ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
اندھیری شب ہے ،جدا ہے اپنے قافلے سے تو
تیری لئے میرا شعلۂ نوا ہے قندیل
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اسکی حسین ہے ابتداء اسکی خلیل (علامہ اقبال )
جب بشری جبلت اور اَنّا و لا غیری کا روگ انسانی حواس اور عقل و شعور کی سرحدوں کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ لیتا ہے تو پھر خالق و مخلوق کا امتیاز اور اولاد آدم کے تخلیقی تفوق کا تصور جہالت اور تنزل کے قعر ذلت میں دفن ہو جاتا ہے اور بہیمی خواہشات کا سیل رواں، پشت زمین پے ہر طرف تباہی و بربادی کامنظر پیش کرتا ہے۔خوف و ہراس اور دہشت و وحشت، اضطراب اور بے چینی، حزن و حرماں اور رنج و ملال ، شرق و غرب عدم تحفظ اور شکست و ریخت کے کارزارِ میں نئی جان ڈال کر انسانی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔انسانی تاریخ میں ایسے حالات کی گردش نے بنی نوع انسان کو بار بار مصائب و آلام کے بھنور میں دھمکیل کر بے یار و مددگار ،جاں بلب اور از خود رفتہ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔جب صفحہ ہستی کے کسی بھی کونے میں ، انسانیت ایسی کیفیت سے دو چار ہوتی ہے تو اسکی فکری صلاحیت اسقدر مفلوج ہو جاتی ہے کہ خالق کی بجائے مخلوق کی بندگی میں سہارا تلاش کرتی ہے اور یہی وہ عیب ہے جس سے انسانیت کے تخلیقی تفوق اور برتری کا حصار منہدم ہو جاتا ہے اور چاروں طرف جہالت کی تاریکی کی گھٹا چھا جاتی ہے ،مگر اس طاغوتی رقص کو قدرت زیادہ دیر تک برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوتی ہے اور توہمات و خرافات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کے اندر ہی کسی ایسے انسان کو جنم دیتی جسکا فکری شعور تن تنہا جذبۂ ایثار سے لبریز پوری قوم کے مردہ شعور کو جگانے کی راہیں ہموار کرتا ہے اور یہی کردار حضرت ابراہیم خلیل الرحمٰن ؑ نے مسلسل قربانیاں دے کر اور آزمائشوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے پیش کیا۔لیکن یہ شعور انکے ضمیر میں تب بیدار ہوا جب انہوں نے تدبر و تفکر کے بعد راہ حق تلاش کرنے کی ٹھان لی، چونکہ سورت العنکبوت میں رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے:’’اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھا دیتے ہیں اور بے شک الله نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔‘‘
جونہی حضرت ابراہیم ؑ نے طاغوتی رہ رسم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو ابتلاؤں و آزمائشوں کا سنگین دور پورے زور و شور سے انکے شعلۂ نوا کو بجھانے کے درپے آمادہ ہوگیا۔ اپنے ہی گھر میں اپنے ہی والد کی صنم تراشی سے آزردہ و نالاں بیٹے نے خالق حقیقی کی وحدانیت اور ربوبیت کی دعوت پیش کی تو نہ صرف گھر سے بے گھر ہونا پڑا، بلکہ نار نمرود کے شعلوں کے درمیان کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑا۔اتنا ہی نہیں وطن عزیز کو بھی خیر باد کہنا پڑا۔ اپنی شریک حیات حضرت ہاجرہ کو اپنے شیر خوار بچے سمیت وادئ غیر ذی ذرع میں، تن تنہا چھوڑنا پڑا۔چھیاسی برس کی عمر کہولت تک اولاد کی دولت بھی نصیب نہ ہوئی اور جب بارگاہ ایزدی نے ایک فرزند ارجمند نصیب کیا اور اسی فرزند واحد نے جب بلوغت کی دہلیز پے قدم رکھا تو اسے قربان کرنے کا حکم صادر ہوا ۔یہ حضرت ابراہیمؑ کے ایمان و ایقان اور عقیدۂ توحید کی آخری مگر سنگین آزمائش تھی لیکن اس میں بھی انہیں تامل نہ ہوا۔بیٹے
