آصف حسین کشمیری
تاریخِ انسانی میں بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو کسی خطے کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔ ان کی زندگی صرف عبادت و ریاضت تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ پورے معاشرے کے فکری، روحانی اور اخلاقی ڈھانچے کو نئی بنیاد عطا کرتی ہیں۔ وادیٔ کشمیر کی تاریخ میں ایسی ہی ایک عظیم المرتبت شخصیت کا نام سید شرف الدین عبدالرحمن بلبل شاہ ہے، جنہیں بجا طور پر کشمیر میں اسلام کا پہلا مبلغ اور روحانی معمار کہا جاتا ہے۔ ان کی آمد نے اس سرزمین میں اسلام کے نور کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی آج بھی کشمیری معاشرے کی روحانی شناخت میں نمایاں ہے۔مورخین کے مطابق سید شرف الدین عبدالرحمن بلبل شاہ کشمیری 14ویں صدی کے ایک ترکستانی صوفی و مردِ قلندر تھے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق 1321ء یا 1324ء میں آپؒ دیارِ کشمیر پہنچے اور یہاں ایک ہمہ گیر فکری و اسلامی انقلاب کی بنیاد رکھی، جبکہ 1326ء میں آپؒ کا وصال ہوا۔ یہ مختصر زمانی عرصہ بظاہر کم محسوس ہوتا ہے، مگر اسی قلیل مدت میں آپؒ نے ایسی گہری روحانی و فکری تبدیلی برپا کی جو صدیوں پر محیط اثرات کی حامل ثابت ہوئی۔
بلبل شاہؒ کی آمد محض ایک جغرافیائی سفر نہ تھی بلکہ ایک درد، ایک تڑپ اور ایک عظیم مقصد کی تکمیل تھی۔ ایک ایسا درد جو انہیں اپنے وطن اور اپنے علاقے سے نکال کر ہزاروں میل کی مسافت طے کرواتا ہوا کشمیر تک لے آیا۔ وہ پیدل چلتے ہوئے پہاڑوں، وادیوں اور اجنبی راستوں سے گزرے، مگر ان کے قدم کبھی نہ ڈگمگائے، کیونکہ ان کے دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا۔اللہ کے دین کو غالب کرنا اور انسانوں کو شرک و جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر توحید کے نور سے آشنا کرنا۔ یہ کوئی معمولی ہجرت نہ تھی بلکہ ایک عظیم روحانی قربانی تھی، جس نے کشمیر کی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
بلبل شاہؒ کی آمد کے وقت کشمیر کی مذہبی اور سماجی حالت نہایت ابتر تھی۔ بدھ مت اور ہندو مت کے اثرات غالب تھے اور معاشرہ ذات پات، رسوم و رواج اور طبقاتی تفریق میں جکڑا ہوا تھا۔ شرک اور کفریہ عقائد نے انسان کو فکری غلامی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ غریبوں سے بھاری ٹیکس وصول کئے جاتے تھے، ان کے حقوق سلب کئےجاتے تھے اور مذہبی طبقہ انہیں خوف اور توہمات کے ذریعے قابو میں رکھتا تھا۔ عام انسان محرومی، ظلم اور روحانی بے چینی کا شکار تھا۔ ایسے ماحول میں اسلام کا پیغام مساوات، عدل اور توحید کی صورت میں ایک عظیم انقلاب بن کر نمودار ہوا۔
بلبل شاہؒ کا تعلق سلسلۂ سہروردیہ سے تھا۔ وہ شریعت و طریقت دونوں کے جامع عالم تھے۔ ان کی زندگی سادگی، تقویٰ اور اخلاص کا عملی نمونہ تھی۔ وہ صرف زبان سے دعوت نہیں دیتے تھے بلکہ اپنے کردار سے اسلام کی تصویر پیش کرتے تھے۔ ان کا اخلاق، ان کی خاموشی اور ان کا طرزِ زندگی لوگوں کے دلوں میں اتر جاتا تھا۔ وہ جہاں جاتے، وہاں نفرت کے بجائے محبت اور خوف کے بجائے یقین کی فضا قائم ہو جاتی۔
کشمیر کی تاریخ میں بلبل شاہؒ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن کارنامہ راجا رِنچن کی ہدایت ہے۔ راجا رِنچن ایک حق کے متلاشی حکمران تھے جو مختلف مذاہب کے علما اور راہبوں سے سوال کرتے رہے، مگر ان کے دل کو سکون نہ ملا۔ جب ان کی ملاقات بلبل شاہؒ سے ہوئی تو انہوں نے ایک ایسی شخصیت کو پایا جس کے کردار میں سچائی، گفتار میں حکمت اور نگاہ میں انسان دوستی تھی۔ بلبل شاہؒ نے انہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات نہایت سادہ مگر پُراثر انداز میں سمجھائیں۔ توحید، عدل، اخوت اور انسانی مساوات کا پیغام ان کے دل میں گھر کر گیا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یوں راجا رِنچن سلطان صدرالدین کے نام سے کشمیر کے پہلے مسلمان حکمران بنے۔
