فہم و فراست
بشارت بشیرؔ
آج جب اسلامی دنیا سنت خلیلی ؑکی یاد تازہ کرنے اور اسوہ ٔ ابراہیمی ؑکی پیروی کرتے ہوئے مختلف جانوروں کی قربانی اس فکر کے ساتھ دے رہی ہے کہ دنیا کی ساری محبتوں کو قربان کرتے ہوئے اللہ کی محبت کا غلبہ ہی ہم پر شدید تر رہے گا۔ مال و دولت ِ دنیا اور رشتہ و پیوند کی اپنی اہمیت ضرور ہے لیکن ان سب کو اللہ کے حکم پر تج دینے کا وقت آجائے تو ایک لمحہ کی دیر بھی نہیں کریں گے یہی قربانی کی حکمت بھی ہے اور فلسفہ بھی اور اس کے ساتھ یہ بھی ملحوظ نگاہ رہے کہ یہ کام اخلاص سے سرشار ہو کر کیا جائے کہ اخلاص بھرا عمل ہی بار گاہ لم یزل میں شرف قبولیت پاتا ہے۔ ہاں قربانی کے اس عمل کے ساتھ ہی آج ہم اس بات کا بھی جائزہ لیں کہ کیا ہم اپنی انا اور ایگو (Ego)کو بھی قربان کرنے پر آمادہ ہیں تو اضع ،انکساری ، نرم خوئی اور خندہ روئی اسلام کی اساسی تعلیمات میں سے ہیں۔ تکبر شیوہ شیطانی ہے جو اس دام میں آگیا ہلاک ہو کے رہا۔ اگلی اقوام کو اس ایگو و انا و تکبر نے صفحہ ہستی سے مٹا کے رکھ دیا۔ انسان اپنی ابتداء و انتہا پر غور کرے تو حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی___ تکبر خالق کو زیب دیتا ہے اور انسان کو نہیں جوچند روزہ زندگی کے بعد پیوند خاک ہونے والا ہو ۔ پھر کیڑے مکوڑے اس کے بدن کو کھا جائیں اور کچھ ہی مدت بعد اپنے بے گانوں کے ذہن سے بھی اتر جائے ۔ بھلا جس مخلوق کی اصلیت یہ ہو وہ تکبر کرے تو اس کی ذہنی حالت مشکوک ہی قرار پائے گی۔ قرآن نے جگہ جگہ اس بدترین صفت پر ضرب کاری لگائی ہے کہا :’’کہ زمین میں اکڑ کے نہ چل کہ تو زمین کوپھاڑ تو نہیں ڈالے گا نہ پہاڑوں (کی اونچائی) تک پہنچ جائے گا۔ ‘‘[القرآن]
اس روگ کے مریض صرف کچھ ان پڑھ ہی نہیں ہوتے بلکہ بزعم خود بہت سارے اپنے کو دانشور و عالم لوگ سمجھنے والے بھی اس ہلاکت خیز بیماری کے شکار ہوتے ہیں،کچھ صاحبان جبہ و دستار کا بھی نفس پھولا ہواہوتا ہے، ان کے دل میں اسلام کا پیام تو اضع اتراہی نہیں ہوتا، خوداپنا فانی وجود بھی انہیں جھنجوڑ تانہیں کہ موذی بیماری کے شکار ہوچکے ہو۔یا درہے جس علم سے تکبر پیدا ہو وہ جہل ہے آگہی نہیں حقیقی علم سے اللہ تعالیٰ کا خوف وخشیت بڑھے گی ۔ قرآن نے تو کہا ہے:{ إِنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء} [فاطر:28]
مگر علماء کا لباس زیب تن کرنے پارسائی کا دعویٰ کرنے اور علمی سندات کی نمائش کرنے والے بہت سارے لوگ ایگو (Ego) کے اس قدر شکار ہیں کہ ان کی گفتارہی نہیں ان کی وضع قطع ،لباس ،چال ڈھال اور رفتار ان کی کج روی کا پتہ دیتی ہے، اللہ بچائے۔
