عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں–پونچھ قومی شاہراہ پر تعمیر کی گئی طویل عرصے سے منتظر سنگل ٹنل رواں ماہ کے آخر تک گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھولے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 600 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ اہم انفراسٹرکچر منصوبہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سنگل ٹنل کے فعال ہونے کے بعد جموں، راجوری اور پونچھ کے درمیان رابطے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس ٹنل کی بدولت سفر کا فاصلہ تقریباً 11 سے 12 کلومیٹر کم ہو جائے گا جبکہ مسافروں کو ایک محفوظ اور ہر موسم میں قابلِ استعمال متبادل راستہ بھی میسر آئے گا۔
یہ ٹنل موجودہ کالیدھار–چوکی چورا سڑک پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ مذکورہ سڑک طویل عرصے سے خستہ حالی اور تعمیراتی تاخیر کے باعث مسافروں کے لیے مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔
اگرچہ منصوبہ اپنی مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو سکا، تاہم متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ کام تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں اور جون کے اختتام تک ٹنل کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق سنگل ٹنل کو سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کے لیے ایک اہم ترقیاتی سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف آمدورفت میں سہولت پیدا ہوگی بلکہ مقامی معیشت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