یہ واقعہ محض ایک فرد کے مسلمان ہونے تک محدود نہ تھا بلکہ کشمیر کی تاریخ میں ایک عظیم روحانی انقلاب کا آغاز تھا۔ سلطان صدرالدین کے قبولِ اسلام کے بعد ہزاروں لوگ اسلام کی طرف مائل ہوئے۔ شرک اور جہالت کی دلدل میں پھنسی قوم کو نجات کا راستہ ملا۔ طبقاتی دیواریں کمزور ہوئیں، غریبوں کے حقوق کا شعور پیدا ہوا اور انسان کو انسان سمجھنے کا تصور مضبوط ہوا۔ بلبل شاہؒ کی قربانیوں اور دعوت نے کشمیری قوم کی تقدیر بدل دی۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں علامہ محمد اقبال کے یہ لازوال اشعار یاد آتے ہیں۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زورِ بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
واقعی بلبل شاہؒ کی نگاہِ مردِ مومن نے کشمیر کی تقدیر بدل دی۔ انہوں نے غلام ذہنوں کو یقین کی دولت دی اور ٹوٹی ہوئی روحوں کو وقار عطا کیا۔ ان کا جہاد تلوار سے نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور کردار سے تھا۔
بلبل شاہؒ کی دعوت کا اسلوب نہایت حکیمانہ اور صوفیانہ تھا۔ انہوں نے نہ جبر کا سہارا لیا اور نہ مناظروں کی سختی اختیار کی۔ وہ عام لوگوں میں بیٹھتے، ان کے دکھ درد سنتے اور اپنے عمل سے اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تبلیغ دلوں میں گھر کر گئی اور کشمیر میں اسلام کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی گئیں۔ان کی تعلیمات نے کشمیر کی تہذیب اور ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ مساجد اور خانقاہیں آباد ہوئیں، دینی تعلیم کو فروغ ملا اور روحانیت کشمیری معاشرے کی شناخت بن گئی۔ ادب، زبان اور فنونِ لطیفہ میں بھی اسلامی فکر کی جھلک نمایاں ہونے لگی۔ کشمیری قوم کا نرم خو مزاج، مہمان نوازی اور صوفیانہ طبیعت اسی روحانی دور کی میراث ہے۔
بلبل شاہؒ کا وصال بھی اسی سرزمین پر ہوا ،جسے انہوں نے اسلام کے نور سے منور کیا۔ تاریخی تحقیق اور معتبر روایات کے مطابق آپ سرینگر کے قدیم علاقے بلبل لنگر (نوا کدل) میں دریائے جہلم کے کنارے مدفون ہیں۔ آج بھی وہاں آپ کا مزار مرجعِ خلائق ہے اور اہلِ عقیدت کے لیے ایک روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مزار محض ایک قبر نہیں بلکہ کشمیر میں اسلام کے اولین چراغ کی روشن یادگار ہے۔بعد کے ادوار میں جب میر سید علی ہمدانی کشمیر تشریف لائے تو انہوں نے یہاں ایک مضبوط اسلامی بنیاد پائی، جس کی اساس بلبل شاہؒ پہلے ہی رکھ چکے تھے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ بلبل شاہؒ نے وہ بیج بویا جس سے بعد میں ایک تناور اسلامی تہذیب نے جنم لیا۔
آج کے دور میں، جب دنیا نفرت، تعصب اور فرقہ واریت کی آگ میں جل رہی ہے، بلبل شاہؒ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ دین کی دعوت جبر سے نہیں بلکہ کردار سے دی جاتی ہے۔ اسلام کا اصل حسن محبت، امن اور انسان دوستی میں ہے۔ اگر ہم ان کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو کشمیر ایک بار پھر روحانیت، امن اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
سید شرف الدین عبدالرحمنؒ بلبل شاہ کشمیر کی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جس کے بغیر اس وادی کی روحانی شناخت نامکمل ہے۔ انہوں نے اس سرزمین میں اسلام کا پہلا چراغ روشن کیا، شرک اور ظلم کی زنجیروں کو توڑا اور انسانیت کو ایک نئی سمت عطا کی۔ ان کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے گا، کیونکہ جنہوں نے دلوں کو فتح کیا ،وہ کبھی مٹتے نہیں۔واقعی بلبل شاہؒ کشمیر میں اسلام کا روشن آغاز ہیں،ایسا آغاز جس کی روشنی آج بھی ہمارے دلوں اور ہمارے مستقبل کو منور کر رہی ہے۔
(رابطہ۔ 9797888975)