سہیل بشیر کار
شیخ العالم کا ابتدائی دور کشمیر کی تاریخ میں ایک سنہری دور کہلاتا ہے۔ آپ کی ولادتِ باسعادت 779ھ بمطابق 1377ء میں ہوئی۔ آپ اس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ آپ کی ولادت کے وقت ہی حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ اپنے سینکڑوں رفقائے کرام کے ہمراہ کشمیر وارد ہوئے تھے، جہاں امیر کبیر اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے عام لوگوں نے اسلام قبول کیا، وہیں برہمنوں، سادھوؤں اور جوگیوں نے بھی قبولِ حق کی راہ اپنائی۔
حضرت شیخ العالم کے آبا و اجداد کشتواڑ کے رہنے والے تھے۔ حضرت شیخ کے جدِ امجد بڑے اثر و رسوخ کے مالک تھے، وہ ہندوؤں کے معزز خاندان راجپوت سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے چرار شریف کے نزدیک تلہ سر گاؤں میں قیام کیا۔ شیخ کے والدین ریشی تھے۔ جب کشمیر میں داعیانِ اسلام نے دعوتِ اسلام پیش کی تو ان کے والد نے اسلام قبول کیا۔ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے بعد شیخ العالم کے والدین پختہ مسلمان بن گئے۔
جب شیخ کی ولادت ہوئی تو ان کا نام نورالدین رکھا گیا اور گھر والے انہیں نند کہتے تھے۔ شیخ العالم کے والدین چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا عالم و فاضل بنے، لہٰذا انہوں نے اس کے لیے کوشش کی۔ اگرچہ مورخین اس بارے میں خاموش ہیں کہ حضرت شیخ کی تعلیم کیسے ہوئی، البتہ ان کے شاعرانہ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اسلامی علوم پر گہری نظر حاصل تھی بلکہ آپ بہت سے فنون سے بھی واقف تھے۔ اسداللہ آفاقی یہاں تک کہتے ہیں کہ شیخ کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ حافظِ قرآن بھی تھے۔ مزید لکھتے ہیں کہ آپ عربی، فارسی، سنسکرت، پالی اور کشمیری زبانوں سے بھی واقف تھے۔
ان کی شادی کم عمری میں ہی ڈاڈ سر، ترال میں ہوئی۔ ابتدا میں آپ نے زمینداری بھی کی۔ چونکہ ابتدا میں آپ ریشیت سے متاثر تھے، لہٰذا آپ نے 22 سال کی عمر میں غار نشینی اختیار کی۔ ان کے نزدیک اس طرح دنیا سے دوری پیدا ہوتی تھی۔ جب شیخ کی عمر تیس سال ہوئی تو انہوں نے غار نشینی کو ترک کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے ایک داعی، مبلغ اور مصلح کے طور پر کام کیا۔ آخر عمر تک آپ سیر و سیاحت کرتے رہے، مختلف افراد سے مکالمہ کیا اور اس طرح ہزاروں لوگ آپ کی دعوت سے متاثر ہوئے اور دینِ اسلام میں داخل ہوئے۔
آپ کا انتقال 1440ء میں ہوا۔ شیخ العالمؒ کا مدفن چرارِ شریف، ضلع بڈگام، کشمیر میں ہے۔
زیرِ تبصرہ 280 صفحات پر مشتمل کتاب “شیخ العالم حضرت شیخ نورالدین ولی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ” کشمیر کے نامور لکھاری خاکی محمد فاروق صاحب کی تصنیف ہے۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن 2012ء میں شائع ہوا، البتہ تصحیح و اضافہ شدہ ایڈیشن 2025ء میں منظرِ عام پر آیا۔ مصنف نے کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔
کتاب کے پہلے باب “حضرت شیخ کی ابتدائی زندگی اور ان کی دعوت کے اصول و آداب” میں مصنف نے پہلے ریشیت کے معنی بیان کیے ہیں، اس کے بعد اس زمانے کے احوال بیان کیے ہیں جن میں شیخ نے آنکھ کھولی۔ پھر شیخ کے خاندان کا تذکرہ، والدین کے قبولِ اسلام کا واقعہ، ولادت اور بچپن کا بیان، شادی اور غار نشینی کا واقعہ پیش کیا ہے۔ غار نشینی سے شیخ کو دور رکھنے میں ان کی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ ہونے والے مکالمے کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ جب شیخ کی عمر تیس سال ہوئی تو آپ نے غار نشینی سے توبہ کی اور دعوتِ دین کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
