جموں// سرکار نے کہا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے بے گھر ہوئے افراد کی باز آبادکاری کیلئے سرکار سنجیدہ ہے اور ایسے لوگوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔90میں سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے بے گھر ہوئے بور کیرن کے افراد کی باز آبادی کاری کا از سر نو جائزہ لینے کا یقین دلاتے ہوئے سرکار نے یہ اعتراف کیا ہے کہ بور کے لوگوں کو دی جانی والی سہولیات مئی2001تک ہی فراہم کی گئیںہیں ۔ قانون ساز کونسل کے رکن جاوید احمد مرچال کے ایک سوال میں آبادکاری کے وزیر جاوید مصطفی میرنے کہا کہ سرحدی علاقوں میں 90کی دہائی یا اس کے فوراًبعد سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے گھروں ہوئے افراد کا معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔انہوں نے بور کیرن کی آبادی کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کنبہ جات کے اندراج کا معاملہ سکریننگ کمیٹی کی 29جنوری2018کو منعقد ہوئی میٹنگ میں زیر بحث لایاگیا جس میں یہ فیصلہ کیاگیاکہ ان کنبہ جات کی مجموعی صورتحال میں روزگار، موجودہ رہائش گاہ، غیر منقولہ جائیدادکی صورتحال بارے مکمل تفصیل ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ سے مانگ کی گئی ہے تاکہ کسی منطقی انجام تک پہنچا جاسکے۔وزیر موصوف نے بتایاکہ 13اکتوبر1992کو منعقدہوئی 8ویں سٹیٹ کیلامٹی فنڈ میٹنگ کی سفارشات کی بنا پر11جنوری 1993کو ایک آرڈرزیر نمبر Rev (ER)/113/1993کے تحت متاثرین کے حق میں ریلیف پیکیج منظور کیاگیا۔اس کے تحت ماہانہ 10روپے فی نفراور زیادہ سے زیادہ 1000روپے تک۔ ماہانہ9کلوگرام راشن فی نفر، 2کلوگرام فی نفر ماہانہ آٹا اور 1کلوگرام چینی فی کنبہ ، ہوسٹل کی طرح رہائش/، کیمپوں میں مفت طبی اور شہری سہولیات، مفت بجلی پینے کا صاف پانی، لیو سیلری، سرکاری ملازمین وپنشنرز جوکہ ماہانہ ہزار روپے تخواہ لیتے ہیں۔انہوں نے اعتراف کیاکہ یہ سہولیات مئی2001تک فراہم کی گئیں۔انہوں نے بتایاکہ 8جولائی 2008کو فائنانشل کمشنر(ریونیو)جموں وکشمیرکے فیصلہ کے مطابق 9کنبہ جات کے حق میںیکمشت ریلیف منظور کی گئی۔ اس میں تین کنبوں کے حق میں1لاکھ 30ہزار فی کس اور باقی چھ کے حق میں ایک ایک لاکھ روپے منظو رہوئے۔ضمنی سوال میں جاوید احمد مرچال نے کہاکہ یہ 19کنبہ جات ہیں لیکن سرکار نے فی کنبہ9افراد کو ایک ایک لاکھ روپیہ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بور علاقہ سے 1990کو نکالے گئے، ان کنبہ جات کا نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ مال مویشی اور مکانات سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا۔ لیکن ایسے میں ایک لاکھ روپے سے ان کنبہ جات کو نقصانات کی بھرپائی نہیں کی جاسکتی ہے اور سرکار کو اس کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئے۔ اس کے جواب میں وزیر نے کہاکہ انہوں نے جب یہ فائل دیکھی، انہیں بھی اچھا نہیں لگا اور وہ از سرنواس کا جائزہ لیں گے ۔