۔2014میں بی جے پی کی کامیابی اور نریندر مودی کے سیاسی عروج کے بعد ہندوستانی عوام کی توقعات نے آسماں چھولیا تھا لیکن 2019ء آتے آتے عوام کے سامنے حکومت کی کار کردگی کا جو حساب تھا ،اس میں بیروزگاری میں ریکارڈ اضافہ ، زرعی پیداوار میں شدید کمی ، صنعتی پیداوار میں سست روی ، کرنسی پر پابندی کے تکلیف دہ نتائج اوراضافی سیلز ٹیکس کے پیچیدہ نظام کی پریشانیوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اسلئے یہ سوچنا بھی محال تھا کہ بی جے پی پانچ سال پہلے کی کامیابی دہراسکے گی ۔ایسے میں وہ دن آن پہنچاجب پلوامہ میں سی آر پی ایف کی کانوائے پر فدائی حملہ ہوا اور چالیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے ۔حملہ کرنے والا فدائی ایک کشمیری نوجوان تھا اور حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی جس کا صدر دفتر پاکستان میں ہے ۔اس واقعے نے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا ۔ساری توجہ کشمیر ، پاکستان اور دہشت گردی پر مرکوز ہوگئی۔دلوں میں آگ بھڑک اٹھی اور ذہنوں میں شعلے مچلنے لگے ۔ہندوستان کانوجوان بیروزگاری بھول گیا ۔ صنعت کار جی ایس ٹی بھول گیا ، تاجر نوٹ بندی بھول گیا ۔ سرکار کی پانچ سالہ کارکردگی کا کھاتہ جذبات کے سیلاب میں بہہ گیا اور جب وزیر اعظم نے سرجیکل سٹرائیک کی یاد دلاتے ہوئے پاکستان کو اس خونریزی کا ذمہ دار قرار دیکر سبق سکھانے اور کشمیر میں دہشت گردوںکا خاتمہ کرنے کا اعلان کیا توامیدوں کا وہ مرکز مسائل کے انبار سے پھر ابھر آیا جس کی بنیادوں میں قوم پرستی اور ہندوتوا کی اینٹیں پیوست تھیں۔پھر جب رات کے اندھیرے میں ہندوستان کے میراج طیارے بالاکوٹ میں جیش محمد کے ٹھکانوں پر بم گرا کر آگئے تو نریندر مودی کی شکل میں ایک نئے اوتار نے جنم لیا ۔ قوم پرستی کا بیانیہ ایک ارب تیس کروڑ لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں تازہ ہوا اور ہندوستان کی سربلندی کی تمنا نے دوسری ساری خواہشوں اور تمنائوں کو زمین بوس کردیا ۔اس کے بعد جب انتخابی مہم شروع ہوئی تو وزیر اعظم نریندر مودی کی دھواں دھار قوم پرستانہ تقاریر میں سرجیکل سٹرائکوں ، بالا کوٹ حملے ، دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو سبق سکھانے ، فوج کی بہادری کی تعریفوں، سابق حکومتوں کی کم ہمتیوں اور عالمی سطح کی سیاسی حصولیابیوں کے علاوہ اور کوئی بات نہیں تھی ۔نئے ہندوستان کا تصور ایک مضبوط اور ناقابل شکست ملک کا تصور ہی ہے جو عوام کی امنگوں کی علامت بن گیا ۔ اس کے باوجود اپوزیشن کو یقین تھا کہ عوام کو ان کے مسائل کی یاد دلا کر بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے ۔ پولنگ کے سات مراحل مکمل ہونے کے بعد بھی اپوزیشن کو یقین تھا کہ ووٹ انہی کے حق میں استعمال ہوئے ہیں ،اس لئے وہ جیت کے بلند بانگ دعوے کررہی تھی ۔ لیکن ووٹ شماری شروع ہوتے ہی جو رحجانات سامنے آئے ،وہ کسی سونامی سے کم نہیں تھے ۔ بڑے بڑے سیاسی سورما اس سونامی میں بہہ رہے تھے ۔مہا گٹھ بندھن تنکوں کی مانند بکھر رہے تھے ۔ بڑے بڑے قلعے مسمار ہورہے تھے اور تن تنہا بھارتیہ جنتا پارٹی تین سو سے زیادہ نشستوں کی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہی تھی ۔ شام تک بی جے پی ساڑھے تین سو نشستوں کے قریب تھی اوراس کے بعد اپوزیشن کے کسی چراغ میں کوئی روشنی نہیں رہی ۔
