فکر ِ صحت
پارا پڈایا
سردیوں میں چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے بچوں میں پھٹے ہونٹ اور بڑوں میں پھٹی ایڑھیوں جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔اگرچہ پھٹی ایڑھیاں بظاہر ایک عام سا مسئلہ دکھائی دیتا ہے لیکن اگر اس کا حل نہ کیا جائے تو یہ شدید صورت اختیار کر کے تکلیف دہ بھی ہو جاتا ہے۔جب سردی کی ٹھنڈی ہوا پھٹی ایڑھیوں سے ٹکراتی ہے تو درد مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں اور اس سے بچاؤ کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟ ماہر امراضِ جلد اور کاسمیٹولوجسٹ ڈاکٹر شاہینہ شفیق کے مطابق سردیوں میںپاؤں کی جلد میں تیل کے غدود کم ہوتے ہیں اور اس لئے وہ قدرتی طور پر خشک ہو جاتے ہیں۔ سردی کے باعث پاؤں کی جلد میں موجود یہ غدود اور بھی غیر فعال ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایڑھیاں پھٹ جاتی ہیں۔چنانچہ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، انسانی جلد اپنی قدرتی لچک کھوتی جاتی ہے اور جسم میں تیل کی قدرتی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث جلد خشک ہو جاتی ہے اور اس کے پھٹنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے پورے جسم کا وزن پیروں اور ٹخنوں پر زیادہ ہوتا ہے، اس لئے ایڑھیاں پھٹ سکتی ہیں۔ماہر امراض جلد ڈاکٹر آیانم ستیا نارائن کے بقول دیگر مسائل جیسا کہ چنبل، فنگل انفیکشن، ایگزیما، ذیابیطس اور تھائیرائیڈ کی بیماری بھی ایڑھیوں کے پھٹنے یا اس میں دراڑیں پیدا ہونے کا سبب بن سکتی ہے،سردیوں میں لوگ کم پانی پیتے ہیںاور جسم میں نمی کی کمی ہونے سے جلد پھٹنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔جبکہ پیر دھونے یا نہانے کے بعد انھیں باقاعدہ خشک نہیں کرانے سے بھی ایڑھیوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ڈاکٹر سیتا نارائنکے مطابق جن لوگوں کو پہلے سے یہ مسئلہ ہوتا ہے وہ سردیوں میں اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ یہ دراڑیں شاید کوئی بڑا مسئلہ نہ لگیں، لیکن ان سے پیروں میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔سردی کی وجہ سے لوگ گرم پانی سے نہاتے ہیں اور زیادہ گرم پانی کے استعمال کی وجہ سے جلد کی قدرتی نمی ختم ہو جاتی ہے جو جلد میں مختلف مقامات پر دراڑیں پڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔چنانچہ ٹھنڈی ہوا جسم میں موجود نمی کو خشک کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جلد کمزور ہو جاتی ہے۔ جسم میں وٹامن اے، سی اور ڈی کی کمی کی وجہ سے جلد پھٹنے لگتی ہے۔جلد کے خشک ہونے سے خارش اور دانے بھی ہو سکتے ہیںاور بعض اوقات کھرچنے زخم بھی بن جاتے ہیں،گویا اگر پھٹی ایڑھیوں کا خیال نہ رکھا گیا تو مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟
اپنے پیروں کو روزانہ نیم گرم پانی سے دھوئیں۔ پیروں کو دھونے یا نہانے کے بعد اپنے پیروں پر لوشن، کریم یا ناریل کا تیل لگائیں کیونکہ یہ خشکی کی روک تھام کرتے ہیں اور جلد کو چکنا بناتے ہیں۔سردیوں میں وافر مقدار میں پانی پینا ایک اچھا عمل ہے کیونکہ یہ خشک جلد کے عمل کو بڑھنے سے روک دے گا۔دن میں دو بار اپنے پیروں پر اچھے کوالٹی کا موئسچرائزر لگائیں۔عمر رسیدہ افراد اور شوگر کے مرض میں مبتلا افراد اپنے ٹخنوں کو ٹھنڈی ہواؤں سے بچانے کے لیے موزوں کا استعمال کریں۔ اومیگا فیٹی ایسڈ سے بھرپور بیج، گری دار میوے اور وٹامن سی سے بھرپور پھلوں اور کھانوں کو خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔تاہم اگر ایڑھیوں میں پڑی دراڑیں بڑھ چکی ہیں اور اُن سے خون بہہ رہا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔(بی بی سی)