محمد اشرف بن سلام
زمانہ ٔ قدیم سےضلع بڈگام ایسے جلیل القدر دوست خدا اور صوفی شعراءکا مسکن رہاہے ،جنہوں نے اپنے روحانی اور آفاقی کلام سےجہاں لوگوں کے اذہان و قلوب کو روشن کردیئے ہیں وہیں اُجڑے چمن بھی شاداب کرچکےہیں۔ اسی ضلع کے علاقہ سویہ بگ میں رہنے والے سیدعلاالدین حقانی ؒ ،جن کا لقب ’علی‘ تھا،ایک درویش و قادر الکلام شاعر تھے
،جن کے عارفانہ کلام میں مرکزی موضوع اللہ کے ساتھ قربت ، دنیا سے بے رغبتی اورربّ کے ساتھ ’’عشقِ حقیقی‘‘ تھا،نیزاُن کا کلام فلسفہ و روحانی پاکیزگی کا طریقہ بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان عظیم شخصیتوں میںروحانی پیشوا حضرت علمدار کشمیرؒ اور ممتاز صوفی شخصیات میںسیدعلاالدین حقانی ،شاہ شمس فقیر، جناب صمدمیر ، امدکھاراور شاہ غفور وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان تمام صوفی شاعرں کے عارفانہ کلام میں عشقِ حقیقی کے اسرارورموز پوشیدہ ہیںاور ان کے کلام لوگوں میں مقبول ہیں۔ ابن حقانی ؒ کی شاعر ی میں سے کچھ حصہ شائع ہوچکا ہے اور کچھ قلم بند ہورہا ہے۔سیدعلاالدین حقانی ابن سید عزیز اللہ حقانی ؒ کے کلام میں علم عرفان کے ایسے بیش بہا دریا رواں دواں ہیں ،جن سے مرجھائے ہوئے دِلوں اور اُجڑے ہوئے باغوںکو دوبارہ بہار آجاتی ہے۔ ان روحانی بزرگوں کے کلام کا نچوڑ ہے کہ دل کی بنجر زمین کو یادِ خدا اور عشق محمد ؐ کی آبیاری سے ہی گلزار بنایا جاسکتا ہے ۔
راقم سیدعلاالدین حقانی ؒکےیو مِ وصال پر خراج عقیدت کرتے ہوئے آپؒکی زندگی اور شاعری پر مختصر تبصرہ پیش کررہا ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل اپنے اسلاف کے کارناموں ،انکے کردار اور انکی علمی ،روحانی اور فکری میراث سے روشناس ہوجائیں، اُنہیں معلوم ہوجائے کہ ہمارے صوفیاءکرام ،بزرگان دین اور علماءکرام جنہوں نے روحانیت کے ساتھ ساتھ انسانیت کی تعلیم دی ہےاور تمام مخلوق کو عیال ِخدا قرار دیا ہے۔ابن حقانی ؒ کی شخصیت ایک بااثر دوست ِخدااور ایک بڑے صوفی شاعر کی حیثیت سےایک الگ پہچان ہے۔اُن کے شاعر ی میں تصوف اور سکون نظر آتا ہے۔انہوںنے تصوف کا ہر پہلو اپنے کلام میں بیان کیا ہے۔ مثلاً،عرفانِ ذات، عرفانِ خداوندی، احترامِ آدمی، وحدت الوجود وغیرہ ان کے کلام میں جابجا ملتے ہیں۔چنانچہ سیدالسّادات امیرکبیر میرسید علی ہمدانی ؒ کے وادی میں قدم مبارک پڑتے ہی آپؒ نے کشمیر کو باغ سلیمان کا لقب سے نواز ،یہی وجہ ہے کہ یہاں تصوف کے ساتھ شاعری کا ایک دیرینہ رشتہ نظر آتا ہے ۔
