میر شوکت
قدیم زمانے کی ایک داستان ہے جو صدیوں سے زبانوں پر گردش کرتی ہے اور انسانی فطرت کی ایک ابدی حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔ جب اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی جنت کا ذکر حضرت ہودؑ نے قومِ عاد کے سامنے کیا،ایسی جنت جہاں دودھ، شہد اور پانی کی نہریں بہتی ہیں، جہاں پھل کبھی مرجھاتے نہیں اور خواہش پوری ہونے میں وقت نہیں لیتی،تو شدّاد بن عاد، اس قوم کا مغرور اور طاقتور حکمران، تکبر سے ہنسا اور بولا:’’یہ کیا بڑی بات ہے؟ میں بھی ایسی جنت بنا سکتا ہوں، بلکہ اس سے بہتر!‘‘
اس نے اپنی سلطنت کے بہترین ہنرمند، ماہر معمار اور لاکھوں مزدور اکٹھے کئے۔ صحرائے احقاف کے ریتلے میدانوں میں، جہاں ہوا بھی پیاس سے جلتی تھی، اس نے ایک شہر تعمیر کروایا، جسے ارم ذات العماد کہا گیا ستونوں والا شہر، جس کا ذکر قرآن میں آیا:’’اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ، الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ‘‘۔
ریت کے سمندر میں بلند ستون آسمان کو چھوتے تھے۔ ہر ستون پر سونے اور چاندی کی اینٹیں جڑی تھیں جن کی چمک سورج سے باتیں کرتی۔ فرش پر موتیوں کا فرش بچھا تھا، جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ محلوں کے گرد نہریں بہتی تھیں۔دودھ کی سفید دھاریاں، شہد کی سنہری موجیں، پانی کی کرسٹل سی شفافیت۔ درختوں پر انار، انگور، سیب اور کھجوریں لٹک رہی تھیں، ہر پھل میں خوشبو بند تھی۔ ہوا میں عنبر اور کافور کی مہک تیرتی تھی، جیسے سانس لینا بھی عبادت ہو گیا ہو۔
شدّاد روز اس شہر کو دیکھتا اور کہتا:’’یہی تو جنت ہے! اللہ کی جنت سے کم نہیں!‘‘
سالوں کی محنت کے بعد جب شہر مکمل ہوا تو اس نے حکم دیا کہ سب اس جنت میں داخل ہوں۔ وہ خود گھوڑے پر سوار، غرور سے سینہ تان کر دروازے کی طرف بڑھا۔ راستے میں قہقہے لگاتا، اپنے کارنامے گنواتا، مگر جب اس نے دروازے پر قدم رکھا،ایک پاؤں رکاب میں، دوسرا چوکھٹ پر،تو حکمِ الٰہی آن پہنچا۔ملک الموت نے روح قبض کی اور جبرائیلؑ کی ہولناک صدا کے ساتھ شہر زمین میں دھنس گیا۔ ریت کے ٹیلوں نے اس مصنوعی جنت کو نگل لیا۔ ستون، محل، نہریں۔سب مٹی بن گئے۔یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی ہاتھوں سے بنائی گئی جنت، جب غرور کی بنیاد پر ہو، تو جہنم کا دروازہ بن جاتی ہے۔
صدیاں گزریں۔ سلطنتیں بدل گئیں، تلواریں بندوقوں میں، اونٹ جہازوں میں اور صحرا سمندروں میں بدل گئے۔ مگر انسانی فطرت نہ بدلی۔ غرور، خواہش اور طاقت کا نشہ آج بھی ویسا ہی ہے۔کیریبین کے نیلے سمندر کے بیچ ایک چھوٹا سا جزیرہ اُبھرا۔سفید ریت، نیلا پانی، خاموش فضا، دنیا اسے جنت کہتی تھی۔ مگر دراصل وہ ایک جدید شدّاد کی تخلیق تھی۔ Jeffrey Epstein کی جنت۔اس جزیرے کو 1998 میں خریدا گیا۔ لاکھوں ڈالر لگے، جیسے کوئی قربانی دی جا رہی ہو،ہر ڈالر ایک خاموش چیخ کی قیمت۔ ساحل کو سفید ریت سے سجایا گیا جو سورج کی روشنی میں ہیروں کی طرح چمکتی۔ پانی اتنا صاف تھا کہ نیچے تیرتی مچھلیاں خواب معلوم ہوتیں۔ کھجور کے درخت ہوا میں سرگوشیاں کرتے، جیسے دعائیں ہوں۔ ایک عالی شان محل بنایا گیا جس کی دیواریں سمندر سے راز کہتیں۔ تالاب بنے، مہمان خانے سجے اور ایک نجی رن وے تعمیر ہوئی ،جہاں جہاز ایسے اترتے جیسے آسمان سے فرشتے اتر رہے ہوں۔
پہاڑی پر ایک عجیب نیلا سفید گنبد نما ڈھانچہ تھا۔خاموش معبد جیسا۔ رات کو جب روشنی جلتی تو لگتا جیسے ستارے زمین پر آ گئے ہوں۔دن کے وقت یہ جزیرہ واقعی جنت لگتا تھا۔
سورج کی کرنیں ریت کو سنہرا کر دیتیں۔ لہریں ہلکے ہلکے ناچتیں۔ پرندے آزاد اڑتے۔ سیاح کہتے:’’یہ تو خدا کی بنائی ہوئی جنت ہے۔‘‘مگر جیسے ہی سورج ڈوبتا، رنگ بدل جاتا۔سمندر سیاہ ہو جاتا، ہوا میں خوف گھل جاتا۔ نجی جہاز اترتے، طاقتور لوگ آتے۔سیاستدان، صنعت کار، اداکار، دولت کے دیوتا اور ان کے ساتھ آتیں لڑکیاں۔
چودہ، پندرہ، سولہ سال کی معصوم بچیاں۔ان کے چہرے پر بچپن کی معصومیت ہوتی، مگر آنکھوں میں ڈر۔ انہیں بتایا جاتا کہ یہ جنت ہے، کہ یہاں کام ہے، پیسے ہیں، خواب ہیں۔ وہ مسکرا کر قدم رکھتیں، مگر اندر سے ٹوٹ رہی ہوتیں۔رات گہری ہوتی تو محل میں موسیقی بجتی، شراب بہتی، قہقہے گونجتے۔ مگر ہر ہنسی کے نیچے ایک سسکی دفن ہوتی۔
کمروں میں مالش کے بہانے ہاتھ پھسلتے، نظریں ننگی ہوتیں اور روحیں زخمی ہو جاتیں۔ ایک لڑکی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتی، آنکھوں میں آنسو مگر بہنے کی اجازت نہیں۔ وہ سوچتی:
’’میں صرف پیسوں کے لیے آئی تھی، مگر میں نے اپنی روح کھو دی۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ اس جزیرے پر ظلم صرف جسم کا نہیں تھا بلکہ روح کا قتل تھا۔ ہر کمرہ جال تھا، ہر بستر قربان گاہ۔ طاقتور آتے، اپنا حصہ لیتے اور چلے جاتے۔ پیچھے رہ جاتیں خاموش چیخیں۔میڈیا نے اسے اسکینڈل کہا۔ عوام نے چند دن تماشا دیکھا، پھر بھول گئے۔ مگر وہ لڑکیاں آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے جسم پر نہیں، مگر ان کی یادوں پر زخم ہیں۔ ان کی آنکھوں میں سوال ہیں:’’ہماری جنت کس نے چرائی؟‘‘شدّاد کی جنت اور ایپسٹین کی جنت۔دو زمانے، ایک کہانی۔دونوں میں ستون تھے: ایک میں سونے کے، دوسرے میں دولت کے۔دونوں میں نہریں تھیں: ایک میں دودھ اور شہد کی، دوسرے میں شراب اور گناہ کی ،اور دونوں کا انجام عبرت تھا۔
آج وہ جزیرہ خاموش کھڑا ہے۔ دیواریں بولتی نہیں، مگر چیختی ہیں۔ سمندر کی لہروں میں سسکیاں ہیں۔ ہوا میں سوال ہےاورایپسٹین فائل خود گردش میں ہے۔کیا ہم ان بچیوں کے آنسوؤں کا قرض اتار سکیں گے؟کیا طاقت کے درندوں کو کبھی انصاف ملے گا؟یا یہ دنیا ہر دور میں نئی جنت بنا کر نئی جہنم آباد کرتی رہے گی؟
شدّاد نے کہا تھا: ’’میں جنت بنا سکتا ہوں۔‘‘ایپسٹین نے کہا تھا: ’’یہ میرا جزیرہ ہے، میرا قانون ہے۔‘‘اور انجام نے کہا: ’’ہر مصنوعی جنت مٹی میں ملتی ہے۔‘‘
اے اللہ!ان معصوموں کی فریاد سن،ان کے زخموں کو شفا دے،اور ہمیں وہ طاقت عطا فرماجو محبت کی ہو،ظلم کی نہ ہو۔