کسی بھی ملک میں عوام کی سوچ کو محدود کرنے والی پالیسی کی شروعات سوشل انجینئرنگ سے ہوتی ہے ۔ سوشل انجینئرنگ ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت لوگوں میں ایک خاص طرح کاNarrative یابیانیہ پیدا کرکے ان کی سوچ کو کسی خاص سِمت میں موڑاجاتا ہے۔ پھر لوگوں کی ذہنیت بھی اُسی انداز میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے جس انداز میں حاکمِ وقت چاہتا ہو ۔ یعنی عام شخص کے سوچنے کی صلاحیت کو Manipulateکر کے اسے وہی سب سوچنے پہ مائل کیا جاتا ہے جو اربابِ اقتدار کے لئے سودمند ثابت ہو۔عوام کی مجموعی فکر اورنظریے کو ایک خاص سانچے میں ڈال کر اُسے اپنے حساب سے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ ناقابلِ یقین بات یہ ہے کہ ہم جو کُچھ بھی سوچتے ہیں اور جو بھی خیالات ہمارے دِل و دِماغ میں اُبھرتے ہیں ،ان کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ انسانی عقل کے ساتھ کھیلے جانے والے اسی کھیل کو سوشل انجینئرنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مزموم طرزِ عمل میں جن چیزوں کا استعمال ہوتا ہے، ان میں میڈیا کے ادارے بالخصوص الیکٹرانِک میڈیا اور سوشل میڈیا قابِل ذکر ہیں ۔
گزشتہ چند دہائیوں میں پیش آئے واقعات کا ایک بار جائزہ لیں تو سوشل انجینئرنگ کے نظام کو سمجھنازیادہ مشکل نہ ہوگا۔بات اسلاموفوبیا کی ہو، یا پھر ملک میں اقلیت مخالف جرائم میں ہوئے ہوشربا اضافے کی، یہ ساری چیزیں سوشل انجینئرنگ کاجاوید ثبوت ہیں ۔ یہ سوشل انجینئرنگ کا ہی کمال ہے کہ مسلمان کو آج عالمی سطح پہ ایک خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے ،یہاں تک کہ اسے عالمی دہشتگردی کا واحد ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ دہشت گردی کا جب جب بھی ذکر ہوتا ہے تو انسان کا دِماغ اپنے آپ داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کا عکس بنانے لگتا ہے حالانکہ دنیا میں بے شمار ایسی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے مختلف طبقہ جات پہ مظالم کے پہاڑتوڑے ہیں جن میں ہِٹلر کا نام تاریخ میںواضع طور پہ ملتا ہے۔ نیز کچھ ایسی تنظیمیں بھی دنیا میں اپنی چھاپ چھوڑ گئی ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے سارے ریکارڈ توڑ دئے اور ان کا تعلق کسی بھی طرح اسلام سے نہیں تھا۔لیکن پھر بھی دہشت گردی کا لیبل چند ہی طبقہ جات پہ چسپان کیا جاتا رہا ہے ۔ اور اس سب میں سوشل انجینئرنگ کا اچھا خاصا رول رہا ہے۔
بات اگراپنے ملک کی کریں تو یہاں بھی سوشل انجینئرنگ کو وقت وقت پہ جادوئی چھڑی کی طرح استعمال کیا گیا ہے بلکہ موجودہ وقت میں یہ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی ناکامیوں اور نااہلی کو چھپانے کے لئے ایک واحد ہتھیار مانا جاتا ہے ۔پریشان کُن بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں سوشل انجینئرنگ کے ذریعے لوگوں میں کسی خاص طبقے(خصوصاََ اقلیتی طبقے) کے تئیں طرح طرح کے Narratives پیدا کرکے منافرت اور تعصب پیدا کر دیا جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے لوگ وہی کرنے لگتے ہیں جس سے سماج میں عدمِ اعتماد پیدا ہوتا ہے اور لوگ چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھے رہتے ہیں جبکہ بڑے مسائل پربات کرنے کیلئے کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا ۔عملی طور پر ملک میں ہجومی تشدد اور موب لنچنگ جیسے مسائل کے پیچھے بھی ایسے ہی کچھ خاص Narratives کار فرما ہیں جن میںگائو رکھشا اورلَو جہاد کے علاوہ تبدیلی مذہب اور بچہ چوری کا شوشہ شامل ہے اور ان ہی افواہوں اوربیا نیوںنے کئی بے گُناہوں کی جان لی۔ موب لنچنگ اور ہجومی تشدد میں ملوث افراد سنگین جرائم پہ آمادہ بھی اسی لئے ہوتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے سیاسی جماعتوں کی IT Cellsنے ان کے دِل میں آہستہ آہستہ سے زہر بھرا ہوتا ہے۔ منفی سوچ اور منافرت کا زہر دھیرے دھیرے کم تعلیم یافتہ اور دنیاوی اعتبار سے ناتجربہ کار نوجوانوں کے ذہن میں سرائیت کر کے آنے والے کل کے لئے ایک تباہ کُن ہتھیار بن جاتا ہے۔ایک انگریزی مقولہ ہے "You are what you watch" یعنی آپ کی سوجھ بوجھ اور شخصیت اسی انداز کی بنتی ہے جس انداز کی چیزیں آپ کو دِکھائی جائیں یا بتائی جائیں ۔لہٰذا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا آپ تک جو بھی معلومات پہنچاتا ہے، کہیں نہ کہیں ان معلومات کا بیشتر حصہ ایک خاص سوچ کی طرف انسان کو مائل کر دیتاہے۔ انسان بھی فطرتاًاسی کو صحیح مان لیتا ہے جو اسے بار بار کہا جائے یا دِکھایا جائے، خواہ وہ در حقیقت جھوٹ ہی کیوں نہ ہو ۔انسان کی اس فطرت کو Illusory Truth effect کہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سرگرم مختلف IT cellsکی بھی یہی کوشش رہتی ہے کہ اُسی چیز کو عام آدمی تک بار بار پہنچایا جائے جو اسIT Cellکے موقف کو تقویت دے۔
سوشل انجینئرنگ سے سیاسی جماعتیں اپنا مفاد تو حاصل کرتی ہیں لیکن افرادِ قوم کے ملی اتحاد کے لئے یہ عمل روزِ اول سے ہی سمِ قاتل ثابت ہوا ہے۔ سوشل انجینئرنگ کے زہر سے بچنے کے لئے لازمی بنتا ہے کہ سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور پرِنٹ میڈیا کے ذریعے پہنچائی جانے والی معلومات کا آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے بجائے ان معلومات کے بارے میں تحقیق کی جائے۔ جس طرح اب تک IT cells کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ہم نے کبھی وہابیوں تو کبھی تبلیغیوں کے خلاف سوشل میڈیا پہ لمبے لمبے بھاشن دئے اور انہیں نیچا دِکھانے کی ہر کوشش کر کے IT Cellsاور سیاستدانوں کے مزموم ارادوں اور Narrativesکو مضبوط کر لیا یا جس طرح ہم نے سوشل میڈیا پہ رچی گئی سازشوں کا شکار ہوکرآپسی بھائی چارہ کو فراموش کیا، اب اِن چیزوں سے جتنی جلدی ہو سکے، اجتناب کیا جائے ۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام سوشل انجینئرنگ کے پینتروں سے خبر دار رہ کر ملی اتحاد کو تقویت بخشیں جس میں سب کی سلامتی مضمر ہے۔
رابطہ :ہردوشیواہ زینہ گیر،سوپور کشمیر
موبائل نمبر: 9906607520