سیدعلاالدین حقانی ؒ اُن عظیم المرتب صوفی بزرگ اور روحانی شخصیت کے مالک تھے،جنہوں اپنی پوری زندگی مخلوق خدا کی خدمت کی اور انہیں صرا ط مستقیم پر گامزن کر تے رہے ۔ وہ علم و عمل کے پیکر اور سچے عاشق رسول ؐتھےاور قرآن مجید اور سنت رسولؐ کے روشن چراغوں میں سفرکرنے کی رہنمائی کرتے تھے۔ انہی دونوں چراغوں کی روشنی میں راہِ سلوک ہےاورراہِ سلوک کا روحانی سفرمیں انسان اپنے باطن کی اصلاح اور اللہ سے قربت حاصل کرتاہے۔بے شک جو خود کو سنوارتا ہے، اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے اور پھر مخلوق کی رہنمائی کرتا ہےاور رسول رحمتؐکی سیرت کو مشعلِ راہ بناتاہے،وہی راہِ سلوک کا اعلیٰ مقام پاتا ہے،جس سےنہ صرف وہ خود روشن ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی روشنی کا ذریعہ بنتا ہے۔سید علاالدین حقانی ؒ کی پیدائش لطائف الحقانی کے مطابق 1298 ہجری کو ہوئی۔ آپ کے والد گرامی سید عزیز اللہ حقانی ،ریاست کے معروف عالم،عالم، صوفی ، ادیب ، مفکر اور مورخ تھے۔ ابتدائی تعلیم پہلے والد مکرم سے اور بعد ازاں معروف علماءکرام جناب مفتی ضیا الدین اور مولانا غلام محی الدین دکان سنگین سے حاصل کی۔ابتدائی ایام نرپرستان میں بِتانے بعد میں آپ کے والد نے بٹوارہ سرینگر میں سکونت اختیار کی اوروہیں رہنے لگے ، زندگی کا آخری حصے میں سویہ بڈگام میں رہایش پذیر تھے اوروالد گرامی کے وصال کے بعد آپ ؒ نے لوگوں کو رشدو ہدایت اور راہِ عرفان میں رہبری کی۔ آپؒ کے فیض کدے پر لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا جو آج تک جاری ہے۔سیدعلاالدین حقانی ؒ لوگوں کے ساتھ میل جول اور انکی حاجت روائی کیلئے دعائوں ،راہ حق کے طالبوں،درویشوں اور فقیروں کے ساتھ تصوف کے بارے میں گفتگو میں محو رہتے۔اخلاق و آداب کا پندونصائح کے ذریعے درس دیتے۔ابن حقانی ؒ کو شعر و شاعری سے بھی رغبت تھی ۔ تخلص ابن حقانی اور کہیں کہیں علی بھی استعمال کرتے تھے،انکے شاعرانہ کلام میں نعوت ،مناقب اور غزلیات شامل ہیں ،کشمیری زبان و ادب میں ان کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ تصوف کے رموز کو وہ شاعری کے پیراہن میںپیش کرتے تھے۔
سوموار کا دن تھا 27 رجب المرجب کی بابرکت تاریخ تھی ،معراج نبویؐ کی صدائیں ہر سو اپنا نور بکھیر رہی تھیں،سید علاوالدین حقانی ؒنے اپنے بھتیجے اور خلیفہ خاص سید محمد سعید حقانی کو اپنا مندرجہ کلام سنانے کی فرمائش کی۔
یارسول کر قبول آرزو سانی ۔کر مہربانی ہاو دیدار
سو تہ آسہ امتس منتھاہ چانی ۔کر مہربانی ہاو دیدار
اسی معراج مقدس کی رات نیم شب کو آپ وصال فرماکر مالک حقیقی سے جا ملے۔اَنا لِلّہٰ ِ واِنا اِلیہِ راجعون۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں توحید اور سنت رسولؐ کےساتھ ساتھ صالحین واولیاءکاملین کی اِتباع کی توفیق عطا کرے۔ آمین
<[email protected]