افغانستان سے امریکی فوج کا انخلااکیسویں صدی کا وہ نا قابلِ فرمواش واقعہ ہے جس کے دور رس اثرات مستقبل میں عالمی سیاست پر ضرور پڑ نے والے ہیں۔ دنیا حیران ہے کہ آخر طالبان نے اتنی آ سانی سے افغانستان کو کیسے فتح کر لیا۔ گزشتہ مہینہ کی 15؍ تاریخ کو جب طا لبان نے افغانستان کے دارلحکومت کابل پر قبضہ کرلیا تھاتویہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے اس قبضہ کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی چھڑ جا ئے گی۔ قتل و خون کا بازار گرم ہوگا۔ لیکن یہ سارے خدشات اور پیش گوئیاںتاحال غلط ثابت ہوگئیں۔ افغانی عوام نے طالبان کو خوش آ مدید کہا، حتیٰ کہ افغانی فوج بھی طالبان کے ساتھ ہو گئی۔ اس طرح بغیر کسی بڑے خون خرابے طالبان نے افغانستان کی باگ ڈور سنبھال لی۔ 15؍ اگست 2021کو ملی اس غیر معمولی کا میابی کے بعد طالبان نے اپنے آ پ کو دنیا سے منوانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اعلانات کئے جس کی دنیا کو توقع نہیں تھی۔ 17؍ اگست کو پہلی مرتبہ منظر عام پر آ تے ہوئے طالبان کے ترجمان ذ بیح اللہ مجا ہد نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران جن باتوں کو بیان کیا، اس کی ساری تفصیلات میڈیا میں آچکی ہیں۔ اہم نکات یہ تھے کہ طا لبان نے اپنی کامیابی کے بعد عام معافی کا اعلان کر دیا۔ کسی سے کوئی بدلہ یا انتقام لینے کی بات نہیں کی گئی۔ خواتین کو تمام شرعی حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ افغان سر زمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی۔ غیر ملکی شہریوں اور سفارت خانوں کا تحفظ کیا جائے گااور تمام ممالک سے خوشگوار تعلقات رکھے جائیں گے۔ طالبان کے اس موقف کے بعد بھی مغربی میڈیا طالبان کے خلاف منفی پروپگنڈا کر نے میں اب بھی مصروف ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ طالبان کو ان کی آ ئندہ کی کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جا ئےاور یہ دیکھا جائے کہ انہوں نے اپنے ملک کی عوام اور بین الاقوامی برادری سے جو وعدے کئے ہیں، کیا وہ اس کے مطابق عمل کر رہے ہیں یا پھر اس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان ساری چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر یہ باور کر ا رہا ہے اب افغانستان شدید قسم کی خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا ، انسانی حقوق کی پامالی ہو گی اور امریکی افواج کے انخلا کے نتیجہ میں افغانستان میں ایک زبردست بحران آ جائے گا۔ طالبان کی جانب سے کئے جا نے والے اعلانات کو اگر مثبت انداز میں لیا جائے تو سارے خدشات اور اندیشوں کو ختم کرنے میں دیر نہیں لگتی لیکن مغرب افغانستان سے آ نے والی کسی اچھی خبر کوبھی قبول کرنے سے قاصر ہیں۔
بعض ممالک افغانستان میں طالبان کی کامیابی کو یہ کہہ کر مسترد کر رہے ہیں کہ یہ سب امریکہ سے ڈِیل کا نتیجہ ہے۔ امریکہ نے ہی طالبان کے ہاتھوں میں اقتدار دیا ہے اور وہ جب چاہے ان سے اقتدار چھین سکتا ہے۔ ان کی منطق ہے کہ ساڑھے تین لاکھ افغانی فوج نے طالبان کے سامنے کیسے ہتھیار ڈال دئے اور کیسے انہوں نے خود کو طالبان کا دوست قرار دے دیا۔اس بات پر بھی تعجب کا اظہارکیا جارہا ہے کہ ایک سُپر پاور آ خر کیسے بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کو افغانستان پر اپنی حکومت بنانے کے لئے رضا مند ہو گیا۔ حالانکہ یہی امریکہ تھا جس نے بیس سال افغانستان پر جنگ مسلط کر دی تھی اور اس جا رحانہ کاروائیوں کو سابق صدر امریکہ جارج ڈ بلیو بُش نے "صلیبی جنگ"سے تعبیر کیا تھا۔طالبان سے بر سر ِ پیکار رہنے کے لئے امریکہ نے کھربوں ڈالرخرچ کر ڈالے ۔ یہ سب کچھ کرلینے کے باوجود امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں کیوں واپس بُلائیں۔ یہ سوال انہیں پریشان کر رہا ہے۔ اس لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہی افغانستان میں اقتدار طالبان کے سپرد کیا گیا۔ اگر اس مفروضے کو قبول بھی کرلیا جائے تو یہاں بھی طالبان کی حکمت ِ عملی کا میاب نظر آ تی ہے۔ دنیا طاقت کے سامنے جھکتی ہے۔ طالبان نے اپنی پُر شکوہ طاقت کا مظاہرہ کر تے ہوئے امریکہ کے قدم افغانستان میں جمنے نہیں دیئے۔ ہر سطح پر امریکی افواج کا مقابلہ کیا اور بالاخر اپنی ایک نئی تاریخ رقم کر تے ہوئے امریکہ اور اس کے حمایتوں کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ وقت کی ایک بڑی طاقت سے لوہا لینا اور پھر اپنے وطن کو ان کے قبضہ سے آ زاد کر انا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ امریکہ کی نگاہیں افغانستان پر ایک لمبے عرصے سے لگی ہوئی تھی۔ اس کی دیرینہ خواہش تھی کہ افغانستان پر امریکہ کا قبضہ دائمی رہے۔ دہشت گردی کے ایک واقعہ کو بنیاد بناکر امریکہ نے اکتوبر 2001میں افغانستان پر جس انداز سے جارحانہ حملے کرکے پورے ملک کو تباہ برباد کر دیا تھا اور وہاں گز شتہ 20سال سے اپنےپنجے گاڑے ہوئے تھا ۔وہ دنیا کے سامنے ہےاور اب دنیا نےیہ عجیب منظر بھی دیکھا کہ امریکی طیارے 2001سے کابل میں موجود نیٹو ممالک کی افواج کو نکالنے کے بجائے صرف اپنے فوجیوں کو نکل کر افغانستان سے نکل گئے۔افغان حکومت جو امریکی اورنیٹو اتحادیوں کی چھتر چھایا میں تھی اس اچانک صورت حال سے اس قدر خوف زدہ ہوگئی افغان صدر ملک سے فرار ہو گئے۔ افغانیوں نے ثابت کر دیا کہ کوئی بھی طاقت زیادہ عرصہ تک کسی پر بھی اپنی طاقت کا دھونس نہیں جماسکتی۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد اس جنگ زدہ ملک کی تعمیرِ نو میں حصہ لینے کے لئے دنیا کے مختلف ممالک کو آ گے آنا چاہئے تھا۔ لیکن اس کے بر خلاف طالبان کے خلاف بیان بازی سے کام لیا جا رہا ہے۔ یہ باور کر ایا جا رہا ہے کہ اب افغانستان میں جنگ کے بادل منڈلا تے رہیں گے۔ افغانیوں کی اگر صرف حالیہ تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آ تی ہے کہ گز شتہ نصف صدی سے یہ قوم اپنے وطن کو بیرونی طاقتوں سے آ زاد کرانے کے لئے مسلسل بر سرِ پیکار رہی ہے۔ 1979میں اُ س وقت کی سوپر پاور طاقت سویت یونین نے افغانستان پر فوج کشی کر کے اس پر قبضہ کرنے کی پوری کوشش کی۔ کیمونسٹوں نے افغانیوں پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے کے اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ لیکن افغانیوں نے سویت یونین کے خلاف اپنی پنجہ آ زمائی میں کوئی کمی آ نے نہ دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سویت یونین کو افغانستان سے اپنی شکست و ریخت تسلیم کر تے ہوئے نکلنا پڑا۔ 1991میں یو ایس ایس آر کے بکھرجا نے کے بعد اس کی عالمی دادا گیری بھی ختم ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ افغا نستان پر حملے کے نتیجہ میں یو ایس ایس آر ٹوٹ گیا۔ 2001میں نائن الیون کے امریکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کو بنیاد بنا کر امریکہ نے افغانستان پر ہّلہ بول دیا۔ اس کے لئے یہ جواز تراشا گیا کہ اس حملے کے ذ مہ دار القاعدہ اور اسامہ بن لادن ہیں۔ ان بیس سالوں کے دوران افغانستان میں امریکہ نے جو تباہی مچائی وہ تاریخ میں درج ہو گئی ہے۔ دو لاکھ سے زیادہ افغان شہری امریکی فوج کا نشانہ بنے۔ ہزاروں باشندوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والوں نے افغانستان کی آزادی کے لئے جد وجہد کر نے والوں کو نا قابل بیان جسمانی اور ذہنی اذیتیں دیں۔ مظالم کی اس انتہا کے باوجود افغانیوں میں آزادی کا جذ بہ سرد نہیں پڑا۔ وہ سامراجی طاقت کے خلاف ڈٹے رہے اور یہ ثابت کیا کہ انہیں غلام اور محکوم بنانا آ سان نہیں ہے۔ امریکہ نے اپنی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے افغانیوں کواپنے زیرِ اثر لانے کے مختلف حربے اختیار کئے۔ اپنی عسکری طاقت کے بَل بوتے پر امریکہ افغانستان کو اپنی ایک کالونی میں تبدیل کر نے کے منصوبے بنا تا رہا۔لیکن طالبان نے ان کی ہر سازش کو ناکام کر تے ہوئے اپنی قوم کی حمیّت کو زندہ رکھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ کو بیس سال بعد افغانستان سے ندامت اور شرمندگی کے ساتھ واپس ہونا پڑا۔ افغانستان کی تاریخ معرکوں سے بھری پڑی ہے۔وہاںکسی بھی بیرونی طاقت کو مستقل اقتدار حاصل نہیں ہوا۔ تاریخ میں افغانستان کو "سلطنتوں کا قبرستان "(Graveyard of Empires) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں افغانیوں نے بڑی بڑی سلطنتوں کو خاک چٹوادی ہے۔ اب پھر ایک بار افغانیوں نے اکیسویں صدی میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ افغانستان میں آ ئے ہوئے پرامن انقلاب کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے۔آنے والا وقت بتائے گا کہ طالبان کس حد تک اپنے وعدوں کو پورا کر تے ہیں۔
فون نمبر۔ 9885210770
�����