محترمہ کویتا بھاٹیہ
جب بھارت انڈیا۔اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، تو سب سے زیادہ موثر گفتگو نہ تو الگورتھمز کے بارے میں ہے اور نہ ہی آٹومیشن کے بارے میں، بلکہ شمولیت کے حوالے سے ہے۔ مصنوعی ذہانت کی اصل طاقت انسانی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مضمر ہے، خاص طور پر خواتین، غیر رسمی شعبے کے مزدوروں اور نوجوانوں کے لیے، جو طویل عرصے سےمعیاری معیشت کا حصہ بننے سے محروم رہے۔
“میک اِن انڈیا کے لیے اے آئی اور ہندوستان کے لیے اے آئی کو مؤثر بنانے” کے نظریہ کی رہنمائی میں، کابینہ نے مارچ 2024 میں انڈیا اے آئی مشن کی منظوری دی۔ مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی جناب اشونی ویشنو کی قیادت میں، انڈیا اے آئی مشن کی ٹیم نے اہم اقدامات کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر کام کا آغاز کیا جس میں : انڈیا اے آئی کمپیوٹ کیپیسٹی، انڈیا اے آئی انوویشن سینٹر(آئی اے آئی سی) ، انڈیا اے آئی ڈیٹاسیٹس پلیٹ فارم، انڈیا اے آئی ایپلیکیشن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، انڈیا اے آئی فیوچر اسکلز، انڈیا اے آئی اسٹارٹ اپ فنانسنگ، اور محفوظ و قابلِ اعتماد اے آئی شامل ہیں۔
مشن کی جامع ترقی پر توجہ انڈیا اے آئی انوویشن سینٹر میں بھرپور انداز میں جھلکتی ہے، جہاں ہندوستان کے متنوع سماجی و معاشی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے کثیر لسانی بڑے لینگویج ماڈلز اور شعبہ جاتی بنیادوں پر مبنی فاؤنڈیشنل ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ ماڈلز، جو قومی جی پی یو گرڈ کے ذریعے تیار گئے ہیں، مقامی زبانوں میں کام کرنے والے اے آئی معاونین، مائیکرو مشاورتی ٹولز اور مخصوص شعبہ جاتی معلوماتی انجن کے ذریعے خواتین کاروباریوں، کسانوں، مختصر مدتی مزدرووں اور چھوٹے دکانداروں کی خدمت کے لیے ڈیزائن کیے جا رہے ہیں۔
جہاں عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت پر ہونے والی بیشتر گفتگو پیداواری فوائد اور مسابقت پر مرکوز رہی ہے، وہیں ہندوستان میں اس کا سب سے طاقتور اثر شاید کام، تعلیم، تحفظ اور مواقع تک رسائی کو جمہوری بنانے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ شمولیت کے لیے اے آئی کو ایک مؤثر ذریعہ سمجھنے کا یہی نظریہ انڈیا۔اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا مرکزی نکتہ ہوگا، جو فروری میں منعقد کی جائے گی۔ پالیسی سازوں، اختراع کاروں اور صنعت کے قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر لاتے ہوئے، ہمارا مقصد اس بات پر جامع مکالمہ تشکیل دینا ہے کہ کس طرح اے آئی کو عوام، ترقی اور کرۂ ارض کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
ہندوستان کی تیزی سے پھیلتی ہوئی گیگ اور پلیٹ فارم معیشت میں، خواتین ایک نئی ڈیجیٹل افرادی قوت کی تشکیل میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کر رہی ہیں، جو اے آئی سے آراستہ ہے۔ چاہے وہ اے آئی سے تقویت یافتہ بازار کا فائدہ اٹھانے والی خواتین کاروباری ہوں، یا اے آئی پر مبنی سیکیورٹی سسٹم کے ذریعے محفوظ انداز میں کام کرنے والی خواتین ڈرائیورز اور ڈیلیوری پارٹنرز—یہ ٹیکنالوجی خاموشی سے ایجنسی کی ہیئت اور مواقع کی تشکیل نو کر رہی ہے۔مثال کے طور پر، بیوٹی اور ویلنَس پلیٹ فارموں کو لیجیے جو اے آئی پر مبنی میچنگ الگورتھمز استعمال کرتے ہیں تاکہ قربت، مہارت اور سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر صارفین کو سروس فراہم کرنے والے پیشہ ور افراد سے جوڑا جا سکے۔ ان میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے، جو اب لچکدار اوقاتِ کار، توقع کے مطابق آمدنی، اور اے آئی سے ممکن بنائے گئے تصدیقی اور ٹریکنگ نظاموں کے ذریعے بہتر تحفظ سے مستفید ہو رہی ہیں۔ اسی طرح، رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارمز نے ذہین حفاظتی نظام متعارف کرائے ہیں—جن میں بروقت لوکیشن شیئرنگ سے لے کر آواز کے ذریعے فعال ہونے والی ایمرجنسی سہولیات تک شامل ہیں—جس سے خواتین ڈرائیور زیادہ اعتماد اور خودمختاری کے ساتھ کام کر سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ نظام پہلے بھی موجود تھے، مگر اے آئی نے ان پلیٹ فارموں کی سکیورٹی، اعتماد پذیری اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
دیہی اور نیم شہری ہندوستان میں، اے آئی سے تقویت یافتہ مالیاتی ٹولز ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ مقامی زبانوں میں کام کرنے والے اے آئی معاونین اور آواز پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام خواتین کو خواندگی اور زبان کے مسئلہ پر قابو پانے میں مدد دے رہے ہیں، جس سے وہ مالی امور کو خودمختار اور محفوظ طریقے سے انجام دینے کے قابل ہو رہی ہیں۔
ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے، اے آئی محض ایک ٹول نہیں بلکہ ایک نئی معیشت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ مختلف ریاستوں میں حکومت اور نجی شعبے کے باہمی اشتراک سے اے آئی سے لیس افرادی قوت کی تیاری کا ایک مضبوط نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، جس میں بنیادی ڈیجیٹل خواندگی سے لے کر جدید مشین لرننگ تک کی تربیت شامل ہے۔ حکومتِ ہند نے حال ہی میں انڈیا اے آئی مشن کے تحت یووا اے آئی فار آل قومی اے آئی خواندگی مہم کا آغاز کیا ہے۔ نوجوانوں کے قومی دن کے موقع پر شروع کی گئی اس پہل کا مقصد ایک مختصر، خود رفتار “اے آئی 101” کورس کے ذریعے لاکھوں طلبہ اور نوجوان سیکھنے والوں میں اے آئی سے متعلق بنیادی آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اسکولوں، اعلیٰ تعلیم اور ڈیجیٹل لرننگ کے موجودہ نظاموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، یووا اے آئی فار آل اے آئی علم تک رسائی کو جمہوری بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ اے آئی خواندگی کو کسی مخصوص طبقے کی مراعات کے بجائے ایک بنیادی زندگی کی مہارت کے طور پر فروغ دیا جا سکے، اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بھارت کے نوجوان—خواہ ان کا تعلق کسی بھی خطے، زبان یا سماجی و معاشی پس منظر سے ہو—اے آئی پر مبنی معیشت میں بامعنی شمولیت کے لیے تیار ہوں۔
شمولیت میں اے آئی کا کردار روزگار تک محدود نہیں بلکہ عوامی فلاح و بہبود تک پھیلا ہوا ہے۔ مائی گیٹ اور سیف ہاؤس ٹیک جیسے اسٹارٹ اپس اے آئی پر مبنی تجزیاتی نظاموں کے ذریعے رہائشی اور دفتری ماحول میں خواتین کے تحفظ کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ اسی طرح، اے آئی سے تقویت یافتہ شکایات کے ازالے کے نظام سرکاری ہیلپ لائنوں جیسے 112 انڈیا میں ضم کیے جا رہے ہیں، جس سے ہنگامی خدمات کے لیے تیز تر ردِعمل اور ڈیٹا پر مبنی مؤثر تشکیل ممکن ہو رہی ہے۔
زرعی شعبے میں، کسان اے آئی جیسے اے آئی ٹولز مشین لرننگ ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے کیڑوں کے حملے اور موسم سے متعلق خطرات کی پیش گوئی کرتے ہیں، جس سے خواتین کسانوں کو باخبر اور مضبوط فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح، انڈیفی اور کنارا کیپیٹل جیسے فِن ٹیک اختراع کار اے آئی پر مبنی کریڈٹ اسکورنگ کو بروئے کار لا کر خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری یونیٹوں تک قرض کی رسائی کو وسعت دے رہے ہیں، جو تاریخی طور پر رسمی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم رہی ہیں۔