شیخ کی دعوت کے اصولوں کے تحت توحید، رسالت، آخرت، اتباعِ قرآن، اسلامی فرائض کی پابندی اور عالم گیر اخوت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اسی باب میں مصنف لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ کی دعوت میں انتہائی دردمندی تھی، ان کے کلام میں ادب، احترام، محبت اور شفقت جھلکتی ہے۔ ان کی دعوت چاہے مسلمانوں کے لیے ہو یا غیر مسلموں کے لیے، اس میں غیر معمولی احترام پایا جاتا تھا۔ مصنف کے مطابق حضرت شیخ لوگوں کو جس بات کی دعوت دیتے، اس پر سب سے پہلے خود عمل پیرا ہوتے تھے۔
اسی باب میں مصنف نے حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ اور حضرت شیخ العالمؒ کے طریقۂ دعوت کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ حضرت امیر کبیر نے دعوت و تبلیغ کی کامیابی کے لیے سلاطین و امراء سے روابط استوار کیے اور ان کی اصلاح و تربیت پر خصوصی توجہ دی، جبکہ حضرت شیخ العالم نے وزراء و امراء اور صاحبِ اثر افراد سے بے نیاز ہو کر عام لوگوں کی اصلاح کو ترجیح دی۔ اسی طرح حضرت امیر کبیر نے سرینگر کو مرکز بنایا، جبکہ حضرت شیخ نے شہر سرینگر کو نظر انداز کر کے دیہاتی علاقوں کی طرف خصوصی توجہ دی۔
مصنف لکھتے ہیں:
“حضرت امیر کبیر اور حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہما کے طریقۂ تبلیغ کا ایک نمایاں فرق یہ تھا کہ حضرت امیر کبیر، میر محمد ہمدانی اور دیگر داعیانِ اسلام کی زبان عالمانہ اور فاضلانہ تھی۔ اس کے ساتھ ان میں اکثر لوگوں کی مادری زبان عربی یا فارسی تھی، جبکہ ان زبانوں سے ابتدا میں یہاں کے لوگ نا آشنا تھے۔ اس کے برعکس حضرت شیخ رحمہ اللہ اور ان کی جماعت سے وابستہ افراد کا طرزِ گفتگو اور زبان عالمانہ ہونے کے بجائے عام فہم تھی۔ اس کے علاوہ ان کی زبان کشمیری یا سنسکرت تھی، چونکہ یہی دو زبانیں یہاں کی مقامی زبانیں تھیں۔” (صفحہ 74)
کتاب کے دوسرے باب “حضرت شیخ نورالدین ولی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کی تبلیغی زندگی آغاز سے آخر تک” میں مصنف لکھتے ہیں کہ جب شیخ العالم نے غار نشینی کی زندگی ترک کر کے دعوت کا کام شروع کیا تو اسی غار کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا پہلا مرکز بنایا۔ اس کے بعد شیخ العالم نے مختلف علاقوں کی سیر و سیاحت کی۔ ابتدائی سفر میں اسلام آباد کا رخ کیا، پھر سرینگر کا دورہ کیا جہاں بہت سے لوگوں نے دعوتِ حق قبول کی۔ اسی دوران حضرت میر علی ہمدانیؒ نے آپ کو کشمیر کی قیادت و سیادت سونپی۔ میر محمد ہمدانیؒ کا حضرت شیخ کے نام لکھا گیا خط اور اس کا ترجمہ بھی مصنف نے اسی باب میں شامل کیا ہے۔
بعد ازاں حضرت شیخ نے بارہمولہ، بیروہ اور بڈگام کا دورہ کیا، جہاں کئی سرکردہ افراد نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد آپ نے روپہ ون میں مرکزی دفتر منتقل کیا جو چرار شریف کے شمال میں ایک گاؤں ہے۔ اس دوران آپ کے خلاف سازشیں بھی ہوئیں۔ حضرت شیخ کی دعوت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے خواتین کے لیے بھی ایک علیحدہ شعبہ قائم کیا، جس کی پہلی سربراہ ان کی زوجہ زاہدہ بی بی تھیں۔
