھر پنڈال سنبھالا ، مودی مودی مودی مودی کے شور میں بھائیو اور بہنو کہہ کر اپنی لچھے دارتقریر شروع کی، ڈائیلاگ بھی خوب مارے ، اپنی زعفرانی سوچ کے اوراق بھی بکھیر دئے ، واجپائی کی خیالی انسانیت ، جمہوریت ، کشمیر یت کے گن گان بھی کئے ۔ اسی بیچ انہیں دبے کچلے پھول چہرہ کشمیری نوجوان یادآئے ، اُن سے کیا کچھ کہا، وہ حافظے کی تختی پر تند لفظوں ترش معانیوں سمیت رقم کیا ہے۔ لب لباب یہی تھا:دوراستوں میں ایک راستہ چن لو،سیاحت یا دہشت۔۔۔؟ دونوں دلی سے حاضر خد مت ہوں گے ۔۔۔ ایک یہ پتھر ہیں کہ ان کو کاٹ کر سر نگ بنائی گئی جو کشمیر گھاٹی کو ہند سے جوڑتی ہے ،ایک تمہارا پتھر ہے جو امن وآشتی کو بھر شٹ کر رہاہے۔ اس سرنگ سے کسان کا پھل ، پھول ، میوہ دلی پہنچے گا ، اس کی محنت رائیگاں نہ ہوگی ، اس کی محنت کا صلہ سر نگ کی وجہ سے اُسے ملنا ہی ملنا ہے ۔ اسی سرنگ سے وشال دیش سے آنے والے سیاح گزر کر وارد ِ کشمیر ہو ں گے، تمہارے پتھر سے تمہیں وہی ملے گا جو آج تک دیا گیا۔۔۔۔ میں اسرائیلی میزائل کے زمانے میں مودی میڈ پتھر کا یہ نیا فلسفہ بغور سنتا رہا ، اپنا سر دُھنتارہا۔ خود کلامی میں بھی محو ہوا: مرزا!جان کی اَمان پائے تو کیاجوابی تقریر جھاڑوگے۔۔۔ اسی مشقِ لاحاصل میں لگ گیا، پھر دل و دماغ کی سرنگ میں یہ بک بک کر گیا : ظل ِالہٰی! میں ہوں دنیائے ناپائیدار کا شاعرِ وضع دار ، دلی کا نمک خوار، ملک ِ انسانیت کاشہر یار ، کمپنی بہادر کا پشتینی وفادار۔ سب سے پہلے سنگستانِ کشمیر کے شوریدہ ؔ کاشمیری کا یہ مر ثیہ پیش ہے، ملاحظہ فرمائیں ؎
گلستانِ کاشمر ہے ایک مدفن کی طر ح
بے زبان لاکھوں زبان والے ہیں سوسن کی طرح
جناب ِ من !ان لاکھوں بے زبانوں کو ایک باربہ ہوش وحواسِ خمسہ سننے کا کشٹ تو کیجئے، ان کا دُکھ درد کیا ہے، اس کو بھی تو ٹٹولئے، معصوم نوجوانوں کے ہاتھوں میں اپنے جسمانی وزن سے زیادہ وزنی پتھر کیا بولتے ہیں، دل کے کان کھول کر وہ بھی توجان جایئے۔ ۔۔عالم پناہ ! آپ کہتے ہیںیہ سرنگ سیلانیوں کے تفریح طبع اور تجارتی کاروانوں کی آمدورفت کے لئے چٹانیں کاٹ کاٹ کر بنائی گئی، خوب بہت خوب،ا للہ کرے ایسا ہی ہو ،لیکن کشمیر کا نو جوان بھی غلامی کی دیوار ِ چین کے پتھر توڑ توڑکر اس میں آزادی کا سوراخ بنانے میں مصروف ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسی سوراخ سے ہوکر کھلی فضا میں سانس لے ۔ اگر ناشری میں یہ پتھر کاٹنا جرم نہیں، اُس کاپتھر توڑنا کا ہے کا جرم ہوا ؟ اس مظلوم نوجوان کا گناہ کیا اگر وہ آٹھ لاکھ فوجی ، نیم فوجی دستوں اور پولیس نفری کے درمیان گھٹن محسوس کرتاہے؟ اپنے گھر کے چپے چپے پر اس کا پیچھابندوق ، پیلٹ اور بم کرے تو موت کا سایہ اُ سے کیوں بے چین نہ کر چھوڑے ؟ اس میں اس کا کیا دوش کیا قصور ؟ شب وروز شبہات والزامات کی بوچھاڑ ،کوتوالی کی ہتھکڑی ، نفرتیںاس کے تعاقب میںرہیں، کیوں ؟ دوسری ریاستوں میں ایسے مظالم ومصائب کے پہاڑ برسوں توڑیں جائیں تو کیا وہ مٹی کے مادھو بنے چین سے نچلے بیٹھیں گے ؟ ناشری سر نگ سے سیلانی شوق سے آئیں ، یاتری بھی آئیں، دل روشن چشم ماشاد ، یہ دنیا ایک کنبے میں سمٹ گئی ہے، ہم ایک دوسرے سے بچھڑ کر اطمینان سے جی نہیں سکتے۔۔۔ مگر کیا اسی شاہراہ سے فوج اور نیم فوجی قافلے نہیں گزرے ہیں؟ کیا آگے بھی نہ گزریں گے ؟ کیوں ؟ تاکہ کشمیر حل کا ہر امکان ظلم واستبداد کی بھٹی میں جل بھن کر معدوم ہو ؟ کیا افسپا اور دیگر تمام کالے قوانین کا پیٹ بھرنے کے لئے گولی باردو ، پیلٹ اور پاوا اسی سرنگ سے منگائے نہ جائیں گے؟ کیا اسی شاہراہ سے کشمیری طلبہ ، تاجرین ، ملازمین کی لاشیں گھر نہ بھیجی گئیں ؟ وائے حسرتا! مقبول اور افضل کی نعشوں کو اس شاہراہ سے وطن بھیجنے کی اجازت بھی نہ دی گئی ۔ بقول ناوکؔ حمزہ پوری ؎