بات یہاں سے شروع ہوتی تھی کہ قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت ہم اپنی انا کو بھی ذبح کریں ۔ آج یہ جو سارے کے سارے رشتے عدم توازن کے شکار ہیں ۔ خاندانی رشتوں میں جو توڑپھوڑہے، نزدیکی رشتے زوال پذیر ہیں۔ یہ سب انا کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔ دوستوں کے درمیان، میاں بیوی کے بیچ معرکہ انا برپا ہے ۔ عدالتوں میں برسوں سے ایک دوسرے پر قائم مقدمات اس انا کا برملا اظہار ہیں۔ افسر اور ماتحت اسی انا کے زیر اثر باہم نبرد آزما ہیں۔ باپ بیٹے سے دور، ماں بیٹی سے ناراض، چچا بھتیجے میں دوریاں، ساس بہو میں فاصلے،ہمسایوں کے بیچ ترک تعلق ، مسجد کے امام و مصلین کے درمیان رنجشیں، تاجروں اور دکانداروں کے مابین گفتگو بند، محض اس مرض ِانا کے شاخسانے ہیں۔ کچھ پیسے کیا ملے کاروبار میں تھوڑی سی کامیابی کا حصول کیاہوا۔ دماغ آسمانوں میں اڑنے لگتا ہے گھر میں کچھ الٹرا ماڈرن اور تاجر لوگوں کا آنا جانا شروع ہوا۔ تو بوڑھے والدین کو حجرہ بند کر دیتے ہیں کہ اب ہم سرمایہ داروں کی صف میں شامل ہیں اوروالدین کی سادگی کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں اور اپنے ملنے والوں کے سامنے انہیں والدین کہنے میں بھی شرم محسوس کرتے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ سلام کرنے میں بھی پہل نہیں کرتے کہ یہی انا (Ego) اس خیر کی دعا سے بھی روکتی ہے بڑے بڑے ’’علم والوں‘‘ کو بھی اس لت کا شکار دیکھا ہے ۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد شادی بیاہ میں بھی مدعوئین کو دعوت دیتے وقت وقت اور مدعو کے آتے وقت اسی مرض کے زیر اثر رہتی ہیں۔ اس معاملہ کا تکلیف دہ پہلوں یہ بھی ہے کہ ایک شخص بستر مرگ پر پڑا ہے لیکن اس کا بھائی اس کی تیمارداری کرنے سے اس لئے انکاری ہے کہ اس نے کبھی اونچی آواز میں اس سے بات کی ہے۔ یا اس کی عزت نفس اس بیمار کی وجہ سے کبھی مجروح ہوئی ہے۔ اور یہی انا قریب المرگ بھائی سے بھی ملنے نہیں دیتا۔ قیمتی قربانی کے دنبے اور بھیڑ تو خریدے جاتے ہیں اس پر تفاخر بھی ہوتا ہے اور تقسیم کاری کے وقت بطور خاص ان گھروں میں قربانی کا گوشت بھیجا نہیں جاتا جن سے کسی وجہ سے کچھ اَن بَن رہی ہو۔ یا کچھ اُن کے حوالہ سے حزن و ملال ہے بھلا بتائے قربانی بھی اخلاص سے عاری ہو اور انا کی زد میں آئے تولاکھ منادی کریںکہ ہم نے قربانیاں کیں مگر بے سود، کیونکہ قربانی مشروط ہے اس اعلان و عمل سے {اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ}ــیعنی ’’میری نماز ، میری قربانی ، میرے جینا مرنا بس اللہ کے لئے ہے۔‘‘ قربانی کرتے وقت اسی روشنی میں اپنی نیت اور عمل کو دیکھ لیں ضمیر سے پوچھیں بہتر مفتی ہے اچھا جواب دیگا کہ کیا واقعی آپ تعلیم فرمودہ احکام کے تحت ہی قربانی دے رہے ہیں ؟ بہت سارے ایسے واقعات بھی ہیں کہ برسوںسے کتنے ہی قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کو سلام کلام کرنے کے بھی روا دار نہیں، خون سفید ہو چکا اور آنکھیں ایک دوسرے سے پھیر لی ہیں۔ طرفین کو اسی انا کا اژ دھا ڈس چکا ہے اور کوئی ایک بھی صلح کرنے میں سبقت نہیں کر رہا ہے۔ حالانکہ شریعت مطہرہ نے تین روز سے زیادہ کلام سے رکے رہنے سے منع فرمایا ،واضح فرمایا ہے کہ صلح و آشتی میں خیر ہے اور مومن ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔ ان کا دکھ سکھ مشترک ہے اورجسد واحد ان کی حیثیت ہے ۔دو اور دو چار کی طرح سمجھایا کہ ایک کو کانٹا چبھے تو دوسرا چھبن محسوس کرے ۔ اس قدر یہ رشتۂ اخوت مضبوط ہو۔ یہ رشتہ ساز شوں،گھریلوں جھگڑوں،لڑائیوں اور تلخیوں کی زد میں کسی طور نہ آئے اور نہ ’’انا‘‘ کی موذی بیماری اسے اپنی لپیٹ میں لیں ۔