1971ء کے بعد کوئی حکومت دوسری بار اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی لیکن بی جے پی نے نہ صرف دوسری بار اقتدار حاصل کیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کرلی ۔سارے سیاسی پنڈت جھوٹے ثابت ہوئے ۔ نریندر مودی اور امیت شاہ جو دعوے کررہے تھے، وہی سچ ثابت ہوئے ۔اس انتخاب نے نہ صرف بی جے پی کو کانگریس کے بعد دوسری ملک گیر جماعت بنادیا بلکہ پہلی ملک گیر جماعت کو ہندی بیلٹ سے صاف کرکے ایک مقامی جماعت تک محدود کردیا ۔حیرت کی بڑی وجہ یہ رہی کہ جن پانچ ریاستوں میں حال ہی کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، ان میں اس کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی ۔راجستھان کے علاوہ اتر پردیش اور بنگال میں اس کی کارکردگی نے خاص طورپر سب کو چونکا دیاکیونکہ یہی اپوزیشن کی امیدوں کے قلعے تھے ۔ کانگریس کے ترپ کا یکہ پرینکا گاندھی بھی کوئی طلسم نہ دکھا سکی ۔ اپوزیشن کی اس بدترین شکست کو سیاسی پنڈت مودی سونامی کا نام دے رہے ہیں ۔ بے شک یہ مودی سونامی ہی ہے لیکن اس سونامی کو پلوامہ فدائی حملے نے اس وقت پیدا کیا جب پانچ سال پہلے مودی کا سیاسی عروج اس کی کارکردگی کے ترازو میں تولا جارہا تھا ۔2014ء میں کانگریس میں لیڈر شپ کے خلاء اور سرکاری سطح پر پھیلتے ہوئے کرپشن کے بعد بی جے پی کے سوا کوئی متبادل نہیں تھا ۔بی جے پی کے پاس اٹل بہاری واجپائی کی معتدل پالیسیوں کے ساتھ بنیاد پرست ہندو تنظیموں کا پیدا کیا ہوا وہ جذبہ بھی تھا جسے آگے بڑھانے میںوالمیکی کی رامائن کی ہمہ گیر قبولیت نے اہم کردار ادا کیا تھا چنانچہ ترقی پسند اور قدامت پسند دونوں بی جے پی کے ساتھ ہولئے اور اس کی جیت طے ہوگئی ۔پانچ سال بی جے پی نے ہندوتوا کاا فلسفہ عام کرنے اور مودی کو اس فلسفے کے ساتھ قوم پرستی کی علامت بنانے میں صرف کردئیے ۔جنگجویانہ سرگرمیاں جن کا کشمیر مرکز رہا اور پاکستان کی جنگجو تنظیموں کی سرگرمیاں بی جے پی اور مودی جی دونوں کی مددگار ثابت ہوئیں ۔ اس کے باوجودحکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کی کمزوریاں اور ناکامیاں قوم پرستی اور ہندوتوادونوں پر بھاری پڑرہی تھی کہ پلوامہ حملے نے ساری بساط ہی الٹ کر رکھ دی ۔اور اب نریندر مودی نئے ہندوستان کا ہیرو ہے جس کے ساتھ اس ملک کو عالمی سطح پر عظیم قوت بنانے کی امیدیں وابستہ ہوچکی ہیں ۔ موہن داس کرم چند گاندھی اور اسکے سیاسی فلسفے کا آفتاب ڈوب چکا ہے۔ اس کی جگہ رام ناتھ گوڑسے کا وہ جذبہ لے چکا ہے جس نے اسے گاندھی کا قتل کرنے پر آمادہ کیا ۔پرگیا ٹھاکر کی آٹھ لاکھ ووٹوں سے جیت اس کا ثبوت ہے ۔ اب یہی نئے ہندوستان کی شناخت ہے اور یہی حقیقت بھی ہے جسے تسلیم کئے بنا کوئی چارہ نہیں ہے ۔نظریات میں جب ضعف آجاتا ہے تو وہ اعلیٰ انسانی قدروں کی پاسبانی کے باوجود بھی وقت کی گردشوں میں گم ہوجاتے ہیں اوران کی جگہ جو متبادل نظریات فروغ پاتے ہیں ،وہ اصولوں اور قدروں کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیتے ہیں ۔
اسرائیل اور پاکستان کے بعد اب ہندوستان دنیا کے نقشے پر تیسری مذہبی ریاست ہے ۔ پہلی دو ریاستوں نے دنیا کو مذہبی ٹکرائو کی آماجگاہ بناکر تیسری عالمگیر جنگ کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے ۔مذہبی شدت پسندی انہی ریاستوں کی دین ہے ۔ پوری دنیا اب کھلی جنگوں اور درپردہ جنگوں کی لپیٹ میں ہے ۔ تیسری ریاست کیا اس ٹکرائو کو اس کے انجام تک پہنچائے گی یا اسے ایک نیا رخ دے گی ،یہ وقت ہی بتا سکتا ہے ۔ہندوستان کی تاریخ اور تقدیر دونوں ایک فیصلہ کن موڑ پر ہیں ۔ یہ پہلی دو مذہبی ریاستوں کے مقابلے میں ایک بہت بڑا ملک ہے جس کے اثرات بھی عالمی سطح پر بہت وسیع ہوں گے ۔ اگلے دس سال میں اس کی آبادی دنیا کے سب سے بڑے آبادی والے ملک چین کے برابر ہوجائے گی ۔ اس ملک میں غربت بھی ہے اور جہالت بھی ۔ اس میں مذہبوں، تہذیبوں ، نسلوں اور گروہوں کی بہتات ہے، اس لئے اس کے اندر ونی حالات کیا کروٹ لے سکتے ہیں ،اس کے بارے میں بھی کچھ کہنا مشکل ہے ۔ اگلے پانچ سال اس ملک کے حالات اور عالمی سطح پر اس کے نئے اوتار کے اثرات بھاری تبدیلیوں کے حامل ہوںگے ۔
