سجاد احمد خان
مسلمانوں کے محسن سیدنا حضرت عثمانؓ کے فضائل و کمالات کو سمجھنے کیلئے دل میں خوف خدا اور ذہن میں شرم و حیاء ہونا ضروری ہے۔ جو لوگ اپنے حالات اور اپنے زمانے پر ان کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بلاشبہ بڑی غلطی میں مبتلا ہیں۔ کہاں خیرالقرون میں زبانِ نبوت سے جنت کا پروانہ پانے والی وہ عظیم ہستی، جن کے مال نے اہل ایمان کو اس وقت سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا جب اسلام اور مسلمانوں کو اس کی سخت ضرورت تھی، جن کو ایسا اعزاز نصیب ہوا جو اولین و آخرین میں کسی کی قسمت میں نہیں آیا، وہ کہاں اور پندرہویں صدی میں مکروہ سیاست کے علمبردار اور خواہشات و نفسیانیت کے اسیر کہاں؟
دنیا نے بڑے بڑے مقررین کی تقاریر بھی سنی ہیں اور سامعین کو داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ لیکن کیا کبھی اس آسمان و زمین نے ایسی تقریر بھی سنی ہو گی، جس میں سامعین خطیب کے خون کے پیاسے ہوں اور اُس کو قتل کرنے کے درپے ہوں، لیکن پھر بھی اس کی ہر بات کی تصدیق و تائید کر رہے ہوں۔
جی ہاں! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہرے داماد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفانؓ ہیں۔ جب دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے باغیوں نے آپ ؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا، مدینہ منورہ سے جلیل القدر صحابہ کرامؓ حج کا فریضہ ادا کرنے مکہ مکرمہ گئے ہوئے تھے اور جو یہاں باقی تھے اُن کو لڑنے سے خود آپؓ نے ہی سختی سے روک دیا تھا کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے مسلمانوں کے درمیان قتال کا سلسلہ شروع ہو جائے اور اہل ایمان ہی ایک دوسرے کا خون بہانے لگ جائیں۔
ایسے حالات میں آپؓ اپنے گھر کے بالا خانے پر تشریف لائے اور اپنے گھر کے گرد محاصرہ کیے ہوئے باغیوں کو مخاطب کر کے فرمایا:میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین حق اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں۔کیا تم یہ جانتے ہو کہ رسول اللہ ؐ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو یہاں ’’بئر رومہ‘‘ کے علاوہ میٹھے پانی کا کوئی کنواں نہیں تھا۔یہ کنواں ایک یہودی کی ملکیت تھا۔ تب رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا:’’کوئی اللہ کا بندہ ہے جو بئر رومہ کو خرید کر سب مسلمانوں کو اس سے پانی لینے کی اجازت دے دے تو اللہ جنت میں اس کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا‘‘۔اُس وقت میں نے اس کنویں کو اپنے مال سے خرید ا اور مسلمانوں کیلئے وقف کر دیا۔افسوس کہ آج تم مجھے اسی کا پانی پینے سے روکتے ہو ۔اس کے جواب میں ان باغیوں کے گروہ نے کہا:اللھم نعم’’اے اللہ! ہم جانتے ہیں کہ عثمانؓ کی یہ بات درست ہے‘‘پھر حضرت عثمان ؓ نے ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور دین حق اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں۔کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ رسول اللہ ؐ کی تعمیر کردہ مسجد نمازیوں کیلئے تنگ ہو گئی تھی۔ اس وقت اللہ کے رسولؐ نے فرمایا تھا:’’کون اللہ کا بندہ ہے جو فلاں خاندان کے پلاٹ کو خرید کر ہماری مسجد میں شامل کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں اس سے بہتر جگہ عطا فرمائے گا‘‘۔تب میں نے اس کو اپنے مال سے خرید لیا اور مسجد میں شامل کر دیا۔آج تم لوگ مجھے اس مسجد میں نماز پڑھنے سے بھی روکتے ہو۔اس پر ان لوگوں نے،ج وحشیانہ قدم اٹھانے کیلئے تیار تھے، بیک زبان جواب دیا:اللھم نعم(اے اللہ! ہم جانتے ہیں عثمانؓ کی یہ بات بھی درست ہے)اس کے بعد حضرت عثمان ؓ نے انہیں یہ بھی کہا:کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میں نے غزوئہ تبوک کے لشکر کیلئے اپنے مال سے کتنا سازو سامان دیا تھا؟اس پر ان لوگوں نے ایک مرتبہ پھر ’’اللھم نعم‘‘ کہا۔اب صبر و استقامت کے پہاڑ اور شرم و حیاء کے پیکر سیدنا حضرت عثمان ؓ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:میں تم س پوچھتا ہوں۔کیا تمہارے علم میں یہ بات ہے کہ ایک دن رسول اللہؐ پہاڑ پر تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ اور میں بھی ہمراہ تھا۔پہاڑ حرکت کرنے لگا تو آپؐ نے پہاڑ پر زور سے اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا:’’اے پہاڑ ٹھہر جا! کیونکہ اس وقت تیرے اوپر ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں‘‘۔اس پر ان ظالموں نے پھر جواب دیا: ’’اللھم نعم‘‘(اے اللہ! یہ بات بھی ہم جانتے ہیں)اس کے بعد سیدنا حضرت عثمانؓ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:’’قسم ہے رب کعبہ کی میں شہید (ہونے والا) ہوں‘‘۔(جامع ترمذی ۲۔ ۱۱۲، سنن نسائی، دارقطنی)
