ماجد مجید
تمام انبیاء و رسل میں یہ فضیلت صرف آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص ہے کہ آپؐ کو دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا۔(1) بعثت خصوصی(2) بعثت عمومی ۔ آپؐ سے قبل ہر پیغمبر کو ایک خاص علاقے اور خاص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم بنو اسماعیل کی طرف بھی رسول بن کر آئے اور قیامت تک کے لئے پوری دنیا کے تمام انسانوں کی طرف بھی۔
(1) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت خصوصی : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی بعثت مشرکین عرب یا بنو اسماعیل کی طرف تھی۔آپ ؐ کا تعلق بھی اسی قوم سے تھا۔اور آپؐ نے ان لوگوں کے اندر رہ کر خود ان کی زبان میں اللہ کا پیغام اُن تک پہنچا دیا اور اُن پر آخری حد تک اتمام حجت بھی کردیا۔اسی ضمن میں پھر مشرکین عرب پر اللہ کے اس قدیم قانون کا نفاذ بھی عمل میں آیا کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجا جائے اور وہ رسول اپنی دعوت کے سلسلےمیں اس قوم پر اتمام حجت کردے، پھر اگر وہ قوم اپنے رسول کی دعوت کو رد کردے تو اس پر عذاب استیصال مسلط کردیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں مشرکین عرب پر عذاب استیصال کی نوعیت معروضی حالات کے پیش نظر پہلی قوموں کے مقابلے میں مختلف نظر آتی ہے۔اس عذاب کی پہلی قسط غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کی ہزیمت و شکست کی صورت میں سامنے آئی۔جبکہ دوسری اور آخری قسط سورہ التوبہ کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے ۔اپنی بعثت خصوصی کے حوالے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرہ نمائے عرب میں دین کو غالب کردیا اور وہاں آپؐ کی حیات مبارکہ ہی میں اقامت دین کا عملی نقشہ اپنی پوری آب تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوگیا۔
(2)بعثت عمومی : آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عمومی پوری انسا نیت کی طرف قیامت تک کے لئے ہے ۔اس سلسلے میں دعوت کا آغاز آپؐ نے صلح حدیبیہ(6ھجری) کے بعد فرمایا ۔اس سے پہلے آپ ؐ نے کوئی مبلغ یا داعی عرب سے باہر نہیں بھیجا بلکہ تب تک آپؐ نے اپنی پوری توجہ جزیرہ نمائے عرب تک مرکوز رکھا اور اپنے تمام وسائل اسی خطہ میں دین کو غالب کرنے کے لئے صرف کئے۔جوں ہی آپؐ کو اس سلسلے میں ٹھوس کامیابی ملی۔یعنی قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور فریق ثانی کے تسلیم کرکے آپؐ سے صلح کر لی تو آپؐ نے اپنی بعثت عمومی کے تحت دعوت کا آغاز کرتے ہوے عرب سے باہر مختلف سلاطین و امراء کی طرف خطوط بھیجنے شروع کردئے ۔اس سلسلے میں آپ ؐ نے جن فرمانروائوں کو خطوط لکھے۔ان میں قیصر روم ایران کے بادشاہ کسرئ مصر کے بادشاہ مقوقس اور حبشہ کے فرمانروا نجاشی کے نام شامل ہیں ۔آپ ؐ کے انہی خطوط کے رد عمل کے طور پر سلطنت روما کے ساتھ مسلمانوں کے ٹکراؤ کا آغاز ہوا، جس کا نتیجہ آنحضور ؐ کی حیات طیبہ ہی میں جنگ موتہ اور غزوہ تبوک کی صورت میں نکلا ۔ان تمام حالات و واقعات کا تعلق آپ ؐ کی بعثت عمومی سے ہے ۔جس کی دعوت کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں ہی ہو گیا تھا اور پھر خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپؐ نے واضح طور پر یہ فریضہ اُمّت کے ہر فرد کی طرف منتقل فرما دیا۔چنانچہ اب تا قیام قیامت آپؐ پر ایمان رکھنے والا ہر مسلمان دعوت و تبلیغ اور اقامت دین کے لئے محنت و کوشش کا مکلف ہے ۔
(ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سری نگر )
[email protected]