حضرت شیخ کا انتقال 63برس کی عمر میں ہوا۔ ہزاروں لوگوں نے آپ کا جنازہ پڑھا۔ انتقال کے وقت آپ کا جسدِ خاکی روپہ ون سے چرار شریف لایا گیا اور سنگرام ڈار کے وقف شدہ باغ میں دفن کیا گیا۔ اس باب میں مصنف نے حضرت شیخ کی شخصیت کا مختصر مگر نہایت خوب صورت خاکہ پیش کیا ہے۔
کسی بھی عظیم شخصیت کی تعلیمات کو پھیلانے میں اس کے خلفاء کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ تیسرے باب “حضرت شیخ کی تبلیغی تحریک کے ارکان و رفقاء” میں خاکی محمد فاروق صاحب نے شیخ العالم کے رفقاء اور خلفاء کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا ہے۔
حضرت شیخ کی تعلیمات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ آپ کے کلام کو عالمی شہرت حاصل ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم کیے گئے۔ کلامِ شیخ العالم کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرنے کے لیے مصنف نے چوتھے باب “حضرت شیخ العالم کے افکار و تعلیمات” میں مفصل روشنی ڈالی ہے۔ اس باب میں پہلے شاعری کو کتاب و سنت کی روشنی میں پرکھا گیا ہے، اس کے بعد شیخ العالم کی شاعری کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
مصنف لکھتے ہیں:
“حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلام کے مقررہ اصول و قواعد کے زندگی کے ہر شعبے میں پابند تھے، اس لیے ان کی شاعری کے پیچھے ایک عظیم مقصد اور نصب العین کارفرما تھا۔ ان کی شعر گوئی اسی مقصد و نصب العین کے گرد گھومتی ہے۔ وہ ایک نظریاتی، فکری اور پیغامی شاعر تھے۔ چونکہ ان کے فکر و عمل کا ماخذ قرآن و سنت تھا، اس لیے ان کا ہر شعر اور مصرعہ کسی نہ کسی قرآنی آیت یا حدیثِ رسول ﷺ کی ترجمانی یا تشریح پر مشتمل ہے۔ اسی لیے ان کے کلام کو عام کشمیری ‘شرحِ قرآن کہتے ہیں۔” (صفحہ 165)
مصنف مزید لکھتے ہیں:
“حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے زمانے کے سیاسی، سماجی، تہذیبی، تمدنی، انفرادی، اجتماعی اور مذہبی حالات و واقعات پر گہری نظر تھی۔ جب بھی وہ معاشرے میں کسی بدی یا برائی کو سر اٹھاتے دیکھتے تو اس کے خلاف آواز بلند کرتے اور لوگوں کو اس کی حقیقت سے باخبر کر کے اس سے بچنے کی تلقین کرتے تھے۔ اگرچہ بعض اوقات ان برائیوں میں عام لوگوں کے ساتھ امراء، وزراء، علماء اور صوفیاء بھی مبتلا ہوتے تھے، تب بھی وہ بلا خوف و خطر حق بات کہتے تھے۔ ان کے کلام میں نفس پرست علماء، بے عمل واعظوں، گمراہ دانشوروں، دھوکہ باز صوفیوں، دنیا پرست دولت مندوں اور جاہ پسند حکمرانوں کے طرزِ عمل پر کڑی تنقید ملتی ہے، اور انہیں بار بار حق و صداقت قبول کر کے راہِ راست اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔” (صفحہ 166)
مصنف نے 38 عنوانات کے تحت شیخ العالم کے کلام کو بیان کیا ہے، جن سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی شاعری ہمہ گیر اور فکر نہایت وسیع تھی۔
کتاب کے آخر میں ایک ضمیمہ بھی شامل ہے، جس میں حضرت شیخ العالم پر ہونے والے تصنیفی کام کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
مکتبہ اسلامیہ نوگام اس لحاظ سے قابلِ داد ہے کہ اس نے نہ صرف علمی کتابیں شائع کی ہیں بلکہ اعلیٰ معیار کی طباعت کا بھی خاص اہتمام کیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ہارڈ باؤنڈ ہے، کاغذ بھی اعلیٰ معیار کا ہے، اس کے باوجود کتاب کی قیمت صرف 350 روپے رکھی گئی ہے۔ یہ کتاب مکتبہ اسلامیہ نوگام، سرینگر کے واٹس ایپ نمبر 9682164457 کے ذریعے گھر بیٹھے حاصل کی جا سکتی ہے۔
مبصر سے رابطہ: 9906653927