محمد کفیل
ا سلام دین فطرت ہے،اسی لئے یہ محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے، جو انسانی وجود کے ظاہری خدوخال سے با طنی کیفیات تک اور انفرادی عمل سے اجتماعی نظام تک مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ خاندان اس نظام کی بنیادی اکائی ہے اور والدین و اولاد کا تعلق اس کی روح۔یہ رشتہ محض حیاتیاتی اور سماجی نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی، نفسیاتی اور روحانی تعلق بھی ہے، جسے دین ِ اسلام نے غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ لیکن عہدِ معاصر کا المیہ یہ ہے کہ تربیت کو یا تو مغربی نفسیات کے سانچے میں ڈھال کر شُتر بے مہار کر دیا گیا ہے یاروایتی حصار کے ایک غیر اسلامی قالب میں قید کر کے یک رُخی بنا دیا گیا ہے۔نتیجتاً وہ توازن جو سنتِ نبویؐ کی اساس ہے، ہمارے خاندانی نظام سے رفتہ رفتہ مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ بالخصوص ہمار ے روایتی مشرقی معاشرے میں والدین کے حقوق کو تو مذہبی تقدیس حاصل ہے، مگر بچوں کی عزتِ نفس،جذباتی حرمت اور حقوق یا تو نظرانداز کر دئیے گئے یا اُ نہیں جدیدیت کے کھاتے میں ڈال کر مشکوک بنا دیا گیاہے، حالانکہ ا سلام میں حقوق کا تصور یک طرفہ نہیں، بلکہ باہمی ذمہ داریوں سے وابستہ ہے۔ اس تناظر میں منہجِ نبوی ؐ کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آپؐ کا بچوں کے ساتھ تعلق محض شفقت تک محدود نہ تھا، بلکہ آپؐ نے اپنی عملی سنت کے ذریعے انہیں معاشرتی وقارو احترام بھی عطا فرمایا۔حضرت فاطمہؓ کی تشریف آوری پر کھڑے ہوکر استقبال کرنا،ہاتھوں کو بوسہ دینااور صاحب زادیؓ کو اپنی جگہ پر بٹھا نا،حضرت حسنؓ و حسینؓ کو اپنے کندھوں پر سوار کرنا، دورانِ نماز حا لتِ سجدہ میں نواسوںؓ کا آپؐ کی پیٹھ پر سوار ہو جانا اور اس موقع پر آپ ؐ کا نواسوںؓکی خاطر اپنے سجدے کو طول دینا، بچوں کو سلام میں پہل کرنا،اُن کو مجلس میں جگہ دینا، ان کی بات پر ہمہ تن گوش ہو جانا، غلطی پر سختی کے بجائے حکمت سے اصلاح کرنا،یہ سب نبوی طرزِ تربیت کے مظاہر ہیںکہ اسلام میں بچّو ں کی عزتِ نفس، جذبات، نفسیات اور داخلی دنیا قابلِ احترام ہے۔ یہاں تربیت کا مطلب دبانا نہیں بلکہ اُ بھارنا ہے، ڈرانا نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرنا ہے۔
حضرت انسؓ بن مالک فرماتے ہیں:’’میں نے دس برس رسول اللہؐ کی خدمت کی، آپؐ نے کبھی اُف تک نہ کہا۔‘‘(صحیح بخاری:کتاب الأدب) یہ روایت محض اخلاقی حسن کا بیان نہیں بلکہ اسلامیPhilosophy Parenting کا بنیادی اصول ہے کہ اصلاح تحقیر سے نہیں، تربیت تشدد سے نہیں اور اطاعت خوف سے نہیںبلکہ محبت، شفقت،حکمت اور اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔اس کے برخلاف ہمارے عہد کا روایتی معاشرہ تربیت کو ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھال چکا ہے، جہاں بعض جگہوں پر والدین اورسرپرستوںکو مطلق اختیار حاصل ہے اور بچہ ایک خاموش تابع کی حیثیت رکھتا ہے۔’’