سید سرفرا زاحمد
ایک انسان کی زندگی کی تعمیر کیلئے تعلیم تربیت اور فکر بہت لازمی اجزاء ہیں، اسکے بغیر نہ اعلیٰ صفات کا حصول ممکن ہے نہ کوئی ذہنی فکری پختگی ۔ جب یہ تین چیزیں ایک انسان سے قربت اختیار کرلیتی ہیں یا وہ ان چیزوں کو اپنے اندر سرائیت کرجاتا ہےتو وہ سماج کا ایک جاندار شہری کہلائے گا۔ لیکن اس فرد کوایک باشعوراور دانا شہری بننے کیلئے اپنی فکر کو مضبوط بنانے کیلئے کتابوں کا حصول لازمی ہوجاتا ہے، کیونکہ کتابوں کا مطالعہ ہی ایک انسان کو عمل پر آمادہ کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سماج کا فکر مند شہری معاشرے کا عزت داروتعمیری شہری بناسکتا ہے اگر چہ کہ کتابوں کا انتخاب فکری و تعمیری نوعیت کا ہو، ورنہ غیر فکری کتابوں کا انتخاب فرد کو غیرذمہ دار شہری جوش و جذبے اور آپے سے عاری بھی بنا سکتا ہے کیونکہ کسی بھی قوم کی فکری پختگی کا اہم حصہ کتابیں ہوتی ہیں جو مثبت فکری و تعمیری رُخ کی ہوں۔ بہت کم مصنفین کی تصانیف کردہ کتابیں ایسی ہیں جو فکری اساس کی ہیں لیکن آج ہمارے ملک میں ان ہی فکری اساس پرموجود کتابوں کو بے بنیاد الزامات لگاکر پابندی لگائی جارہی ہے۔ تعلمی اداروں سے فکری اساس کی بنیاد پر مبنی کتابوں کے ساتھ سازش رچی جارہی ہیں، تعلیم سے فکری نصاب کو برخواست کردیا جارہا ہے تاکہ نوجوان طلباء کی سوچ کو فکری و شعوری کیفیت سے دور رکھا جائے۔ وضاحت کے ساتھ کہا جائے تو یہ غلط بھی نہ ہوگا کہ نوجوان طلباء کو فکری طور اپاہج بنانے کی یہ ایک منفی پہل ہے ۔
ملک کی عظیم و تاریخی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جسکے بانی سرسید احمد خان ہیں، وقفہ وقفہ سے سازشوں کا شکار بن رہی ہے ۔پہلے تو اس یونیورسٹی کے تاریخی لوگوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے لوگوں سے قرآنی آیت کو حذف کردیا جاتا ہے، ابھی چند دنوں قبل عالمی سطح پر شہرت یافتہ دو عظیم اسلامی دانشواران سید ابوالاعلی مودودیؒ اور سید قطب شہیدؒ کی کتابوں پرمحض اس لئےپابندی لگادی جاتی ہے کہ کچھ تعلیمی ماہرین سمجھے جانے والے مدھو کشور سمیت دیگر بیس افراد نے بد بختانہ الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں دانشوروں کی کتابیں جہادی افکار کی ترجمانی کرتے ہیںبلکہ یہ گھناؤنا اور مضحکہ خیز الزام لگانے والوں نے حکومت ہند کو ان دونوں سیدین افکار کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے کیلئے ایک مکتوب بھی لکھ کر بھجوایا ہے،لیکن ہوا یوں کہ یونیورسٹی انتظامیہ جیسے انتظار ہی کررہی تھیں کہ کوئی آواز بلند کرے اور ہم ان کتابوں پر پابندی لگادیں ،جی ہاں! ایسا ہی ہوا ہے، نہ حکومت ہند نے کوئی ایسا اقدام اٹھایا نہ وزارت تعلیم نے یونیورسٹی کو مجبور کیا کہ ان کتابوں پر پابندی لگادی جائے۔لیکن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے ذمہ دار دو افرادپروفیسرشفیع قدوائی اور طارق منصورکا کہناہے کہ ایم اے اسلامک اسٹڈیز میں اسلامی مفکرین کے نام سے ایک اختیاری مقالہ ہے،جس میں بہت سے اسلامی مفکرین جیسے سید قطب اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی شامل ہیں،لازمی نہیں بلکہ اختیاری مضمون ہے ۔جن پر تنازعہ اٹھا، اس لئے ہم نے ان سے متعلق مضامین کو نصاب سے برخواست کردیا۔اُن کا کہنا تھا ، اخبارات اور میڈیا میں تنازعہ کھڑا ہونے لوگوں کے اعتراضات اٹھائےجانے کے دفاع میں ہم نے یہ قدم اٹھایا۔ حالانکہ خود یہ دونوں یونیورسٹی کے پروفیسرس اور طلباء بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ان دونوں اسلامی مفکرین کی کتابوں میں ایسی باتیں نہیں ہیں جو جہاد کی یا کسی مذہبی دل آزاری کی ترجمانی کرتی ہوں۔پھرانہوں نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا،حیرت انگیز ہے۔کیا وہ حکومت کے اقدامات سے قبل حکومت کی خوشامدی کرکے اپنے مفادات کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں؟یا پھر وہ ان پختہ افکار کے بجائے ذہنی غلامی کے افکار کے پیروکار ہیں؟حالانکہ کافی عرصہ سے یہ کتابیں یونیورسٹی کی زینت بنی ہوئی ہیںاور کئی برسوں سے نصاب میں
شامل ہیں، جو طلباء کو پڑھایا جارہا ہے اور اس فکر کو طلباء اپنے انسانی سانچے میں ڈھال بھی رہے ہیں۔ تب سوال یہ ہے کہ اتنے سال سے ان کتابوں کے نصاب پر پابندی عائد نہیں ہوتی تو آج کیوں اسطرح کا فیصلہ لیا جاتا؟ کیا یہ لوگ بتا سکتے ہیں کہ ان کتابوںکو پڑھنے سے کتنے نوجوان طلباء کے ذہن بن گئے ہیں؟کتابیں دراصل نوجوان نسل کی فکری ذہن سازی، دماغی ارتقاء کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ کتابوں پر پابندی عائد کرنے سے آنے والی نسلوں کے دماغ معذور ہونے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، کیا وہ نہیں چاہتے کہ یونیورسٹی کے طلباء کی فکری نہج پرذہن سازی ہو،حالانکہ جس مقصد کو لیکر بانی سر سید احمد خان نے یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تھی، وہ یونیورسٹی کو آج یہ آہستہ آہستہ اپنے مقصد حصول کی راہ سے کنارہ کشی اختیار کررہی ہے کیونکہ یونیورسٹی اب ایسے ذہن اور ضمیر فروش افراد کا ٹھکانہ بن چکی ہے جو مخالفین کے حصہ دار بنے ہوئے ہیں۔ اس یونیورسٹی کے طلباء نے کئی بار الزام بھی لگایا کہ یونیورسٹی میں اردو کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ تاریخی لوگو ںمیں چھید کئے جاتے ہیں، تب ایسے میں ایک بہت بڑا سوال کھڑا ہوتا ہے کہ آخر ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟
اگر اسطرح کی سازشوں کی خوش آمدید کی جائے گی، تو وہ دن دور نہیں کہ آنے والی نسلیں ایسے مفکرین اسلام و دانشوران کی فکر انگیز مواد سے محروم ہوجائے گی بلکہ جتنی آسانی سے اس یونیورسٹی کے سربراہ نے کتابوں پر پابندی عائد کی ہے، وہ مخالفین کیلئے کسی چمکتےہوئے سونے سے کم نہیں ہے بلکہ انہوں نے خود مخالفین کا راستہ بھی ہموار کردیا ہے بلکہ مخالف گروہ تو چاہتا یہی ہے کہ وہ پانسہ پھینکے ،پھر دیکھتا ہے کہ ردعمل کیا آتا ہے۔ یہ عمل بھی بالکل اُسی طرح ہے ،کسی نے کہہ دیا اور یونیورسٹی نے اندھا دھند عمل کردکھایا ۔کیا یہ عمل آنے والے دنوں میں ہماری راہوں میں کانٹے نہیں بچھاپائے گا؟کاش کہ یہ ایک بار ان مفکرین اسلام کی کتابوں کا مطالعہ کرلیتے اور پھر فیصلہ کرتے ۔لیکن آج کتابوں پر آواز اٹھی ہے، کل اس سے بڑی آوازیں بھی اٹھ سکتی ہیں ۔یونیورسٹی کے اس اقدام سے ملک کے ایک بڑے شعوری طبقہ میں شک وشبہات میں بھی اضافہ ہوا ہے بلکہ ایسے واقعات منافر عناصر کے عزائم کو آگے بڑھانےمیں معاون بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ملکی سطح کےذمہ داران کو ہر لمحہ بیدار رہنا چاہئے کہ کہیں ہمارے ہی نام نہاد تعلیمی ٹھیکداروں کےذریعہ یہ یونیورسٹی سازشوں کا شکار نہ ہوجائے اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہم سے چھوٹ کر ضائع ہوجائے۔
�����������������������