اب ہر ذہن میں یہ سوال ہے کہ ایسا کیسے ہوا ۔سب سے مقبول سوچ یہ ہے کہ ہندو قوم پرستی کے تصور اور مودی کی شخصیت کے جادو سے یہ کرشمہ ہوا جس کے نتیجے میں اس ملک کی سب سے عظیم شخصیت گاندھی اوراس کی سوچ بھی مٹ گئی ۔ پرگیا ٹھاکر کو انتخابی میدان میں اتارنا اور اس کی جیت اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے لیکن یہ محض ایک وجہ ہے ۔ سب سے بڑی وجہ امیت شاہ کی بے پناہ محنت ، شاندار منصوبہ بندی ، استقلال اور بی جے پی کی تنظیمی قوت ہے جس نے ہندوستان کی شناخت کو یکسر تبدیل کرکے رکھدیااوراس انتخاب کے نتیجے میں جس ہندوستان کا جنم ہوا وہ گاندھی ، نہرو ، ابوالکلام اور سردار پٹیل کا ہندوستان نہیں ۔ ایک مختلف ہندوستان ہے جس کا حقیقی چہرہ ابھی پوری طرح سے واضح نہیں ہوسکا ہے ۔ اگلے پانچ سال میں یہ بات سامنے آئے گی کہ ہندوستان کی کونسی شناخت مستقل اور معتبر ہے۔بی جے پی ایک نظریاتی جماعت ہے جس کو ہندوستان کے عوام نے قبولیت بحشی ہے ۔ اب حکومت اسی نظرئیے کے ہاتھوں میں ہے ۔ پچھلے پانچ سال میں اس جماعت نے زمینی سطح پر کوشش کی کہ اداروں کو اور حکومت کی پالیسیوں کو اسی نظرئیے کی بنیاد پر چلایا جائے لیکن یہ کام اس طرح سے نہیں کیا گیا کہ کوئی سخت عوامی رد عمل پیدا ہوتا اور مد مقابل نظرئیے کو اس کا سیاسی فایدہ حاصل ہوتا ۔ اس کوشش کے بجائے بی جے پی نے پارٹی کو مضبوط بنانے اور اگلے انتخابات میں بھرپور اکثریت حاصل کرنے کی تیاریاں کیں یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی اور اس کے نتیجے میں اب ایک مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ بی جے پی اور نریندر مودی جی کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ ڈور آگئی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ کشمکش ختم ہوگئی جو اس عرصے میں ہندوستان میں متضاد نظریات کے درمیان جاری رہی ہے ۔ یہ کشمکش جاری رہے گی اور پانچ سال کے بعد پتہ چلے گا کہ ملک گاندھی جی کے نظریات کو ہمیشہ کے لئے دفن کرچکا ہے یا وہ نظریہ مرکر زندہ ہونے کی قوت رکھتا ہے ۔ نظریات اپنے آپ میں عام لوگوں کے لئے کسی کشش کا باعث نہیں ہوتے بلکہ قایدین کی ہمت ، صلاحیت ، عزائم اورمحنت نظریات کو آگے بڑھانے کے لئے لازمی ہوتے ہیں ۔ جس وقت سیکولر نظرئیے کو قد آور قایدین حاصل تھے ہندوستان میں اسی نظرئیے کا بول بالا تھا لیکن ان قایدین کے بعد ایک خلاء پیدا ہوا جس نے دوسرے نظرئیے کے لئے جگہ پیدا کردی اور اتفاق سے نریندر مودی جیسی بے پناہ انرجی رکھنے والا شخص سیاست کے افق پر ظاہر ہوا اور تیزی کے ساتھ ابھرا اس کے ساتھ امیت شاہ جیسا منصوبہ ساز سامنے آیا تو وہ تصویر بدل گئی جو ہندوستان کی شناخت تھی ۔ نریندر مودی ہندوستان کے عوام کو یہ یقین دلانے میں نہایت کامیاب ہوئے کہ ایک مضبوط قیادت صرف اور صرف وہی فراہم کرسکتے ہیں ۔ ہندوستان کا ووٹر اتنی سمجھ تو ضرور رکھتا ہے کہ اپوزیشن میں کوئی قاید ایسا نہیں جو مضبوط قیادت فراہم کرسکتا ۔ کوئی جماعت ایسی نہیں جو ہندوستان کو متحد رکھ سکتی اور کوئی فرد ایسا نہیں جو ملک کو درپیش چیلنجوں کے ساتھ ساتھ تعمیر کو ترقی کی راہ میں ملک کوآگے بڑھا سکتی ہے ۔ اگر کسی فرد پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف نریندر مودی ہے چنانچہ اسے ان لوگوں نے بھی اعتماد دیا جو پوری طرح سے ان کی سوچ کے ساتھ اتفاق نہیں رکھتے ۔
’’ ہفت روزہ نوائے جہلم سرینگر‘‘