تعجب خیز
غلام قادر بیدار
بڈگام ضلع کے مشہور صدر مقام چرارشریف ،پکھرپورہ ، گوگجہ پتھری ، نیل ناگ، لولی پورہ اور بُزگو کے عوام نے سال 2020 سے لگاتار جناب لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی مداخلت کرتے ہوئے مشہور سیاحتی مقام یوسمرگ تا نیل ناگ اور یوسمرگ تا برگاہ چراگاہوں تک روپوے پراجیکٹ کی تعمیر کا فوری اعلان کریں۔ اسطرح تین سال کم عرصے کے دوران اپنے جائیز اور دیرینہ مطالبے کو لیکر مقامی لوگوں نے کئی مرتبہ ارباب اقتدار تک بات پہنچائی ،لیکن نتیجہ بے حاصل۔ عوام الناس باخبر ہیں کہ انتظامی کونسل کی جانب سے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں 18 روپوے منصوبوں کی منظوری کی فہرست میں یوسمرگ،نیل ناگ اور یوسمرگ ۔برگاہ Ropeway منصوبوں کو شامل نہ کئے جانے پر شدید افسوس اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔مقامی بستیوں سے تعلق رکھنے والئے اکثر نمائندگان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مجوزہ لورن پونچھ تا توسہ میدان اور سیتھارن تا توسہ میدان روپوے منصوبوں کی منظوری خوش آئند قدم ہے، تاہم معروف سیاحتی مقام یوسمرگ کو اس اہم منصوبے سے نظر انداز کرنا چرارِ شریف، پکھرپورہ، یوسمرگ، گوگجی پتھری، بُزگو، نیل ناگ اور دیگر متعلقہ علاقوں کے لوگوں کیلئے انتہائی دل شکن ہے۔ ناگبل سیکیول سے تعلق رکھنے والئے ایک اعلی تعلیم یافتہ بےروزگار شخص نے نمائندے کوبتایا کہ یوسمرگ تا نیل ناگ اور یوسمرگ تا برگاہ چراگاہوں تک Meadows Cable Car منصوبے کے تحت سال 2013 میں یوسمرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (YDA) کے پانچویں اجلاس میں منظوری دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجودبد قسمتی سے یا جان بوجھ کر تادم بیان منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ انتظامی کونسل نے کم معروف سیاحتی مقامات کیلئے بھی روپوے منصوبے منظور کئے، مگرتاریخی اہمیت اور مرکزیت رکھنے والئے سیاحتی مقام یوسمرگ جیسے خوبصورت اور عالیشان خطے کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر معقول طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔مقامی باشندوں نے کہا کہ یوسمرگ نہ صرف ایک پُرسکون، خوبصورت اور پر سکون سیاحتی مقام ہے بلکہ مذہبی سیاحت کے حوالے سے بھی بے پناہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے اطراف میں عظیم صوفی بزرگوں کی زیارتیں واقع ہیں، جن میں برصغیرہندوپاک میں انتہائی اہم حضرت شیخ نورالدین ولی ریشی ؒ کی مشہور درگاہ چرارِ شریف میں واقع ہے۔ جبکہ حضرت سید محمد علی عالی بلخی ؒکا مزار شریف بھی پکھرپورہ میں واقع ہے۔ دونوں مقامات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامی کونسل کے فیصلے نمبر( 373-PW۔R&B) مؤرخہ 2023۔09۔ 06کے تحت مرکزی وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی ’’پروت مالا‘‘ اسکیم کے تحت جموں و کشمیر میں ایک جامع روپوے نیٹ ورک قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے تاکہ سیاحت کو فروغ مل سکے اور عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ان منصوبوں میں لورن پونچھ تا توسہ میدان، سیتھارن تا توسہ میدان، مخدوم صاحب تا ہاری پربت، شنکرآچاریہ روپوے، بالتل تا امرناتھ گھپا ، سونہ مرگ تا تھجی واس، جھیل وولر تا وٹلب بابا شکورالدین، پہلگام تا بیسرن، دبجن تا پیر کی گلی اور سونہ مرگ تا کشورسر جیسے روپوے شامل ہیں ،لیکن یوسمرگ کو پر اسرار طور اس مجوزہ منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ نمائندے کو بعض اشخاص نے بتایا کہ سب سے زیادہ متوجہ پیر کی گلی دبجھن تا پونچھ تھا، لیکن نامعلوم وجوہات کے سبب سب سے محفوظ منتخب سیاحتی مقام یوسمرگ براستہ دودھ گنگا بمقام دودھ پتھری روپوے تعمیر کرنے کے پیچھے روکاوٹ کیوں آتی ہیں،سمجھ سے باہر ہے۔
سیاحتی مقام یوسمرگ نظر انداز کیوں؟