مقصوداحمدضیائی
مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد ہندوستان میں سب سے پہلی علمی اور اصلاحی تحریک کا آغاز شمالی ہند کے چھوٹے سے قصبے ’’دیوبند‘‘ سے ہوا۔ حضرت الامام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے۱۵؍ محرم الحرام ۱۲۸۳ھ کو سرزمین دیوبند پر مدرسہ اسلامیہ عربیہ دیوبند قائم کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مدرسہ نے ’جامعہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند‘کے نام سے ایک عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی کی شکل اختیار کر لی، جہاں مختلف ممالک سے طلبہ تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کے حصول کے لئے آتے رہے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند ایک طرف توحید و سنت کے احیاء میں سربرآوردہ رہا اور دوسری طرف ایسے علماء ، محدثین و مفسرین پیدا کئے کہ جن سے نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر سارا جہاں پڑھنے آتا تھا اور ایسے پختہ کار علماء پیدا کئے ، جن سے قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہوگئی، ان میں مولانا رشیداحمدگنگوہیؒ ،مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، مولانا محمودحسن دیوبندیؒ ، علامہ محمد انورشاہ کشمیریؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ اور قاری محمد طیب ؒ جیسے اکابر و محدثین کہ جنہوں نے امام بخاری و مسلم ،نسائی و ترمذی کی عظمت و سطوت کو بجا طور پر منوایا۔ پھر ان سے جو چشمے پھوٹے ، جن کے ذریعے عظیم الشان دینی ،علمی ، دعوتی ، روحانی، ملی، فلاحی، تعمیری، تنظیمی، تصنیفی وغیرہ اہم ترین خدمات انجام پائیں۔الحمداللّٰہ دارالعلوم دیوبند کے عمدہ کردار اور بلند خیالی نےپسماندگی کو بلند اقبالی میں تبدیل کیا اور بعد میں آنے والوں کو قافلہ اولیٰ کے ساتھ جوڑ دیا، اہم بات یہ کہ ان میں فقہی رسوخ امام ابوحنیفہؒ پیدا کیا ، حدیثی رشتہ امام بخاری و مسلم کے ساتھ استوار رکھا اور تمام علوم و فنون مع ولایت و سلاسل اولیاء کرام کے اس کو آبدار آئینے کی طرح چمکا دیا اور ساتھ ہی ان کے ذمہ مغلوں کی اسلامی سلطنت جو انگریز نے تہس نہس کی تھی،کا بدلہ لینا تھا، اس کو تب چھوڑا کہ انگریز کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ مرکز علم و عرفاں دارالعلوم وقف دیوبند کی بالغ نظر انتظامیہ نے دسمبر 2025ء کے وسط میں حجة الاسلام اکیڈمی کے جھنڈے تلے علامہ محمد انورشاہ کشمیریؒ حیات افکار اور خدمات سے معنون عالمی سیمینار منعقد کرکے بلاشبہ ایک تاریخ رقم کر دی ہے۔ چونکہ علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ (1875ء-1933ء) برصغیر کے مشہور عالمِ دین، محدث، فقیہ، اور اہلِ علم و عمل کی عظیم شخصیت تھے اور آپ کے اساتذہ میں مولانا رشید احمد گنگوہی اور شیخ الہند مولانا محمود حسن جیسے جلیل القدر علماء شامل ہیں۔ علامہ کے اصاف جمیلہ محاسن جلیلہ اور محامد حمیدہ اپنے اندر مختلف گوشے رکھتے ہیں۔ آپ نے دارالعلوم دیوبند میں طویل عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ نے تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی مثالی کام کیا، آپ کی تصانیف میں علم حدیث، فقہ اور دیگر موضوعات پر گراں قدر کتب شامل ہیں۔
