سید مصطفیٰ احمد،بڈگام
تنوع ہی زندگی کا اصل حسن ہے۔ جمود، یکسانیت اور ہر چیز کو ایک ہی پیمانے سے ناپنے کی سوچ ان عظیم اصولوں کے منافی ہے، جنہیں دنیا کے بڑے مفکرین نے ہمیشہ سراہا ہے۔ اگر انسان ذرا غور و فکر سے اس کائنات کا مشاہدہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کی بنیاد ہی تنوع اور اختلاف پر قائم ہے۔ نہایت معمولی ذرات سے لے کر عظیم کہکشاؤں تک، ہر شے اپنی ساخت، رنگ، شکل، مزاج اور کردار میں منفرد ہے۔ یہی تنوع اس کائنات کو خوبصورتی، توازن اور بقا عطا کرتا ہے۔اہلِ دانش کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ اگرچہ تمام انسان بنیادی طور پر ایک ہی خاندانِ انسانی کے افراد ہیں، لیکن ان کی زبانیں، ثقافتیں، روایات، افکار، صلاحیتیں اور طرزِ زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور یہی اختلاف دنیا کی اصل خوبصورتی ہے۔ اگر ہر شخص ایک جیسا سوچتا، ایک جیسا محسوس کرتا اور ایک ہی انداز سے زندگی گزارتا تو دنیا اپنی تمام تر کشش اور رنگینی کھو دیتی۔
ولیم ورڈز ورتھ نے فطرت کے حسن میں زندگی کی تازگی تلاش کی، جان کیٹس نے جمالیات کو انسانی روح کی غذا قرار دیا، اولیور گولڈ اسمتھ نے خود کو پوری دنیا کا شہری کہا، جبکہ جواہر لعل نہرو نے ہندوستان کی قدیم، قرونِ وسطیٰ اور جدید تہذیبوں کو ایک ہی تاریخی زنجیر کی مختلف مگر قیمتی کڑیاں قرار دیا۔ اسی طرح ول ڈیورنٹ نے اپنی شہرۂ آفاق تصانیف میں واضح کیا کہ تہذیبیں ایک دوسرے سے سیکھ کر آگے بڑھتی ہیں اور ثقافتی تبادلے ہی انسانی تاریخ اور تمدن کو نئی جہتیں عطا کرتے ہیں۔ آسمانی مذاہب بھی انسانوں کے درمیان اختلافِ رنگ، نسل، زبان اور تہذیب کو اللہ تعالیٰ کی نشانی قرار دیتے ہیں تاکہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں، سمجھیں اور ایک دوسرے سے سیکھیں۔
اس کے برعکس جب معاشرے میں صرف ایک ہی سوچ کو حق اور باقی تمام نظریات کو باطل سمجھ لیا جاتا ہے تو فکری جمود جنم لیتا ہے۔ انسان کا ذہنی افق محدود ہو جاتا ہے اور معاشرہ ایسے افراد سے بھر جاتا ہے جو جسمانی طور پر تو زندہ ہوتے ہیں مگر فکری لحاظ سے مردہ۔ وہ نئی راہیں تلاش کرنے کے بجائے صرف پرانے راستوں پر چلتے رہتے ہیں، خواہ وہ راستے زمانے کی ضرورتوں سے ہم آہنگ نہ بھی ہوں۔
زندگی کی شیرینی اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب ہم نئے خیالات، تعمیری تنقید اور مختلف زاویۂ نظر کے لیے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ یہاں جدیدیت سے مراد اندھی تقلید نہیں بلکہ تحقیق، احتساب اور ہر خیال کو عقل و دلیل کی کسوٹی پر پرکھنے کی صلاحیت ہے۔ بدقسمتی سے آج دنیا میں بڑھتی ہوئی نفرت، انتہا پسندی اور تصادم کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہر شخص اپنے نظریے کو مکمل سچ اور دوسروں کی سوچ کو سراسر غلط سمجھتا ہے۔اکثر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ تنوع کو قبول کرنا مشکل کام ہے کیونکہ اس کے لیے برداشت، محنت، مطالعہ، شائستگی اور خود احتسابی درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے تنگ نظری اور جامد روایت پرستی کو اپنا لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر روزانہ ایسے بے شمار افراد نظر آتے ہیں جو پورے اعتماد سے اعلان کرتے ہیں کہ صرف انہی کا نظریہ درست ہے اور نجات کا واحد راستہ بھی وہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ خود بھی شعوری یا لاشعوری طور پر اسی تنوع سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس کی مخالفت کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر دور اپنے ساتھ نئے سوالات اور نئے تقاضے لے کر آتا ہے۔ اس لیے افکار و نظریات کو زمانے کی ضرورتوں کے مطابق سمجھنا اور ان پر سنجیدگی سے غور کرنا کسی بھی زندہ معاشرے کی علامت ہے۔اگر ہم ایک خوشحال، پُرامن اور بامقصد معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں استحکام اور تنوع کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے ’’ایک ہی پیمانہ سب کے لیے‘‘کے تصور کو ترک کرنا ہوگا۔ مولانا وحید الدین خان کا مؤقف تھا کہ ہر نظریے کی اپنی بنیاد اور اپنی معنویت ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی کے بجائے مکالمے کا ذریعہ بنایا جائے تو معاشرے میں برداشت، ہم آہنگی اور فکری ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔
اولیور گولڈ اسمتھ نے بھی انسانیت کی وحدت اور تنوع کے حسین امتزاج کو سراہا، جبکہ اوشو نے لکھا کہ کثرت ہی اس دنیا کی روح ہے اور دوسروں کو اظہارِ خیال کا حق دینا انسان کے باطن کو سکون بخشتا ہے۔ آج جبکہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر دعویٰ تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے، ہمیں اپنی سوچ کو وسیع کرنا اور دوسروں کے مؤقف کو سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔اگر اختلاف کے باوجود ہم یہ کہہ سکیں کہ ’’ممکن ہے آپ کی بات میں بھی وزن ہو‘‘، ’’میں آپ کے نظریے کا احترام کرتا ہوں‘‘ اور ’’ہم دونوں کسی نہ کسی پہلو سے درست ہو سکتے ہیں‘‘، تو یقیناً ہم ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں نفرت کے بجائے احترام، تصادم کے بجائے مکالمہ اور تعصب کے بجائے برداشت پروان چڑھے۔ بلاشبہ یہ راستہ آسان نہیں۔ اس میں مشکلات بھی ہیں اور قربانیاں بھی، لیکن جب منزل انسانیت کی بھلائی، باہمی احترام، سماجی ہم آہنگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہو تو راستے کی تکلیفیں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔ یہی وہ فکر ہے جو دنیا کو زیادہ مہذب، زیادہ پُرامن اور زیادہ خوبصورت بنا سکتی ہے۔
[email protected]>
����������������������