ہم زیادہ جانتے ہیں‘‘،’’ہم نے قربانیاں دی ہیں‘‘،’’ابھی تم بچّے ہو، عقل نہیں آئی‘‘یہ جملے بظاہر خیرخواہا نہ لہجے میں ہوتے ہیں ،مگر بعض ا وقات ان کے پیچھے ایک گہرا نفسیاتی جبر کارفرما ہوتا ہے۔ بچے کی رائے کو گستاخی اور اختلاف کو نافرمانی قرار دے دینا دراصل اس کے انسانی وجود سے انکار کے مترادف ہے اور یہ رویہ سنتِ نبویؐ کے منافی اوراسلامی تصورِ عدل کے خلاف ہے۔
اسلامی تعلیمات میں اولاد کے حقوق کوئی ثانوی یا اختیاری مسئلہ نہیں بلکہ ایک واضح شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہیں۔ بچے کو عزت دینا، اس کی بات سننا، اس کے ساتھ انصاف کرنا، اس کی نفسیاتی سلامتی کا خیال رکھنا اور اسے خوف کے بجائے محبت کے ماحول میں پروان چڑھانا،یہ سب والدین اور سرپرستوں پراِسی طرح لازمی ہیں جیسے بچوں پر اُن کا احترام۔ اس کے باوجود آج ہمارے مذہبی بیانیے میں یہ پہلو شاذ ہی زیرِ بحث آتا ہے۔یہاں سب سے زیادہ توجہ طلب پہلو علماء اور خطباء کا وہ یک رُخی بیانیہ ہے جو دہائیوں سے منابر پر دہرایا جا رہا ہے۔اس میں والدین کے حقوق کا تذکرہ تو ملتا ہے، مگر بچوں کے حقوق پر بالعموم خاموشی طاری رہتی ہے۔ اس خاموشی نے ایک ایسا فکری خلا پیدا کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نسلِ نودین کو توازن نہیں بلکہ جبر کی علامت سمجھنے لگی ہے۔ وہ اطاعت تو کرتی ہے، مگر بادِ لِ ناخواستہ، وہ احترام تو دکھاتی ہے مگر خوف کے سائے میں۔
بعض گھر و ں میں نظم و ضبط کے نام پر ہیبت و رعب کو اس حد تک مقدم کر دیا جاتا ہے،کہ بچوں کے لیے گھر میں موجودگی تحفظ، اطمینان اور خوشی کے بجائے ذہنی دباؤ اور خوف کی علامت بن جاتی ہے، ایسی فضا میں بچہ فطری انداز میں اپنی بات کہنے کے بجائے محتاط خاموشی اختیار کر لیتا ہے، یا سچ اور فطری خواہشات و جذبات کے اظہار کے بجائے وہی کہتاہے جو اس مرکزِ ہیبت کو قابلِ قبول ہو۔ اس طرزِ پرورش سے بظاہر ایک وقتی نظم و ضبط تو قائم رہتا ہے، مگر نفسیاتی اعتبار سے بچے کی خود اعتمادی، اظہارِ ذات اور داخلی توازن متاثر ہوتا ہے اور یہی دبی ہوئی کیفیت آگے چل کر یا تو شدید جذباتی احساسِ محرومی میں ڈھل جاتی ہے یا والدین کے خلاف باغیانہ ردِعمل اختیار کر لیتی ہے۔ جس کے بعد اہلِ خانہ شکوہ کرتے ہیں کہ بچہ فرمابردارنہیں رہا اور اس کی اصلاح کے لیے تعویذ و گنڈے جیسے سہاروں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، حالانکہ اس انجام تک پہنچانے والا اصل سبب وہی ہیبت زدہ گھریلو ماحول اور اہلِ خانہ کا تلخ و تُرش رویہ ہوتا ہے۔