وہی کشمیر ہے یہ ہم جسے کہتے تھے کل جنت
وہی فردوس اب کب وقف ِصدماتم نہیں ہوتا
شاہ ِ ہند! واللہ کشمیر جینا چاہتا ہے مگر آزاد وبے قید سانسوں کے ساتھ ، نفرت و عداوت کی تنگنائیوں سے پرے، وہ زندگی کی گرم جوشانہ دوڑ میں شامل ہو نا چاہتا ہے مگر محبت اور یقین کا سر اونچا کر کے ، اس سے عزت و آبرو سے جینے کی آزادی کیوں سلب کی گئی ؟ یہ بے لنگر جہاز کی مانند نہ کہیں ساحل پاتا ہے نہ طوفانوں سے نجات ، کس جرم کی پاداش میں۔ شاہِ ہند! اس کے درد کا علاج پیلٹ کی اَندھ کاری نہیں ، خون سے تر بہ تر معلوم و نامعلوم قبریں نہیں ، جیل اور زندان نہیں ، کردارکشیاں، منافرتیں، صبح ِ کربلا شام غریباں نہیں ،درد وکرب نہیں ۔ اسے شنوائی چا ہیے ، مر ہم چاہیے، دردِ دل کی دوائی چاہیے ۔ خدا را! اس کے سر پر وہ آدم خور سایسی تاجر مسلط نہ کیجئے جو اقتدار میں اُسے صرف مسل دیتے ہیں ، اقتدار سے باہر اُس سے جھوٹی ہمدردی جتلاکر اس کانام سنگ باز ولد جانباز رکھتے ہیں۔ اٹو نامی ، سلیف رول ، زخموں کا مرہم ، باعزت امن ، گولی نہیں بولی جیسے فریب بھی یہ بڑ بولے دیتے رہتے ہیں ۔ جناب ! یہ سیاسی گرگٹ ، مطلب کے یار ، جھوٹ کے پروانے ، عیاشیوں کے دلداے ہیں۔ ان کے بارے میں صدائے کشمیر یہ ہے ؎
کب موت کی دل لگی سے ڈرتا ہوں میں
محشر سے نہ زندگی سے ڈرتا ہوں میں
اغیار کی دشمنی سے ڈرتا کیسا!
احباب کی ’’ دوستی‘‘ سے ڈرتا ہوں میں
مہاراج!آپ کے پاس اٹل عزم، پختہ ارادہ ، دور اندیشی ، تدبر ،بصیرت ،انسانیت ،و کاس کا نقشہ ہے تو کشمیر میں آگے آیئے، اسی بلند حوصلگی کے ساتھ جیسے رام چند رجی نے راج گدی ٹھکرائی، ذاتی بلیدان دیا، فتنہ وفساد کا قلع قمع کیا، بن باس گئے ، چودہ سال دھیرج ، پریم ، شکتی اور مانوتا کے ساتھ انسانوں کو ہی نہیں بندروں تک کو مسخرکیا، راؤن جیسے گرانڈیل پہاڑوں کو پریم کی گرمی اور خلوص کی چاشنی سے ہرادیا ۔ ہاں ایسا رام بھگت بننے کے لئے بڑا کلیجہ چاہیے، اسی لئے کشمیر کا ہر پتھرآبادی کا ترانہ ہے ؎
انہی پتھروںپر چل کر آسکتے ہو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں
میں خرا ٹے لے لے کر اپنی خیالی تقریر کی نوک پلک ذہن کی تختی خیال کے صفحے پر دُرست ہی کر رہاتھا کہ ایک شریف پولیس والے نے جگایا: بڑے میاں! اس سرنگ میں کتنی دیر اور سوناہے ؟ گھر جایئے، جلسہ کب کا ختم ہوا۔ اوپر سے تیز بارش ہورہی ہے، پتھرائو کا خطرہ ہے۔۔۔ میں چونک پڑا ، آدھی تقریر پر اکتفا کیا ۔ کسی نامعلوم منزل کی جانب بوجھل قدم بڑھانے سے قبل بھلے مانس سے کہا: جناب کوتوال صاحب ! کیا آپ بتاسکتے ہیں میرا گھر سر نگ کے اندر ہے یا سر نگ کے باہر؟ اس نے کہا : یہاں ایک سرا دلی کی طرف کھلتا ہے، دوسرا کشمیر کی طرف، آپ کاگھر کہاں ہے ؟ میں نے بے ساختہ کہا: گھر کا پتہ تلاشنے ۔ کوتوال :نے کہا وہاں قطب شمالی ہے، یہاں قطب جنوبی ہے ،اِدھر ناگپورہے اُدھر شکار پور ہے ، دائیں افسپاپہ نگر ہے، بائیں قبر آباد ہے، سیدھے ہاتھ کنول شاہراہ ہے، الٹے ہاتھ قلم دوات ، ہل گلی ہے، پیچھے رنگِ سیاحت ہے، آگے جنگ مزاحمت ہے ۔ چچا ! آپ کو جانا کہاں؟
گھر کے پتے کا طالب
غالب