آپ خلافت تحریک اور دیگر اسلامی تحریکات میں بھی شریک رہے۔ مسلمانوں کے حقوق اور اتحاد کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی۔ دارالعلوم وقف دیوبند کی مؤقر انتظامیہ کی محنت شاقہ کی بدولت دو روزہ عالمی سیمینار برائے علامہ محمد انورشاہ کشمیریؒ سنگ میل کی حیثیت سے سامنے آیا۔ دارالعلوم دیوبند عالم اسلام کا دھڑکتا دل اور مرکز علم و عرفاں ہے، منبع رشد و ہدایت ہے، اس کے درودیوار سے بھی علم و اخلاص کی بو آتی ہے، اس کا فیض دنیا کے ہر گوشے میں پہنچا ہے۔ اس عاجز کو بحیثیت مقالہ نگار سیمینار میں شرکت کی سعادت ملی اور ’’علامہ کشمیری کی شخصیت اور علمی کمالات‘‘ عنوان پر مقالہ پیش کیا۔ اس سیمینار کا دعوت نامہ ملتے ہی دارالعلوم وقف و حجة الاسلام اکیڈمی دیوبند کے ذمہ داران و کارکنان جس فکر مندی سے سفر کی تفصیلات معلوم کرتے رہے۔ اس سے اندازہ ہونے لگا تھا کہ یہ غیرمعمولی سیمینار ہونے جا رہا ہے۔ عاجز نے سفر کی ترتیب استقبالیہ کو پہنچا دی اور مقررہ تاریخ کو روانگی بھی ہوگئی ۔ دارالعلوم وقف کے ’’باب الانور‘‘ سے داخل ہوتے ہی رضاکاروں نے خوش آمدید کہتے ہوئے سیمینار سے متعلق جو استقبالیہ تھا وہاں پہنچا دیا۔ جہاں مولانا اظہارالحق صاحب اور مولانا احمد فراز صاحب اساتذہ دارالعلوم سے ملاقات ہوئی۔ خدمت پر مامور طلبہ کے حسن سلوک اور سادگی سے اخلاقی تربیت نمایاں دکھائی دے رہی تھی۔ جس عمارت میں قیام کا نظم کیا گیا تھا، یہ دارالقران کی خوبصورت عمارت تھی، رضاکاروں کی مستعدی قابل تعریف ، ہر پل مہمانان کرام کی خدمت کے لیے وقف، سیمینار میں افتتاحی نشست کے علاوہ کل چار نشستیں ہوئیں جن میں لگ بھگ ڈیڑھ سو مقالات پیش کیے گئے اور ہر نشست میں مہمانان کرام کے جامع مؤثر اور پرمغز تاثرات و جامع نصائح بھی ہوئے۔ سبھی نشستوں مجھے حاضری کی سعادت حاصل رہی۔ مقالہ نگار حضرات نے متعینہ وقت میں اپنی بات خوبصورتی کے ساتھ مکمل کی۔ نوجوان قلم کاروں کی تعداد زیادہ نظر آئی، مقالات کے عناوین کا تعین لاجواب، حسنِ انتظام بے مثال ، حضرات اکابر اور اہل قلم کی اتنی بڑی تعداد کیا پھر کبھی دیکھنے کو ملے گی؟ علم و فضل اور فکر و فن کی عظیم ہستیاں نابغہ روزگار شخصیات کے زیر سایہ سیکھنے، سننے اور اپنے کو سنوارنے کا ایسا نادر موقع پھر کبھی مقدر کا حصہ بنے گا! سیمینار کے نظم و انتظام پر منتظمین کی اعلیٰ دماغی اور رضاکاروں کی سرشاری کو سلام! نظامت کے فرائض انجام دینے والے اساتذہ دارالعلوم وقف دیوبند کی خدا داد صلاحیتوں کو سلام! بطور خاص جانشین حکیم الاسلام مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب اور ان کے نقش جمیل صاحبزادے مولانا ڈاکٹر شکیب احمد قاسمی کی فہم و فراست کو سلام اور بہت بہت مبارک۔
الحاصل ۔ سیمینار میں شرکت سعادت اور دارالعلوم میں دو روزہ قیام نے میرا یقین مزید پختہ کیا کہ منتظمین کا باکمال نظم و ضبط اور اساتذہ کی علمی و فنی مہارت اور طلبہ کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لیے دارالعلوم آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ علامہ کشمیریؒ پر سیمینار ایک تاریخ ساز کارنامے کو انجام دینے کے مترادف ہے چونکہ علامہ کشمیری وہ درنایاب تھے کہ جن سے وقت کی علمی فکری اور نظریاتی شخصیات علمی و فکری رہبری حاصل کیا کرتی تھیں۔ اس سیمینار سے نئی نسل اس عظیم شخصیت کی حیات و خدمات اور کارناموں پر مطلع بھی ہوئی ہے اہل مدارس اور جماعتوں و جمعیتوں کے ذمہ داران اور روشن خیال طبقہ کو بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