سرینگر //وادی میں شدید گرمی کا زور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور گذشتہ تین روز سے بتدریج شدید گرمی سے لوگوں کا حال بے حال ہو چکا ہے۔ بدھ کو سرینگر میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.7ڈگری تک جا پہنچا جبکہ منگل کو سرینگر میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.3ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ 11برسوں کے دوران سرینگر میں دوسری بار دن کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے۔اس سے قبل 3جون 2018کو دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35ڈگری تک جا پہنچا تھا ۔محکمہ موسمیات کے ا عدادوشمار کے مطابق 25جون 2011کو سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33.8ڈگری ، 21جون 2012کو 33.6ڈگری ، 9جون 2013کو 34.1ڈگری ، 15جون 2014کو 33.0 ، 20جون 2015کو 32.6، 27جون2016کو 33.5ڈگری، 4جون 2017کو 30.6 ڈگری، 3جون2018کو 35ڈگری ، 30جون 2019کو 30.5ڈگری ،28 جون 2020کو 32.9ڈگری ،اور سال2021یعنی کل 9جون کو 34.7ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔منگل کو جہاں سرینگر میں درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا وہیں دیگر علاقوں میں بھی گرمی کی شدت کم نہیں تھی ۔ قاضی گنڈ میں 33.6ڈگری ، کپوارہ میں 34.6ڈگری ، پہلگام میں 30.3ڈگری ،گلمرگ میں 24.5 ڈگری ، کوکرناگ میں 32.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔ ادھر جموں میں بھی جھلسا دینے والی گرمی سے لوگ پریشان ہیں۔ محکمہ کے مطابق جموں میں منگل کو دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.7ڈگری تک جا پہنچا جبکہ بانہال میں 32.7ڈگری، بٹوت 31.7ڈگری ،کٹرہ 37.2ڈگری اور بدھرہ میں 33.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ محکمہ موسمیات نے 12اور13 جون کو وادی کے کچھ ایک علاقوں میں بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے ۔محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر مختار احمد نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں 12جون تک موسم خشک رہے گا اس دوران دن کے درجہ حرارت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ 12اور13جون کے درمیان بارشیں ہونے سے گرمی کی شدت معمولی طور کم ہو سکتی ہے ۔