یہ وژن نیتی آیوگ کی رپورٹ “اے آئی فار اِنکلو سیو سوسائٹل ڈیولپمنٹ” میں بھی واضح طور پر جھلکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اے آئی، ہندوستان کے 49 کروڑ غیر رسمی شعبے سے وابستہ ملازمین کو صحت، تعلیم، مہارت سازی اور مالی شمولیت تک رسائی بڑھا کر بااختیار بنا سکتا ہے۔ اس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اے آئی پر مبنی ٹولز کس طرح اُن لاکھوں افراد کی پیداواریت اور مضبوطی میں اضافہ کر سکتے ہیں جو ہندوستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
جیسے جیسے مصنوعی ذہانت اقتصادی اور سماجی نظاموں میں تیزی سے مربوط ہوتی جا رہی ہے ، اس کے اخلاقی اور جامع استعمال کو یقینی بنانا قومی ترجیح بن گیا ہے ۔ ‘‘ اے آئی سب کے لئے ’’ کے اصول پر مبنی ، ہندوستان کا نقطہ نظر انصاف پسندی ، شفافیت اور جوابدہانہ پر مرکوز ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ٹیکنالوجی عدم مساوات کی بجائے مواقع کو فروغ دیتی ہے ۔ ادائیگیوں اور لاجسٹکس سے لے کر تعلیم اور عوامی خدمات تک روزمرہ کے پلیٹ فارموں میں اے آئی کو شامل کرکے ہندوستان ایک جامع ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام بنا رہا ہے جو ہر سطح پر لوگوں کو بااختیار بناتا ہے ۔ ہندوستان نے ڈیجیٹل ‘شرم سیتو’ کو بھی نافذ کیا ہے ، جو ایک قومی مشن ہے جو ہندوستان کی غیر رسمی معیشت میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کو مربوط کرنے کے لیے وقف ہے ۔ نفاذ کا ماڈل چار ستونوں پر بنایا گیا ہے: سیکٹر یا شخصیت کے لحاظ سے کلیدی ضروریات کی نشاندہی کرنا ، ریاستی حکومتوں کو عمل درآمد کے لیے بااختیار بنانا ، ایک فعال ریگولیٹری ماحول پیدا کرنا ، اور لاگت کو کم کرنے اور وسیع رسائی کو یقینی بنانے کے لیے شراکت داری تشکیل دینا ۔ یہ حکومت ، کاروبار اور این جی او کو اکٹھا کرے گا ، جو اس کے اثرات جاننے کے لیے ایک موثر نظام کے تحت کام کر رہے ہیں ۔ رسائی اور مساوات کا یہ ماڈل گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک زبردست خاکہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح اے آئی بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی تبدیلی کو فعال کر سکتا ہے ۔
اگر ڈیجیٹل انڈیا اور یو پی آئی کی قیادت میں ہندوستان کے ڈیجیٹل انقلاب کی پہلی لہر ، شہریوں کو جوڑتی ہے ، تو اگلے مرحلے میں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اے آئی انہیں مواقع سے جوڑے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے نظام کی تشکیل کرنا جو کثیر لسانی ، صنفی حساس اور قابل رسائی ہوں ، جہاں دیہی خاتون کاروباری ، ناگالینڈ کی ڈیٹا لیبلر ، اور بھوپال کی نوجوان پروگرامر سبھی کا ہندوستان کے اے آئی مستقبل میں حصہ ہے ۔
ہندوستان میں اے آئی کے طاقت کی پیمائش اس کے الگورتھم کی نفاست سے نہیں ، بلکہ عملی میدان میں مساوات پیدا کرنے کی صلاحیت سے کی جائے گی ۔ خواتین، نوجوان اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ ملازمین محض فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی مساوی معیشت کےمعمار بن رہے ہیں ۔ جس طرح دنیا، انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ- 2026 میں ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے ، جو یہ ثابت کرے گا کہ شمولیت پر مبنی یہ ترقی صرف ٹکنالوجی کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی سب سے بڑی اختراع ہے۔
(مضمون نگارملک کی سائنسداں ’ جی‘، گروپ کوآرڈینیٹر،
الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت ؛ سی او او، انڈیا اے آئی مشن ہیں۔)