امتیاز خان
تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، اخلاقی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو صرف راستہ ہی نہیں دکھاتا بلکہ ذہنوں کو بھی روشن کرتا ہے۔ مگر جب اسی چراغ کی روشنی دھندلا جائے اور اس کے گرد کاروبار، مفاد اور نمائش کے سائے گہرے ہو جائیں تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ ہم تعلیم کو کس سمت لے جا رہے ہیں۔ آج کا تعلیمی منظرنامہ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل مقصد کہیں پیچھے رہ گیا ہے اور دکھاوا، مارکیٹنگ اور مالی مفادات آگے آ گئے ہیں۔ہمارے معاشرے میں تعلیم ہمیشہ سے ایک خواب رہی ہے، خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کیلئے۔ عام والدین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر بہتر زندگی گزار سکیں، عزت حاصل کریں اور غربت کے دائرے سے نکل آئیں۔ تعلیمی نظام کی ناہمواریاں اس خواب کو کئی بار ادھورا چھوڑ دیتی ہیں۔
سرکاری تعلیمی ادارے دراصل اس ریاستی وعدے کی علامت ہوتے ہیں جس میں ہر بچے کو یکساں تعلیم دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ نظریاتی طور پر یہ ادارے غریب طبقے کی سب سے بڑی امید ہوتے ہیں کیونکہ یہاں تعلیم نسبتاً کم خرچ یا مفت فراہم کی جاتی ہے۔ مگر عملی طور پر صورتحال اکثر مختلف نظر آتی ہے۔ کئی سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی عدم دستیابی، پرانی نصابی کتابیں اور غیر مؤثر تدریسی طریقے تعلیم کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ معیاری لائبریریوں اور لیبارٹریوں کی قلت، کھیل کے میدانوں کا فقدان اور جدید ٹیکنالوجی سے محرومی ایسے عوامل ہیں جو طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ایسے ماحول میں پڑھنے والا طالب علم نہ صرف تعلیمی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے بلکہ اس کا اعتماد بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہی ادارے مضبوط ہو جائیں، اساتذہ کو بہتر تربیت اور وسائل فراہم کیے جائیں اور نگرانی کا نظام مؤثر بنایا جائے تو یہی سکول معاشرتی مساوات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
دوسری طرف نجی تعلیمی ادارے ہیں جو تیزی سے تعلیمی نظام کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان اداروں نے تعلیم کے میدان میں جدید سہولیات، بہتر ماحول اور معیاری تدریسی طریقے متعارف کروائے ہیں۔ سمارٹ کلاس روم، غیر نصابی سرگرمیاں اور دیگر جدید ذرائعِ تعلیم ان تعلیمی اداروں کو والدین کیلئے پرکشش بناتے ہیں۔مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تعلیم ایک کاروبار بن جاتی ہے۔بھاری فیس، داخلہ چارجز اور سالانہ اخراجات عام والدین کیلئے ناقابلِ برداشت مالی بوجھ بن چکے ہیں۔یوں تعلیم ایک ایسی شے بن جاتی ہے جس تک رسائی معیار پر نہیں بلکہ مالی حیثیت پر منحصر ہو جاتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کئی باصلاحیت بچے صرف اسلئے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کے والدین زیادہ فیس ادا نہیں کر سکتے۔ یوں قابلیت اور وسائل کے درمیان جنگ میں اکثر وسائل جیت جاتے ہیں۔
اکثر والدین کیلئے تعلیم کا بنیادی مقصد روزگار ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر اچھی نوکری حاصل کریں تاکہ گھر کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔ یہ خواہش جائز بھی ہے اور ضروری بھی کیونکہ تعلیم کا ایک بڑا مقصد معاشی خودمختاری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم صرف نوکری تک محدود ہونی چاہیے؟اگر ایک طالب علم صرف امتحان پاس کرنے اور ڈگری لینے کیلئے پڑھ رہا ہے تو اس کے اندر تخلیقی سوچ، تحقیق اور اخلاقی تربیت کیسے پیدا ہوگی؟ تعلیم کا اصل مقصد ایک ایسا انسان بنانا ہے جو سوچ سکے، سوال کر سکے، نئے حل تلاش کر سکے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے۔ بدقسمتی سے ہمارا نظام اکثر طلبہ کو رٹہ مشین بنا دیتا ہے، جہاں کامیابی کا معیار صرف نمبر اور گریڈز رہ جاتا ہے۔
