سید سہیل گیلانی
زندگی کا اصل حسن صرف خوشیوں کی چمک میں نہیں چھپا، بلکہ ان کٹھن لمحات میں پنہاں ہے جو انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ آزمائشیں، مصائب اور ناپسندیدہ حالات وہ اسباق سکھاتے ہیں جو نہ کسی کتاب میں ملتے ہیں اور نہ کسی نصیحت میں۔ کامیاب انسانوں کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک قدر مشترک سامنے آتی ہے۔ انہوں نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر سخت ترین حالات کا سامنا کیا۔ یہی حالات ان کے لیے ترقی، پختگی اور بصیرت کا سبب بنے۔ اگرچہ یہ لمحات وقتی طور پر انسان کو زخم دیتے ہیں، مگر یہی زخم اس کے اندر چھپی ہوئی طاقت کو بیدار کرتے ہیں۔ مایوسی میں ڈوبا ہوا انسان اکثر اپنے آپ کو کمزور سمجھنے لگتا ہے، مگر وہی فرد جب صبر، استقامت اور سیکھنے کے جذبے کے ساتھ ان حالات کو قبول کرتا ہے، تو وہی سختی اس کے لیے راہِ نجات بن جاتی ہے۔ وہی شخص چراغ بن کر اندھیروں کو روشن کرتا ہے، طوفانوں میں راستہ بناتا ہے اور منزل کے قریب تر ہوتا جاتا ہے۔ جو شخص ہمیشہ آسانیوں کا متلاشی رہے، وہ کبھی مضبوطی اور وقار حاصل نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ بغیر محنت، قربانی اور آزمائش کے جو کامیابی حاصل ہو، وہ اکثر عارضی اور کمزور ہوتی ہے۔ جبکہ کٹھنائیوں سے گزر کر ملنے والی کامیابی نہ صرف پائیدار ہوتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ خودداری، وقار اور شعور بھی وابستہ ہوتا ہے۔ آخری تجزیے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سخت حالات انسان کی باطنی صلاحیتوں کو جگاتے ہیں۔ اگر ان کا سامنا حوصلے، صبر اور مثبت اندازِ فکر سے کیا جائے تو یہی آزمائشیں کامیابی کی پہلی سیڑھی بن جاتی ہیں اور یہی وہ نقطہ آغاز ہوتا ہے، جہاں انسان اپنی حقیقی پہچان اور اپنے خالق کے مقصدِ تخلیق سے آشنا ہوتا ہے۔
خاموش جدوجہد، بے صدا عزم کی کہانی !
کامیابی کی چکاچوند کے پیچھے ایک ایسی کہانی چھپی ہوتی ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ دنیا صرف نتیجہ دیکھتی ہے، مگر اس نتیجے تک پہنچنے کی راہ جو تکلیف، قربانی، تنہائی اور مسلسل جدوجہد سے بھری ہوتی ہے، وہ کم ہی کسی کو نظر آتی ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے جب وہ کسی بڑے خواب یا مقصد کے تعاقب میں خاموشی سے لڑ رہا ہوتا ہے۔ یہ جدوجہد بے آواز ہوتی ہے، اس میں نہ تالی بجتی ہے، نہ تعریف ہوتی ہے۔ بس دل کا یقین، ذہنی کشمکش اور روح کی تھکن ہوتی ہے۔ یہ خاموش جدوجہد راتوں کی نیند، اپنوں کی قربت اور وقت کی آسائش چھین لیتی ہے۔ مگر اسی جدوجہد میں ایک ایسا رنگ چھپا ہوتا ہے، جو وقت آنے پر زندگی کو نئی روشنی سے منور کر دیتا ہے۔ یہی خاموشی انسان کو اندر سے تراشتی ہے، اس کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے اور اس کے باطن میں یقین اور صبر کا نیا مفہوم پیدا کرتی ہے۔ سچی کامیابی وہی ہے، جو دل، دماغ اور روح کی مکمل شرکت سے حاصل کی جائےاور ایسی کامیابی کے پیچھے ہمیشہ ایک بے صدا جدوجہد کی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ بہر کیف یہ مان لینا چاہیے کہ ہر نمایاں شخصیت کے پس پردہ ایک ایسی داستان ہوتی ہے جسے وہ شاید کبھی بیان نہ کر سکے۔ یہ کہانی خاموش ضرور ہوتی ہے، مگر اس کی گونج پوری دنیا کو سنائی جا سکتی ہے۔
(مضمون نگار ہندوارہ سے تعلق رکھنے والے ایم ایس سی طالب علم ہیں)
: [email protected]