یاسر بشیر
رسول اللہؐ کے فرمان کا مفہوم ہے’’میری امت کے بہترین لوگ میرے صحابہ ہیں،پھر اُن کے بعد والے لوگ،پھر اُن کے بعد والے لوگ‘‘۔مطلب کہ بات حضورؐ نے تبع تابعین تک کے لئے فرمائی ہے۔ان خوش قسمت اور سعادت مند لوگوں نے دین اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کردیا۔حتیٰ کہ ان سعادت مندوں نے اپنی جانیں تک اللہ کی راہ میں قربان کردیئے۔ان ہی خوش قسمتوں کے ذریعہ سے دین اسلام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا۔حضورؐ نے حجتہ الوداع کے موقعے پر اپنی سب ذمہ داری اپنے صحابہ کے سپرد کی اور ان کو حکم دیا کہ اللہ کا یہ دین دنیا کے کونے کونے تک پہنچاو۔حضورؐ کے حکم کے مطابق ان صحابیوںؓ نے دین اسلام کی خدمت کی۔حضورؐ کے ظاہری انتقال کے بعد بہت سے فتنے برپا ہوئے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں ارتداد کا فتہ برپا ہوا،حضرت عمر فاروقؓ کو شہید کردیا گیا،حضرت عثمانؓ کو بھی شہید کردیا گیا،حضرت علیؓ کے زمانے میں جنگ جمل اور جنگ صفین کے واقعات پیش آئے۔اس کے بعد خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوئی۔ امام حسین ؓ حضرت علیؓ کے صاحبزادے اور حضورؐ کے پیارےنواسے تھے۔یزید کی دور حکمرانی میں حضرت امام حسینؓ کو کوفے کے لوگوں نے کوفے آنے کی دعوت دی اور امام حسین کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا وعدہ کیا۔جب امام حسینؓ کو کوفے کے لوگوں کی طرف سے بہت سے خطوط آئے تو پھر انہوں نے سفر کا ارادہ کیا۔جب امام حسینؓ وہاں پہنچے تو وہاں کی صورتحال کچھ اور ہی تھی۔امام حسینؓ کا اہل و عیال بھی اُن کے ہمراہ تھا۔جنہیںانتہائی تکلیف دہ حالات سے گذار کربے دردانہ اور سفاکانہ طریقےسےبھوکے پیاسے شہید کردیا گیا۔ان کے لئے پانی بھی بند کردیا گیا۔کمسن اور شیر خوار بچوںتک رحم نہ کیا گیا۔یہ وہی امام حسین ہیںجنہیں جنت کے نوجوانوں کا سردار کہا گیا ہے۔اُنؓ کے متعلق حضور اکرمؐ کے فرمان کا مفہوم ہے’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘‘۔
امام حسین کی شہادت ۱۰؍محرم الحرام میں واقع ہوئی۔ ہر سال محرم الحرام آتا ہے اور لوگ امام حسینؓ ،اُن کے اہل و عیال اور ساتھیوں کی شہادت کو یاد کرتے ہیں، ماتم بھی مناتے میں مگر اُن کے شہادت کا جو اصل پیغام تھا، اس سے ہم بہت دور ہتے ہیں۔یاد رہے کہ جب کوفے والوں نے امام حسینؓ کو دعوت نامے بھیجے تو انہوں نے دعوت نامے رد نہیں کئے بلکہ ان کے اس دعوت پر مشورہ کرتے رہے،اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل کو وہاں بیجھا اور وہاں کے حالات سے باخبر ہونے کو کہا۔ جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی علاقے کے باشندے وقت کے امیر کو یا وقت کے ذمہ دار کو دعوت دیںتووہاں کوئی مصلح بھیجو،نہ کہ اُن کی دعوت رد کرو۔امام حسینؓ نےایک مثبت سوچ کے تحت کوفے والوں پر شک نہیںبلکہ اپنےدین کو ترجیح دی ،اور کوفے کے مسلمانوں میں جو حالات پیدا ہوگئے تھےاُس میں سدھار چاہتے تھے۔اسی لئے انہوں نے کوفہ جانے کا ارادہ فرمایا۔اگرچہ اپنے خیرخواہوں اور کئی مخلصین نے کوفہ جانے سے روکا بھی تھا،مگر انہوں نے اپنے جان مقابلے میں دین ِ حق کو ہی ترجیح دی۔
ظاہر ہے کہ جب مسلم بن عقیلؓ کوفہ پہنچے تو کوفہ والوں نے اُن کے ساتھ غداری کرکے اُن کا قتل کردیا۔ امام حسینؓ کو اس بات کا بھی پیغام پہنچاتھا جب وہ کوفہ کے نزدیک پہنچے تھےاوروہ وہاں سےواپس بھی لوٹ سکتے تھےلیکن اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کی پرواہ نہیں کی بلکہ مسلم بن عقیل کی بے دردانہ شہادت کی خبر سن کر بھی آپؓ محض دین کی خاطر کوفے میں داخل ہوئے،تاکہ یہاں کے مسلمانوں کی دادرسی کر سکیں۔مگر کوفے میں حالات یکسر بدل چکے تھےتو امام حسینؓ حالات کا مشاہدہ کرکے کوفے والوں سے صرف تین باتیں کہیں۔۱۔ میں جہاں سے آیا ہوں وہاں واپس جانےدو،۲۔ یزید کے پاس جانے دو،۳۔مجھے سرحدوں کی طرف نکل جانے دو۔تینوں باتوں میں سے کسی ایک بات کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ جواب میں ابن زیاد نے کہاکہ اُنہیں پہلے میرے ہاتھ میں ہاتھ رکھنا ہوگا۔ امام حسین نے انکار کیا اورکہابخدا یہ کبھی نہیں ہوگا۔گویااُس وقت بھی امام حسینؓ نے سر نہیںجھکایا،اور سوچا کہ اس صلح سے اسلام کو فائدہ نہیںبلکہ نقصان پہنچے گا،جوکہ اُنہیں ہرگز گوارا نہیںہوگا۔
خلاصۂ کلام یہی ہےکہ ماہِ محرم ہمیں نواسۂ رسولؐ،شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓ اوران کے عظیم جاں نثاروں کی یاد دلاتا ہے ،جنہوں نے کربلا میں ظلم اور باطل نظام کے خلاف کلمۂ حق بلند کرتے ہوئے راہِ حق میں اپنی جانیں قربان کیں۔ شہدائے کربلا کے سالارسیدنا حضرت حسینؓ کی ذاتِ گرامی جرأت وشجاعت اور حق وصداقت کا وہ بلند مینار ہے، جس سے دین کے متوالے ہمیشہ حق کی راہ پر حق و صداقت کا پرچم بلند کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام شہدائے اسلام کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے اور ہمیں شہادت امام حسینؓ کے اصل پیغام ’’حق کیلئے سر کٹ تو سکتا ہے لیکن باطل کے سامنے سر جھک نہیں سکتا‘‘کو سمجھنے کی حوصلہ وتوفیق عطا فرمائیں۔آمین یا رب العالمین
رابطہ۔فون9149897428
[email protected]