ندیم احمد میر
دورِ حاضر کے ایک جید عالم دین،عظیم محقق اور اسلامی مفکر مولانا سید جلال الدین عمری صاحب گذشتہ روز 26اگست کوخالقِ حقیقی سے جاملے،اُن کی عمر تقریباً97برس تھی۔آپ اُن چنیدہ افراد میں سے ایک تھے، جنہوں نے ساری کشتیاں جلا کر ہی تحریکِ اسلامی میں داخلہ لیا تھا اور تب سے جب تک برابر علم کے نور سے ملتِ اسلامیہ کو منور کرتے رہے۔ان کی تحریروں نے بہت سارے نوجوانوں کے اندر ایک ہمہ گیر انقلاب بپا کیا اور انہیں ہمہ وقت کارکن بنا کے ہی رکھ دیا۔مولانا عمری صاحبؒ کی مختلف موضوعات پر تقریباً چار درجن تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ان میں تجلیات قرآن،اوراقِ سیرت،معروف و منکر،غیرمسلموں سے تعلقات اوران کے حقوق،خدا اور رسولؐ کا تصور اسلامی تعلیمات میں،احکامِ ہجرت و جہاد،انسان اوراس کے مسائل،صحت و مرض اور اسلامی تعلیمات،اسلام اور مشکلاتِ حیات،اسلام کی دعوت،اسلام کا شورائی نظام،اسلام میں خدمتِ خلق کا تصور،انفاق فی سبیبل اللہ،اسلام انسانی حقوق کا پاسباں،کم زور اور مظلوم اسلام کے سایے میں،غیراسلامی ریاست اور مسلمان، تحقیقاتِ اسلامی کے فقہی مباحث جیسی علمی تصانیف مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ان کی متعدد کتابوں کے ترجمے عربی، انگریزی، ترکی، ہندی، ملیالم،تلگو،مراٹھی،گجراتی،بنگلہ،اور تمل میں بھی ہو چکے ہیں۔اسلام کا معاشرتی نظام ان کی دلچسپی کا خاص موضوع رہا ہے۔عورت اسلامی معاشرے میں،مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ،عورت اوراسلام،مسلمان خواتین کی ذمہ داریاں اور اسلام کا عائلی نظام جیسی وقیع کتابیں اس کا بہترین ثبوت پیش کرتی ہیں۔
مولانا عمری صاحبؒ کے چہرے پر نظر پڑتے ہی یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ دنیا کے حریص کے بجائے آخرت کے عاشق ہیں۔اپنی شعلہ بیانی میں بھی وہ اکثر آخرت کی تیاری کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرتے تھے۔اپنے دروس میں اکثر کہا کرتے تھے کہ امت مسلمہ سوئی ہوئی ہے، اسے جاگ کر اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔امت کے شیرازہ کو بکھرنے والے علماء سوء کو وہ اپنے بیانوں میںجھنجھوڑتے تھے۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین قائم کرنے کی جدوجہد میں گزاری اور زندگی کے آخری سانس تک لوگوں کو اپنی ایمانی حرارت سے فیضیاب کرتے رہے۔ان کی سادگی سے طبیعت بہت متاثر ہوتی تھی۔واقعتاً ملتِ اسلامیہ ایک عظیم راہنما سے محروم ہوگئی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسمانگان کو صبر جمیل سے نوازے۔آمین
ذاتی طور پر مجھے جب سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی وفات کی خبر موصول ہوئی تو مجھے ایک جھٹکا سا لگ گیا۔میں اپنے گریبان میں جھانک کر اندر ہی اندر سوچنے لگا اور موازنہ شروع کیا تو کچھ وقفہ کے بعد میں بہت شرمندہ ہوا اور سوچا کہ کہاں ہمارے علماء حق کا غیر متزلزل یقین،پہاڑ جیسی استقامت،دریا جیسی روانی،زمین جیسی حِلم،سمندر جیسی گہرائی،آسمان جیسی وسعت اور بلندی،شاہین جیسی پرواز اور کہاں ہم کہ بس دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ہمارے دل مختلف خواہشوں اور آرزوؤں سے لبریز ہیں۔ہمارے دماغ پر مختلف مصلحتوں کا پہرہ ہے اور ہمارا ہر قدم کئی قسم کے اندیشوں سے گراں بار ہے۔ہم اللہ کے دین اور اس کے قرآن سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔یہ وہ احساسات ہیں جنہیں ذہن میں رکھ کر ہمیں بے چین ہونا چاہئے۔مولانا عمری صاحبؒ کی وفات پر مجھے نبی اکرمؐ کی ذیل کی دو حدیثیں ذہن میں گردش کرنے لگے،جنہیں پڑھ کے انسان ایک خوف سا محسوس کرکے احتسابِ نفس پر مجبور ہو ہی جاتا ہے:
نبی کریمؐ نے فرمایا’’ نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعد جَو کے بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے، جن کی اللہ پاک کو کچھ ذرا بھی پروا نہ ہوگی‘‘۔(بخاری:6434)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہؐ سے سنا ،آپؐ فرماتے تھے کہ’’ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لےبلکہ وہ(پختہ کار) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے،ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے، اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے‘‘۔(بخاری:100)
ً ہر روز ہم اپنی آنکھوں کے سامنے جنازے کا مشاہدہ کر رہے ہیں لیکن ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں،جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے ہمیں بُری طرح قابو کر کے اپنے جال میں پھنسایا ہے۔ہم جیسے بے عمل مسلمانوں کو قرآنِ پاک ان الفاظ میں مخاطب ہے:
’’اے انسان! تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اپنے ربّ کریم کے بارے میں‘‘۔(انفطار:6)
ظاہر ہے یہ کام شیطان لعین ہی کرتا ہے۔وہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکے میں ڈالتا ہے۔اس حوالے سے قرآن مجید میں بنی نوع انسان کو باربار خبردار کیا گیا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام تر تنبیہات کے باوجود اکثر انسان شیطان کےپُر کشش جال میں پھنس جاتے ہیں۔اس کی تیر بہدف چال یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے،وہ کوئی خوردہ گیر نہیں کہ اپنے مومن بندوں کو چھوٹی چھوٹی خطائوں پر پکڑے،وہ تو بہت بڑے بڑے گناہگاروں کو بھی معاف کردیتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں بےعملی کی سب سے بڑی وجہ شیطان کی یہی چال ہےبلکہ اس دلیل کے سہارے اکثر لوگ گناہوں کے بارے میں حیران کن حد تک جری اور بےباک ہوجاتے ہیں۔
قرآنِ پاک میں بعینہٖ ہمیں ان الفاظ میں متنبہ کیا گیا ہے:’’اے لوگو! اللہ کا وعدہ سچا ہے ،تو دیکھو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ ہی تمہیں دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے بازہے‘‘(فاطر:5)
ایک عالِم کی موت ایک عالَم کے موت کے مترادف ہوتی ہے۔یہ سب جانتے ہوئے اور سر کی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرتے ہوئے بھی ہم خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اب بھی بیدار ہونے کا موقع ہے۔مولانا عمری صاحبؒ کا موت ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہمیں چاہئےکہ ہم اس فانی دنیا میں موت کو زیادہ سے زیادہ یاد رکھیں اور تقویٰ کی زندگی گزاریں چونکہ قرآن نے دنیا و آخرت میں اہل ایمان کی کامیابی کا راستہ یہ بتایا ہے کہ وہ تقویٰ کی زندگی گزاریں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ کی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمائے۔آمین
[email protected]