غریب والدین کیلئے اپنے بچوں کو پڑھانا ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ محدود آمدنی، مہنگی فیس، کتابوں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات نے تعلیم کو ایک بوجھ بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنی خواہشات کو قربان کر کے بچوں کے مستقبل کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ کئی والدین اضافی کام کرتے ہیں اور اپنی ضروریات کو محدود کر لیتے ہیں، صرف اس امید پر کہ ان کے بچے ایک بہتر زندگی حاصل کر سکیں۔مگر جب یہی بچے ناقص نظام، غیر معیاری تعلیم یا مواقع کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں، تو یہ صرف ایک خاندان کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی بن جاتی ہے۔ اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ غریب کا بچہ بھی وہی معیارِ تعلیم حاصل کرے جو ایک امیر کے بچے کو میسر ہے۔
آج کے دور میں ٹیکنالوجی نے تعلیم کے طریقہ کار کو یکسر بدل دیا ہے۔ آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت نے سیکھنے کے نئے دروازے کھول دئے ہیں۔ مگر یہ سہولیات سب کیلئے یکساں دستیاب نہیں ہیں۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے گھرانوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی، سمارٹ ڈیوائسز کی کمی اور ڈیجیٹل مہارتوں کا فقدان ایک نئی تعلیمی خلیج پیدا کر رہا ہے۔یوں ایک طرف وہ طلبہ ہیں جو جدید وسائل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ ہیں جو بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ یہ فرق مستقبل میں مزید گہری سماجی اور معاشی تقسیم کا سبب بن سکتا ہے، اگر اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی۔
ہمارے تعلیمی نصاب میں اکثر روایتی نظام کو فروغ دیا جاتا ہے، جس میں طالب علم کی تخلیقی صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ سوال پوچھنے، تنقیدی سوچ اپنانے اور نئے خیالات کو آزمانے کی حوصلہ افزائی کم ہی نظر آتی ہے۔ نتیجتاً طلبہ امتحان تو پاس کر لیتے ہیں مگر عملی زندگی میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے محروم رہتے ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ذہنی طور پر ترقی کریں، تو ہمیں نصاب میں ایسی سرگرمیاں شامل کرنی ہوں گی جن میں وہ خود تجربہ کریں، بحث کریں اور چیزوں کو سمجھیں۔ ساتھ ہی امتحانی نظام کو بھی بدلنا ہوگا تاکہ صرف سبق یاد کرنے کے بجائے اس بات کو اہمیت دی جائے کہ بچے نے کتنا ’سمجھا‘ہے اور وہ اس علم کو’استعمال‘کیسے کر سکتا ہے۔
ایک اچھا استاد کسی بھی تعلیمی نظام کی روح ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف علم منتقل کرتا ہے بلکہ کردار سازی اور شخصیت کی تعمیر میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مگر جب اساتذہ کو مناسب تربیت، وسائل، تنخواہ اور عزت نہ ملے تو وہ بھی اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا نہیں کر پاتے۔اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید تدریسی مہارتوں کی فراہمی اور ان کی کارکردگی کا شفاف جائزہ ایک مضبوط تعلیمی نظام کیلئے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں استاد کے مقام کو بھی بلند کرنا ہوگا تاکہ یہ پیشہ باصلاحیت افراد کیلئے پرکشش بن سکے۔
تعلیم کا بنیادی اصول مساوات ہونا چاہئے مگر ہمارے ہاں یہ تیزی سے تفریق میں بدل رہا ہے۔ ایک طرف مہنگے نجی ادارے ہیں اور دوسری طرف کمزور سرکاری نظام۔ یہ فرق صرف تعلیمی نہیں بلکہ سماجی تقسیم کو بھی بڑھاتا ہے۔ یہی بچے آگے چل کر مختلف طبقات میں بٹ جاتے ہیں، جس سے معاشرے میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم کو دوبارہ اس کے اصل مقصد کی طرف لے آئیں۔اس کیلئے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری اور جدید کاری، اساتذہ کی معیاری تربیت اور میرٹ پر تقرری، نجی تعلیمی اداروں کی فیس کا مؤثر ضابطہ، ہر بچے کیلئے یکساں تعلیمی مواقع اور نصاب میں اخلاقی، عملی اور تحقیقی پہلوئوں کا اضافہ۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی اور دیہی علاقوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری بھی انتہائی ضروری ہے۔ آج کا تعلیمی نظام ہمیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ ہم تعلیم کو کاروبار بنانا چاہتے ہیں یا ایک سماجی خدمت۔ اگر ہم نے صرف منظر کو چمکانے پر توجہ دی اور حقیقت کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں صرف ڈگری یافتہ ضرور ہوں گی، مگر باشعور اور باکردار نہیں۔تعلیم کو اگر اس کی اصل روح کے ساتھ اپنایا جائے تو یہی وہ طاقت ہے جو نہ صرف فرد بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس چراغ کو روشنی کا ذریعہ بناتے ہیں یا اسے مفادات کی دھند میں گم ہونے دیتے ہیں۔
������������������