یہ حقیقت بھی توجہ طلب ہے کہ جدید نفسیات اور سماجی علوم اِس حوالے سے جن نتائج پر پہنچے ہیں، ان کی بڑی حد تک توثیق سنتِ نبویؐ سے ہوتی ہے۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جن بچوں کی پرورش احترام، مکالمہ اور جذباتی تحفظ کے ماحول میں ہوتی ہے، اُ ن کی شخصیت زیادہ متوازن، ذمہ دار اور بااعتماد انسان میں ڈھلتی ہے۔ اس کے برعکس سختی، تحقیر اور مسلسل دباؤمیں پلنے والے بچے میں یا تو باغیا نہ ردِّ عمل جڑ پکڑ تاہے یا اُن کی داخلی دنیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ رسولِ اکرم ؐ نے صدیوں پہلے یہ اصول دیا تھا کہ: ’’ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے، اسے زینت عطا کر تی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جائے، وہ بدنما ہو جاتی ہے ‘‘۔ (صحیح مسلم:۲۵۹۴ ) مگر ہم نے اس اصول سے عملی رہنمائی حاصل نہ کی۔اسلامی معاشرہ اس وقت تک متوازن نہیں ہو سکتا جب تک والدین اور اولاد کے تعلق کو محض حکم اور اطاعت کے بجائے اعتماد، عزت اور ذمہ داری کے فریم میں نہ دیکھا جائے۔ والدین قابلِ احترام ہیں، مگر بچے بھی قابلِ سماعت ہیں۔ والدین کی قربانیاں مسلم ہیں، مگر بچوں کے جذبات بھی حقیقت ہیں۔ اطاعت کا مطالبہ اپنی جگہ، مگر شفقت و عزت کی فراہمی اس سے پہلے آتی ہے۔رسولِ اکرم ؐ کا ارشاد ہے:’’جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں‘‘(سنن ترمذی:۱۹۲۱ ) اس حدیثِ مبارکہ میں ترتیبِ بیان خود ایک تربیتی اصول کی حیثیت رکھتی ہے؛ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ آقا ؐ نے بڑوں کے احترام کے ذکر سے قبل،چھوٹوں پر رحم کو مقدم فرمایا، گویا یہ اشارہ دے دیا گیا کہ معاشرتی توازن کی بنیاد جبر و خوف نہیں بلکہ شفقت و رحم ہے۔ جب بڑوں کی طرف سے چھوٹوں کے ساتھ شفقت، وقار اور حسنِ سلوک کا معاملہ کیا جاتا ہے توچھوٹوں کے دِ لوں میں اُن بڑوں کا احترام از خود تخلیق پا تاہے، کسی خارجی حکم یا دباؤ کا محتاج نہیں رہتا۔ مذکو رہ حدیثِ مبارکہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ احترام کا راستہ رحم سے ہو کر گزرتا ہے اور جو معاشرہ اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے، وہاں احترام باقی رہتا ہے، نہ رحم،صرف خاموشی اور فاصلے جنم لیتے ہیں۔اگر ہم نے اپنے مذہبی خطبا ت میں یک رُخی بیانیے کی اصلاح نہ کی ، والدین اورسرپرستوںکو اُن کے حقوق کے ساتھ بچوں کے اِن حقوق کااحساس نہ دلایا تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو یا تو مذہب بیزار ہوگی یا مذہب کے ساتھ اس کا تعلق عملی تضاد کا شکار ہو گا۔ سنتِ نبویؐ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ بچہ ملکیت نہیںا مانت ہے،بوجھ نہیں ذمہ داری ہے اورمحض حکم کاتابعدار نہیں بلکہ محبت اور احترام کا مستحق بھی ہے۔ یہی فہم اگر ہمارے منابرسے گھروں میں راسخ ہو جائے تو نہ صرف موجودہ تربیتی بحران ختم ہو سکتا ہے بلکہ ایک صحت مند، بااخلاق اور متوازن اسلامی معاشرہ بھی تشکیل پا سکتا ہے۔
رابطہ۔8299892440
[email protected]
��