بھلا جو دولت رہنے والی نہ ہو،جس حسن کو روبہ زوال ہونا ہو، جو جوانی ڈھلنے والی ہو، جس مکان میں دوسروں کو رہنا ہو۔ جس مال و متاع کو یہاں چھوڑ کر پیوند خاک ہوناہو اس پر تکبر کرنا کیا زیب دیتا ہے۔ انا کے خول میں بند رہ کر سماج ،معاشرہ، رشتہ واعزہ و اقارب سے جو دور رہا۔ چند روز ہ عیش و نشاط شائد اسے حاصل ہو لیکن سکون کی دولت اور ایک دوسرے سے مل جل کر رہنے سے جو راحت و قرار میسرآتاہے اسے کبھی نصیب نہیں ہوگا۔ وہ معاشرے کا کوئی فائدہ بخش فرد نہیں ہوگا اور نتیجتاً اسے اپنے دن کنج تنہائی میں گذارنے ہوں گے اور اس مرحلے پر بھی اپنی بے وقوفی کی وجہ سے شاکی رہے گا کہ لوگ اسے نہیں پوچھتے اور مزید دھوکہ یہ لگے گا کہ لوگوں کو اس کی ’’عزت و دولت مندی ‘‘ پسند نہیں اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں قبرستانوں میں دیکھ لیں کتنے شدا دو سکندر ان گورستانوں میں پڑے نشان ِ عبرت بنے ہوئے ہیں۔ کتنے چھوٹے بڑے امیر و غریب نیک و بد اس زمین میں پڑے بزبان حال کہہ رہے ہیں ؎
آہستہ آہستہ خرام زیر قدمت ہزار جان است اور ایسا لگتا ہے کہ یہ آوازیں بھی قبرستانوں کے ان خموش شہروں سے آرہی ہے۔
مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے
زمین کھاگئی آسمان کیسے کیسے
اپنے اہل ایمان دوستوں، عزیزوں، پیاروں، بزرگوں، بھائیوں، بہنوں، چھوٹوں، بڑوں اور امراء وفقراء سبھی سے عید قربان کے موقع پر یہی مودبانہ التماس ہے کہ آئیے عید کے موقع پر جانور وں کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنے ایگو (Ego) کی بھی قربانی دیں ۔ ایک دوسرے سے دل صاف کر لیں۔ خطائوں کو معاف کریں۔ در گزر سے کام لیں تو یقینا ہمارا کام بنے گا۔ باہم رحم کریں ہم پر رحم کیا جائے گا۔ تو اضع و نرمی کوشعار بنانے کا عہد کریں تو ہم سے نرمی برتی جائے گی اور وعدہ جو ہے کہ زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔اس رحم کے حقدار ہم اسی وقت ہونگے جب ہمارے قلوب ایک دوسرے کے کینہ کپٹ و بغض و حسد سے پاک ہوں ۔جب انا کا مادۂ غلیظ اس دنیائے دل سے باہر پھینکا جائے گا اور اس میں صرف محبتیں اور شفقتیں موجزن ہوں گی۔ پھر صدا ہم پر رحمتوں کی برسات ہوگی آج انا کو قربان کیجئے تو ایک بڑے گناہ سے نجات ملے گی۔ عبادات اور قربانیوں شرف قبولیت حاصل ہوگا، اخلاص سے لبریز چھوٹا عمل بھی بڑا اجر پائے گا اور بڑے اعمال حسنات تو بڑے ہیں ہی ضرور اخروی نجات کا پروانہ بنیں گے۔ بس انا کو قربان کر دیجئے ہاں انا کو ! کریں گے نا؟
رابطہ۔ 7006055300