محمد امین میر
جموں و کشمیر میں اراضی محصولات کے نظام کی ارتقائی تاریخ ایک طویل سفر کی عکاس ہے،ہاتھ سے لکھی جانے والی رجسٹرڈ جمابندیوں سے لے کر سرکاری پورٹلز پر دستیاب ڈیجیٹائزڈ ریکارڈ تک ڈیجیٹائزیشن نے شفافیت، رسائی اور ریکارڈ کی ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنایا ہے۔ تاہم ہر انتظامی اصلاح کی طرح اس کے ساتھ کچھ ساختی چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ان میں ایک اہم مسئلہ ڈیجیٹائزڈ جمابندیوں کا غیر معمولی حجم ہے۔ وقت کے ساتھ نجی سروے نمبروں کی بارہا تقسیم وراثت، فروخت، ہبہ، تقسیم جائیداد اور عدالتی احکامات کے ذریعے ہوتی رہی، جو کبھی ایک واحد سروے نمبر تھا، آج متعدد ’’بتا نمبرز‘‘یا ’’من نمبرز‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ نتیجتاً دیہی جمابندیاں سینکڑوں صفحات پر مشتمل ضخیم رجسٹر بن چکی ہیں، جنہیں ڈیجیٹل صورت میں بھی سمجھنا اور سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اس انتظامی پیچیدگی میں مزید اضافہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ شاملات اراضی اور سرکاری اراضی کی اندراجات بھی انہی جمابندی رجسٹروں میں نجی ملکیتوں کے ساتھ شامل ہیں۔ قانونی طور پر اپنی نوعیت اور مقصد میں مختلف ہونے کے باوجود یہ زمینی اقسام ساختی طور پر ایک ہی ریکارڈ میں گندھی ہوئی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انتظامی بوجھ، تجزیاتی ابہام اور عوامی اراضی کی نگرانی میں دشواری پیدا ہو رہی ہے۔اسی تناظر میں ایک سنجیدہ اصلاحی تجویز زیر غور آنی چاہیے۔ہر گاؤں میں’’شاملات اور سرکاری اراضی کا علیحدہ کھاتہ‘‘ قائم کیا جائے،جو تصوراً ایک مخصوص بینک اکاؤنٹ کی طرح عوامی زمین کے لیے وقف ہو۔ اس ساختی علیحدگی سے نجی زمین کے ریکارڈ ہلکے اور واضح ہوں گے جبکہ عوامی اراضی کی نگرانی مضبوط ہوگی۔
اصلاح پر گفتگو سے قبل ان زمینی اقسام کی قانونی حیثیت سمجھنا ضروری ہے۔شاملات اراضی (شاملات دہ) وہ مشترکہ دیہی زمین ہے جو اجتماعی استعمال کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ اس میں چراگاہیں، راستے، آبی ذخائر، قبرستان و شمشان گھاٹ، کھیل کے میدان اور دیگر عوامی وسائل شامل ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ایسی زمینیں متعلقہ قوانین مثلاً جموں و کشمیر کامن لینڈز (ریگولیشن) ایکٹ کے تحت منظم کی جاتی ہیں۔ یہ نجی ملکیت نہیں بلکہ دیہی برادری کے لیے امانت ہوتی ہیں۔اسی طرح سرکاری اراضی وہ زمین ہے جو حکومت کی ملکیت میں درج ہوتی ہے، جیسا کہ جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ اور دیگر قواعد کے تحت۔ اس میں خالصہ زمین، ریاستی محفوظ اراضی، جنگلاتی رقبہ اور دیگر عوامی مقاصد کے لیے مختص زمین شامل ہو سکتی ہے۔دونوں اقسام بنیادی طور پر عوامی اثاثے ہیں۔ یہ نجی لین دین کی طرح نہیں چل سکتیں۔ ان کی حفاظت، استعمال اور نگرانی کے لیے مختلف انتظامی طریقہ کار درکار ہے۔
اس وقت جمابندی رجسٹرچاہے کاغذی ہوں یا ڈیجیٹل ،تمام اقسام کی زمین کو ایک ہی فریم ورک میں شامل کرتے ہیں۔ نجی ملکیتیں، شاملات اراضی اور سرکاری زمین ایک ہی رجسٹر میں درج ہوتی ہیں۔اس ترتیب سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔نجی زمین کی مسلسل تقسیم کے باعث جمابندیاں پہلے ہی بہت بڑی ہو چکی ہیں۔ شاملات اور سرکاری زمین کی اندراجات اس حجم میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔چونکہ عوامی زمین نجی اندراجات میں مدغم ہے، اس لیے انہیں الگ کر کے مؤثر نگرانی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔جب عوامی زمین ایک مربوط اور واضح شکل میں نظر نہ آئے تو اس پر ناجائز قبضے اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔افسران، منصوبہ سازوں اور آڈیٹرز کو عوامی زمین کا مجموعی ڈیٹا درکار ہوتا ہے جو مخلوط رجسٹر سے نکالنا وقت طلب اور پیچیدہ ہے۔شہری اگر چراگاہ یا راستے سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہیں تو انہیں پوری جمابندی کھنگالنی پڑتی ہے۔
