خورشید ریشی
ادب کسی بھی قوم کی تہذیب، ثقافت، تاریخ اور اجتماعی شعور کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جو ادیب اور شاعر اپنے عہد کے احساسات، خوابوں، دکھوں اور امیدوں کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں، وہ وقت گزرنے کے ساتھ محض شاعر نہیں رہتے بلکہ ایک عہد کی شناخت بن جاتے ہیں۔ مرحوم علی محمد شہباز بھی کشمیری زبان و ادب کے ایسے ہی ممتاز شاعر تھے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے عام انسان کے جذبات، معاشرتی مسائل، روحانی اقدار اور کشمیر کی تہذیبی شناخت کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا۔آپ یکم مئی 1939 کو اپنے آبائی گاؤں شاٹھ گنڈ پائین میں پیدا ہوئے اور4 جولائی 1996 کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔علی محمد شہباز کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے کشمیری زبان کو اظہار کا ایسا وسیلہ بنایا جو ہر خاص و عام کے دل تک پہنچا۔ ان کی شاعری میں سادگی بھی ہے، فکری گہرائی بھی، درد بھی ہے اور امید کی روشنی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی تازگی، معنویت اور اثر انگیزی کے ساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے۔
تعلیم کے دوران ہی ان میں ادب اور شاعری کا ذوق پروان چڑھا۔ مطالعہ، مشاہدہ اور معاشرتی زندگی کے گہرے تجربات نے ان کی شخصیت کو نکھارا اور یہی عوامل بعد میں ان کی شاعری کا سرمایہ بنے۔ انہوں نے کشمیری زبان کی لطافت اور مٹھاس کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے موضوعات کو قلم بند کیا جو عام انسان کی زندگی سے براہِ راست وابستہ تھے۔
ان کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ اس میں عام آدمی کی زندگی بولتی ہے۔ انہوں نے محبت، ایثار، انسانی رشتوں، اخلاقی اقدار، روحانیت، سماجی ناانصافی، امید، صبر اور انسان دوستی جیسے موضوعات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کے اشعار قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں کیونکہ وہ مصنوعی انداز کے بجائے زندگی کی حقیقی تصویریں پیش کرتے ہیں۔
علی محمد شہباز صرف غزل گو شاعر ہی نہیں تھے بلکہ نعتیہ شاعری میں بھی ان کا مقام نمایاں ہے۔ ان کی نعتوں میں عشقِ رسولؐ، عقیدت، ادب اور روحانی وارفتگی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا مذہبی کلام دلوں میں محبت، اخلاص اور روحانی سکون پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عوام میں بے حد مقبول ہوا۔
کشمیری زبان و ادب کے فروغ میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے نہ صرف معیاری شاعری تخلیق کی بلکہ کشمیری زبان کی ادبی روایت کو نئی قوت اور تازگی بھی بخشی۔ ان کا کلام نئی نسل کو اپنی مادری زبان سے محبت، اس کی حفاظت اور اس کے ادبی ورثے کی قدر کرنے کا درس دیتا ہے۔ ان کی شاعری میں کشمیر کی ثقافت، رسم و رواج، فطری حسن اور عوامی زندگی کی حقیقی جھلک نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔
مرحوم علی محمد شہباز کی مقبولیت میں ایک اہم کردار معروف گلوکار منظور احمد شاہ اور رحمت اللہ خان نے ادا کیا، جنہوں نے ان کے کلام
تھؤت خُدائے للؤن تقدیر میانہ باپتھ
پؤشہ متیو نیندر پییم چانی غزل گیوان گیوان
کو اپنی خوبصورت آواز میں پیش کیا۔ ان گیتوں اور غزلوں نے نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عام لوگوں کے گھروں تک رسائی حاصل کی۔ یوں ان کی شاعری کتابوں کے صفحات تک محدود نہ رہی بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی، محفلوں اور ثقافتی اجتماعات کا حصہ بن گئی۔علی محمد شہباز کی شخصیت انکساری، سادگی، خلوص اور اعلیٰ اخلاق کا حسین امتزاج تھی۔ وہ ادب کو معاشرے کی اصلاح، انسان دوستی اور اخلاقی تربیت کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں انسانیت، محبت اور امن کا پیغام نمایاں طور پر نظر آتا ہے، جو ہر دور میں یکساں اہمیت رکھتا ہے۔
آج اگرچہ علی محمد شہباز ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی شاعری، فکر اور ادبی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کا کلام کشمیری ادب کا قیمتی سرمایہ ہے، جو آنے والی نسلوں کو زبان، ثقافت اور انسانی اقدار سے وابستہ رہنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔ ان کی ادبی میراث اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایک سچا شاعر اپنے الفاظ کے ذریعے وقت کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم علی محمد شہباز کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
انکی تیسویں برسی آج ان کی آبائی سرزمین سے دور چرار شریف میں منائی جارہی ہے۔میری اہل ادب لوگوں اور ادبی تنظیموں سے بالعموم اور ضلع کپواڑہ کے شاعروں سے بالخصوص یہ سوال ہے کہ مرحوم علی محمد شہباز کی برسی پر ان کے آبائی علاقے میں پروگرام منعقد کیوں نہیں کئے جاتے۔جبکہ آپ لوگ کسی بھی ادبی محفل کے دوران یہ کہتے تھکتے نہیں کہ یہ زمین بہت زرخیز ہے یہاں علی محمد شہباز جیسے شاعر نے جنم لیا۔مگر شہباز صاحب کی برسی پر انہیں اپنے آبائی گاؤں سے خراج تحسین پیش کرنے سے آپ لوگ کیوں کوئی پہل نہیں کرتے۔دوسرا یہ کہ تیس سال کے بعد بھی شہباز صاحب کا کلام منظر عام پر نہیں آیا ہے اور جس پر مختلف طبقے سے وابستہ لوگ ہمیشہ اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ علی محمد شہباز جیسا شاعر صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا