فکرو ادراک
یوسف شمسی
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شعبان المعظم کا مہینہ اپنی روحانی عظمت اور دینی اہمیت کے اعتبار سے بڑا ہی فضیلت والا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو رمضان المبارک کی آمد کا پیش خیمہ بھی ہے اور جس میں بندۂ مومن کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، اپنی کوتاہیوں پر ندامت کا اظہار کرے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں رجوع ہو۔ اسی مبارک مہینے کی پندرہویں شب کو شبِ برات کہا جاتا ہے، جو صدیوں سے مسلمانوں کے ہاں ایک خاص دینی اور روحانی حیثیت رکھتی ہے۔تاہم عجب بات یہ بھی ہے کہ جہاںمسلمان ہی اس رات کی فضیلت بیان کرتا ہے،وہیں مسلمان ہی اس کو بدعت قرار دیتا ہے، مسلمان ہی اس رات عبادت، دعا، استغفار اور نذر و نیاز کا اہتمام کرتا ہے اور مسلمان ہی شبِ برات کی اہمیت و فضیلت کا انکار بھی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شبِ برات کا اصل پیغام یہی اختلاف، کشمکش اور تقسیم ہے؟ یا پھر یہ رات ہمیں اللہ کی طرف پلٹنے، اپنی اصلاح اور اپنے اعمال کے محاسبے کا موقع فراہم کرتی ہے؟ درحقیقت شبِ برات ہو یا کوئی اور دینی موقع، اسلام نے ہمیں کبھی بھی باہمی نزاع اور انتشار کی تعلیم نہیں دی۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری اور علمی امر ہے، مگر اس اختلاف کو تصادم، الزام تراشی اور دل آزاری میں بدل دینا نہ دین کی خدمت ہے اور نہ امت کے حق میں مفید۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ عبادت کا تعلق بندے اور اس کے رب کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس رات نفلی عبادات میں مشغول ہوتا ہے، تلاوتِ قرآن، دعا اور استغفار کرتا ہے تو اس کا مقصد اللہ کی رضا اور قربت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اس رات کو عام راتوں کی طرح گزارتا ہے تو اسے بھی طعن و تشنیع یا گمراہی کے فتووں کا نشانہ بنانا اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔اسی تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ شبِ برات کے موقع پر قبروں کی زیارت کا تصور محض عوامی روایت نہیں بلکہ اس کا تذکرہ احادیث میں بھی ملتا ہے۔ روایات کے مطابق حضور اکرمؐ شعبان المعظم کی پندرہویں شب جنت البقیع تشریف لے گئے اور وہاں مدفون اہلِ ایمان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ اس عمل سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اس رات اپنے مرحومین، آبا و اجداد اور دیگر مسلمانوں کے لیے دعا کرنا ایک بامعنی اور مشروع عمل ہے۔ قبروں کی زیارت کا مقصد نہ کوئی رسم ہے اور نہ ہی دکھاوا، بلکہ یہ انسان کو موت کی یاد دہانی، دنیا کی ناپائیداری اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اگر اس عمل کو اعتدال، اخلاص اور شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے انجام دیا جائے تو یہ روحانی تربیت اور اصلاحِ نفس کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔شبِ برات دراصل ہمیں خود احتسابی کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی عارضی ہے، موت ایک اٹل حقیقت ہے اور اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔ اگر ہم اس رات کو دوسروں کے عقائد اور اعمال کا محاسبہ کرنے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے میں صرف کریں تو شاید ہمارے بہت سے فکری اور اخلاقی مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔امتِ مسلمہ آج جن فکری، اخلاقی اور سماجی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ان کی ایک بڑی وجہ باہمی عدم برداشت اور اختلافات کو ہوا دینا ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل میں الجھ کر دین کے اصل مقاصد، اخلاق، اتحاد، رحم دلی اور اصلاحِ معاشرہ کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ شبِ برات جیسے مواقع ہمیں یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ اختلاف سے بلند ہو کر وسعتِ نظر، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شبِ برات کو اصلاحِ نفس، اصلاحِ معاشرہ اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی رات بنایا جائے۔ اگر ہم نے اس رات سے یہی سبق حاصل کر لیا تو یہ رات واقعی ہمارے لیے نجات اور برکت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، رسمیں تو باقی رہیں گی مگر روحانیت، اخلاص اور وحدت ہم سے دور ہوتی چلی جائے گی ۔
(رابطہ۔ 9162216560)