واقعی عظیم وہی ہے جس کی عظمت اور برتری کی گواہی اس کے دشمن بھی دینے پر مجبور ہو جائیں۔حضرت عثمان ؓکو جو ’’ذوالنورین‘‘ یعنی دو نور اور روشنیوں والا کہا جاتا ہے، وہ اسی بناء پر کہا جاتا ہے کہ یہ اعزاز تمام انسانوں میں سے صرف آپ کے نصیب میں آیا ہے کہ کسی بھی پیغمبر علیہ السلام کی دو صاحبزادیاں آپؓ کے نکاح میں آئیں۔ پھر یہ رشتے کس باہمی محبت‘ اعتماد اور خوشی سے ہوئے اس کا اندازہ ان روایات سے لگالیں، جو آج بھی حدیث و تاریخ کی کتابوں میں جگمگا رہی ہیں:حضرت سعید بن مسیب ؒسے روایت ہے کہ رسول اللہؐ کی حضرت عثمانؓ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت عثمان ؓ اس وقت بہت ہی غمزدہ اور سخت رنجیدہ تھے۔ رسول اللہؐ نے (ان کا یہ حال دیکھ کر) پوچھا:عثمانؓ! تمہارا یہ کیا حال ہے؟ انہوں نے عرض کیا:اے رسول خداؐ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا کسی شخص پر بھی ایسی سخت مصیبت آئی ہو گی، جو مجھ پر آئی ہے، آپؐ کی صاحبزادی جو میرے ساتھ تھیں (یعنی حضرت رقیہؓ) وہ وفات پاگئیں۔ اللہ ان پر رحمت فرمائے(اس صدمہ سے) میری کمر ٹوٹ گئی ہے اور آپؐ سے دامادی کے رشتہ کا جواعزاز مجھے نصیب تھا،اب وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا(اور میں اس عظیم نعمت اور سعادت سے محروم ہوگیا)۔ رسول اللہ ؐ نے ان سے فرمایا: عثمان! کیا تم ایسا ہی کہتے ہو (اور تمہیں اسی کا صدمہ او ررنج ہے؟)حضرت عثمان ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! میں قسم کے ساتھ وہی بات کہتا ہوں جو ابھی میں نے عرض کی ہے۔(یعنی میرا یہی حال اور یہی احساس ہے) ابھی آپ ؐ، عثمانؓ سے یہ گفتگو فرما رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہذا جبریل یا عثمان! ’’ اے عثمان! یہ جبرائیل امین ہیں۔ یہ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچا رہے ہیں کہ میں اپنی بیٹی مرحومہ رقیہ کی بہن امّ کلثوم کا نکاح تم سے کردوں، اسی مہر پر جو رقیہ کا تھا اور اسی طرح کی معاشرت پر۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمانؓ کے ساتھ اپنی بیٹی امّ کلثوم ؓ کا نکاح کردیا۔(ابن عساکر، کنز العمال: ۳۱/۲۴، الاصابہ: ۸/۹۸۲)
حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہؐ کی دوسری صاحبزادی (امّ کلثوم) کا انتقال ہوگیا،تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا: ’’اے عثمان! اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں تو میں ان میں سے ایک کے بعد ایک کا(سب کا) تم سے نکاح کردیتا، کیونکہ میں تم سے بہت راضی اور خوش ہوں۔(معجم اوسط:۶/۶۷۱، کنزالعمال: ۳۱/۵۷، ابن عساکر)
ابھی تو حضرت عثمان ؓ کے چند ہی اعزازات لکھے گئے ہیں اور کالم کا دامن تنگ ہو گیا ہے۔ جس شخصیت کیلئے صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت ِ رضوان کے وقت رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اہتمام اور انتظام فرمایا ہو کہ اپنے مبارک، مقدس، معطر اور منور ہاتھ کو ان کا ہاتھ قرار دیا ہو، ایسی عظیم ہستی سے بد گمانی کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟۔ آپ ؓ کے فضائل و کمالات کو کوئی کہاں تک بیان کر سکتا ہے اور لکھ سکتا ہے۔آخری بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ بھلا ان لوگوں سے زیادہ قابل احترام کون ہو سکتا ہے جن کے ایمان کی گواہی اللہ تعالیٰ کا پاک کلام دیتا ہو اور حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقام و مرتبے کو بیان کر رہے ہوں۔عثمانؓ! بلاشبہ آپ پاک ہیں،آپ ؓ کی عظمت پر فدا ہماری جان ہے۔
(ریپورہ گاندربل کشمیر)