راقف مخدومی
آج کے دور میں کچھ لوگ خود کو علماء کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’صحابہ کرامؓ صرف تاریخی شخصیات ہیں۔‘‘ حالانکہ صحابہ کرامؓ وہ ہیں جنہوں نے ہمیں اسلام پہنچایا اور ہمیں اسلام سکھایا۔قرآن مجید ہمیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ہمیں عملی طور پر سکھایا کہ اللہ کے راستے میں کیسے خرچ کیا جائے۔ جب غزوہ تبوک کا وقت آیا اور نبی کریمؐ نے عطیہ (صدقہ) کا مطالبہ کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے نبی کریمؐ کے اشارے پر اپنا سب کچھ دے دیا۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ؐ سے زیادہ محبت کرو اپنی دولت، محنت کی کمائی، کھیتی باڑی اور خاندان سے۔ صحابہ کرام ؓ نے اس کی عملی مثال پیش کی۔ جنگ بدر اسلام کی پہلی جنگ اس کی زندہ مثال ہے۔ ایک صحابی نے اپنی تلوار نکالی اور اعلان کیا: ’’آج کوئی ہے جس کا سر میری تلوار سے کاٹا جائے؟‘‘ ایک بوڑھا آدمی سامنے آیا، لیکن صحابی نے اسے نظر انداز کر دیا۔ پھر اسی الفاظ کو دہرایا، وہی ہوا۔ جب تیسری بار وہی بات دہرائی گئی تو وہ شخص مارا گیا۔یہ دیکھ کر دوسرے صحابہ حیران ہوئے اور پوچھا، ’’تم نے اسے دو بار چھوڑ دیا لیکن تیسری بار مار دیا؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’یہ میرا باپ ہے۔ پہلی دو بار میرے رشتے نے مجھ پر غلبہ کر لیا، لیکن تیسری بار جب وہ آیا تو مجھے فیصلہ کرنا پڑا کہ کیا میں اپنے باپ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول ؐ سے محبت کرتا ہوں، اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا۔‘‘ یہ وہ کام ہے جو انہوں نے اسلام کے لیے کیا۔
اور اب آج کوئی شخص اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے یوٹیوب پر ویڈیوز اَپ لوڈ کر کے ان عظیم صحابہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور ہمیں اسے ماننا پڑے گا؟ جن لوگوں کا صحابہ کرامؓ کی نیتوں پر شک ہو، انہیں اپنا ایمان مضبوط کرنا چاہیے، کیونکہ جو شخص کسی بھی صحابی کی نیت پر شک کرے، اس کا ایمان نامکمل ہے۔بدقسمتی سے ہم اسے ’’علم‘‘ کی نشانی سمجھتے ہیں کہ کسی صحابی کو رَد کر دیں۔ لیکن یہ علم نہیں بلکہ ہلاکت کے راستے پر چلنا ہے۔پھر ایک گروہ ہے جو موازنہ میں پڑ جاتا ہے، وہ احادیث پیش کرتے ہیں جن سے ایک کو دوسرے پر برتری کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ یہ نظریہ بھی ناقابل قبول ہے۔ تمام صحابہ کرامؓ قابل احترام ہیں اور ہر ایک کا اپنا الگ مقام ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جن کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ خود اُنہوں نے کبھی ایک دوسرے پر برتری نہیں دی تو ہم کیسے اس میں پڑ جائیں؟ اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ نبی کریم ؐ کے بعد سب سے بہتر شخص حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں، لیکن اس سے دوسرے صحابہ کی فضیلت کم نہیں ہوتی۔حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں نبی کریم ؐ نے فرمایا، ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘حضرت عثمان غنیؓ وہ ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم ؐ نے فرمایا، ’’عثمان ؓ !اگر محمدؐ کی 70بیٹیاںبھی ہوتی تو وہ ایک کے بعد تم سے نکاح کرادیتے‘‘‘ حضرت علیؓ کے بارے میں نبی کریمؐ نے فرمایا،’’جس کا میں مولا ہوں، علی اس کا مولا ہے۔‘‘کیا ان چاروں صحابہؓ کے لیے کوئی موازنہ کی گنجائش ہے؟ بالکل نہیں۔ میں نے ان کا ذکر خاص طور پر کیوں کیا؟ کیونکہ اکثر ان چاروں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے۔اُنہوں نے کبھی ایک دوسرے کا موازنہ نہیں کیا۔ لیکن آج کے نام نہاد ’’عالم‘‘ ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک دوسرے سے بہتر ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا، ’’اگر کوئی شخص مجھے حضرت ابوبکر ؓ یا حضرت عمرؓ پر فوقیت دے تو میں اُسے کوڑے لگاؤں گا۔‘‘ جب حضرت علیؓ کو پتا چلا کہ کچھ لوگ یہ پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں کہ علی اُن دونوں سے بہتر ہیں تو اُنہوں نے فوراً حکم جاری کیا کہ اسے روکا جائے۔ یہ پروپیگنڈا عبداللہ بن سبا نے پھیلایا، جس نے بعد میں حضرت عثمان ؓ کو شہید کیا، اسے سباہی فتنہ بھی کہا جاتا ہے۔سباہی فتنہ کا واحد مقصد مسلمانوں کو تقسیم کرنا اور ایک دوسرے میں نفرت پیدا کرنا تھا۔ وہ اُس وقت ناکام ہوا، لیکن اکیسویں صدی میں اُسے بہت سے حامی مل گئے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ وہ ہیں جنہیں نبی کریمؐ نے نماز کی امامت کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ لیکن آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ’’حضرت ابوبکرؓ خود بخود نماز پڑھانے آ گئے۔‘‘ وہ ابوبکر صدیق ؓ جنہوں نے نبی کریم ؐ کے حکم پر صدقہ کے وقت اپنا پہنا ہوا کپڑا بھی دے دیا، اُن پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے نبی کریمؐ کے حکم کے بغیر کچھ کیا۔صرف یہ چار نہیں بلکہ تمام صحابہ کرامؓ ایک دوسرے سے بے لوث محبت کرتے تھے۔ حدیث کی کتابیں ان کے ایک دوسرے کی دیکھ بھال کی کہانیوں سے بھری پڑی ہیں۔اگر موازنہ کی بات ہو تو نبی کریم ؐنے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے لیے جو الفاظ استعمال کئے، وہ کسی اور صحابی کے لیے نہیں استعمال کئے۔ جنگ ِاحد کے موقع پر نبی کریمؐ نے فرمایا، ’’تیر چلائو سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان!‘‘ حضرت سعدؓ کے سوا کسی اور کے لئے یہ الفاظ نہیں کہے گئے۔نبی کریمؐ نے ان کے لیے دعا بھی کی، ’’اے اللہ! جب سعد تجھ سے دعا مانگے تو اس کی دعا قبول فرما۔‘‘ اس لئے وہ اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا۔ حضرت خباب بن ارتؓ کو جلتے ہوئے کوئلوں پر لٹایا گیا، ان کی چربی جل کر بجھاتی تھی، ان کوئلوں کو، لیکن انہوں نے اسلام نہیں چھوڑا۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓ بہت امیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، وہ ایسا خوشبو لگاتے تھے کہ جہاں سے گزرتے، اس کا اثر رہ جاتا، لوگ کہتے کہ مصعب ابھی گزرے ہیں۔ لیکن جب اسلام لایا تو گھر سے نکال دیا گیا۔ حضرت صہیب رومیؓ بھی امیر خاندان سے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دن میں دس کپڑے بدلتے تھے، لیکن جب اسلام لایا تو گھر سے ننگا کر کے نکال دیا گیا۔