کے گلے پے چھری پھیرنے ہی والے تھے کہ ندا آئی ، اے ابراہیم رُک جا۔تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ادھر جنت سے بھیجا گیا دنبہ اپنی گردن تیار لئے شوق سے تیار تھا۔حضرت ابراہیمؑ نے اس جنت سے بھیجے گئے دنبے کو ذبح کیا اور یہ سنت قیامت تک کے لئے قائم ہوگئی اور حضرت ابراہیمؑ، رب کی سبیل پے سفر حیات طے کرتے ہوئے خلیل کے ابدی مقام و اعزاز اور شرف و تفوق سے سرخرو اور سرفراز ہوئے۔
اس مجمل روحانی تاریخ سے امت بیضاء کے مرد وزن کو یہی سبق اور رہنمائی و رہبری ملتی ہے کہ رب ذوالجلال نے بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔اس شرف تفوق کی بقاء رب ذوالجلال کی تسلیم و رضاء میں مضمر ہے اور راہ حق کی عملی تصویر پیش کرنے کے لئے حضرت انسان کو اپنی نفسانی خواہشات اور بہیمی جذبات پے مکمل ضبط رکھنے کی ضرورت ہے۔
قربانی کا معنی الله کا قرب حاصل کرنا ہے اور قرب جذبۂ ایثار سے بلواسطہ مربوط ہے اور ایثار کا مطلب اپنی ضروریات پے دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دینا ہے۔قربانی اور جذبۂ ایثار مومن کی ساخت و شناخت اور معراج ہے۔یہ محض دو الفاظ نہیں بلکہ ایک پورے روحانی سفر ، فکری وسعت، ایک عمل پیہم اور ایک بلاناغہ سلسلۂ صالحات کی زندہ تحریک اور ایک روشن دلیل ہے۔ان دو الفاظ کی تحریک کو ایمان و ایقان اور عقیدۂ توحید کی مضبوطی کے ساتھ اپنی رگ و پے میں اتار نا ہی ابدی کامیابی کی ضمانت ہے مگر یہ سفر رسوم یا دعاوی سے طے نہیں ہو سکتا ہے۔حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی اس حقیقت کی عملی تصویر ہے۔
جس طرح پورے مہینے کے روزوں کے بعد عید منانے کا حکم بلکہ اجازت ہے ،بالکل اسی طرح سال بھر ہمیں حرص وہوس، مکر و فریب، ظلم و زیادتی، حق تلفی و عیب گوئی ، غیبت و بہتان تراشی اور نفس امارہ کی تما تر یلغار سے بر سر پیکر رہ کر اور صالحات کی بجاآوری کے بعد ہی قربانی کی خوشی میں جانور ذبح کرنے کا حق حاصل ہے۔اگر ہم سال بھر اپنی انا اور اپنے نفس امارہ کی ترغیبات کو ذبح کرنے میں غافل و ناکام رہے تو سال کے بعد جانور کی قربانی محض ایک رسم ہوگی کیونکہ رب ذوالجلال کا اعلان ہے کہ نہ تو مجھ تک گوشت پہنچتا ہے اور نہیں لہو بلکہ مجھ تک آپکا تقویٰ پہنچتا ہے اور تقویٰ سے مراد منکرات سے رکنا اور اور امر باالمعروف ہے ،دوام و ثبات کے ساتھ پابند رہنا، ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کی روح کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں اور ایمان و ایقان اور تسلیم و رضاء کے مقام کو حاصل کرنے کی فکر کریں۔
تازہ پھر کیا دانش حاضر نے سحر قدیم
گذر اس دور میں ممکن نہیں بے چوب کلیم
عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ ملا ہے، نہ، زاہد، نہ حکیم (علامہ اقبال )
رابطہ۔9858018662.
[email protected]