لہٰذا مسئلہ ڈیجیٹائزیشن کا نہیں بلکہ ساختی ترتیب کا ہے۔تجویز ’’شاملات اور سرکاری اراضی کا علیحدہ کھاتہ۔‘‘یہ اصلاح سادہ مگر انقلابی ہے۔موجودہ ڈیجیٹائزڈ جمابندیوں سے شاملات کے تمام سروے نمبر الگ کیے جائیں۔سرکاری زمین کے سروے نمبرز کو بھی الگ کیا جائے۔انہیں ایک علیحدہ رجسٹر میں مجتمع کیا جائے جس کا عنوان ہو’’شاملات اور سرکاری اراضی کھاتہ – گاؤں۔‘‘ہر گاؤں میں دو علیحدہ رجسٹر ہوں۔نجی اراضی رجسٹر (ہلکی اور منظم جمابندی)،شاملات و سرکاری اراضی کھاتہ،یہ قانونی ملکیت میں تبدیلی نہیں بلکہ ڈیٹا کی تنظیم نو ہے۔بینک اکاؤنٹ کی مثال کیوں؟جیسے مالی نظام میں ذاتی اور سرکاری فنڈز علیحدہ رکھے جاتے ہیں، ویسے ہی عوامی زمین کے لیے بھی علیحدہ’’کھاتہ‘‘ ہونا چاہیے۔ اس کھاتے میںرقبہ، درجہ بندی، استعمال، لیز، قبضے اور تبدیلیاں درج ہوں۔ہر تبدیلی کا سراغ ہو،سالانہ آڈٹ ممکن ہو،عوامی زمین اجتماعی دولت ہے، اسے خصوصی نگرانی درکار ہے۔ شاملات اور سرکاری اندراجات علیحدہ ہونے سے نجی جمابندی مختصر اور قابل فہم ہوگی۔قبضوں کی نشاندہی، درجہ بندی میں تبدیلی اور آڈٹ آسان ہوگا۔ضلع یا تحصیل سطح پر عوامی زمین کا مکمل ڈیٹا فوری دستیاب ہوگا۔شہری براہِ راست مخصوص رجسٹر دیکھ سکیں گے۔علیحدہ کھاتہ کسی بھی مشکوک اندراج کو فوراً نمایاں کر دے گا۔یہ اصلاح قوانین میں ترمیم کی محتاج نہیں۔ جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت حکومت کو ریکارڈ کی شکل و صورت مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اسی طرح مشترکہ اراضی سے متعلق قوانین بھی مناسب ریکارڈ کی دیکھ بھال کی اجازت دیتے ہیں۔لہٰذا یہ اقدام انتظامی احکامات اور ڈیجیٹل ساخت کی تبدیلی سے ممکن ہے۔ عدالتیں بارہا’’پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن‘‘ کو تسلیم کر چکی ہیں،حکومت عوامی وسائل کی مالک نہیں بلکہ نگہبان ہے۔ علیحدہ کھاتہ اسی اصول کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے۔کئی علاقوں میں شاملات زمین آہستہ آہستہ کچرا دان، نجی توسیع یا تعمیرات کی نذر ہو چکی ہے۔قبضوں کو نمایاں کرے گا۔موازنہ آسان بنائے گا۔جوابدہی کو مضبوط کرے گا۔
دیہی سطح پر جوابدہی:پنچایتیں اور مقامی کمیٹیاں سالانہ بنیاد پر شاملات کھاتہ کا جائزہ لے سکتی ہیں، غلطیوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں اور ریونیو حکام سے اصلاح کروا سکتی ہیں۔
عوامی زمین ترقیاتی وسائل ہیں،اسکول، اسپتال، کھیل کے میدان یا کمیونٹی سینٹر کے لیے۔ واضح اور منظم کھاتہ منصوبہ بندی کو فعال بنائے گا۔ پٹواری پہلے ہی بھاری ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ہلکی اور منظم جمابندی ان کے کام کو آسان بنائے گی۔نفاذ کا روڈ میپ،ڈیٹا علیحدگی مرحلہ،رجسٹر تخلیق مرحلہ،تصدیق مرحلہ (پٹواری، گرداور، تحصیلدار)،عوامی اشاعت و اعتراضات،حتمی انضمام اور آن لائن ڈیش بورڈ،سالانہ آڈٹ کا نظام۔ زمین محض مٹی نہیں، یہ شناخت اور اجتماعی وراثت ہے۔ اگر نجی ملکیت کے لیے وضاحت ضروری ہے تو عوامی زمین کے لیے دوگنی احتیاط لازم ہے۔شاملات اور سرکاری اراضی کا علیحدہ کھاتہ قائم کرنا محض انتظامی قدم نہیں بلکہ اخلاقی عزم ہے،آنے والی نسلوں کے لیے عوامی دولت کی حفاظت کا عہد۔جس طرح کوئی ذمہ دار شہری ذاتی اور سرکاری فنڈز کو خلط ملط نہیں کرتا، ویسے ہی ریونیو نظام کو نجی اور عوامی اراضی کو ساختی طور پر جدا کرنا ہوگا۔وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے ہر گاؤں میں’’شاملات اور سرکاری اراضی کھاتہ‘‘ کھولا جائےتاکہ ڈیجیٹائزڈ جمابندیاں پیچیدگی کا ذخیرہ نہیں بلکہ شفافیت کا ذریعہ بن سکیں۔
[email protected]