آغا سید عابد حسین الحسینی
سانحہ گلوان پورہ، بڈگام نے ہماری روحوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا گہرا زخم لگایا ہے جس کی ٹیسیں مدتوں محسوس کی جاتی رہیں گی۔ ایک معصوم اور بے گناہ بچے کا بے رحمانہ قتل محض ایک انفرادی جرم نہیں، بلکہ ایک پورے معاشرے کی اخلاقی موت کا المناک اعلان ہے۔ جب کسی معاشرے میں کلیاں مسلی جانے لگیں اور پھول پیروں تلے روندے جانے لگیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ انسانیت دم توڑ رہی ہے اور حیوانیت غالب آچکی ہے۔ قرآنِ کریم کا یہ ابدی اصول کہ ’’جس نے کسی نفس کو ناحق قتل کیا، اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔‘‘ آج ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس سفاکیت پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے، اس کے اسبابِ علل کا گہرائی سے جائزہ لیں۔
یہ ہولناک واقعہ اس بھیانک معاشرتی زوال کا نقطۂ کمال ہے جس کی جڑیں اسلامی اقدار سے مجرمانہ بے توجہی میں پیوست ہیں۔ ہم نے حدود اللہ کو پامال کیا، حیا اور پردے کے فطری حصار کو جدیدیت کی بھینٹ چڑھا دیا اور ‘ام الخبائث ،یعنی شراب و منشیات کی لعنت کو اپنے گلی کوچوں میں عام ہونے دیا۔ سوشل میڈیا کے بے لگام اور غلط استعمال نے رہی سہی کسر پوری کر دی، جہاں بے راہ روی اور تشدد کو فروغ ملا۔ رشتوں کا تقدس پامال ہوا اور والدین و اساتذہ کی عزت و تکریم، جو اسلامی معاشرے کا طرۂ امتیاز تھی، قصہ پارینہ بن گئی۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم رسمی تعزیت اور وقتی جذباتی ردعمل سے آگے بڑھ کر حقیقی محاسبے کا آغاز کریں۔ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ ’’وہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔‘‘ زیرِ نظر مقالہ اسی تڑپ اور احساسِ ذمہ داری کا عکاس ہے۔ اس میں نہ صرف موجودہ انحطاط کے اسباب کا احاطہ کیا گیا ہے، بلکہ قارئین کے سامنے قرآنی حکمتِ عملی اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اصلاحِ احوال کا ایک واضح، عملی اور جامع لائحہ عمل بھی پیش کیا گیا ہے۔ یہ تحریر ایک ناصحانہ پکار ہے تاکہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور اپنے معاشرے کو جہنم کا نمونہ بننے سے بچا سکیں۔
گلوان پورہ بڈگام کا المناک واقعہ جہاں ایک معصوم بچی کو ددمنشانہ طور پر قتل کیا گیا، پوری انسانیت کو شرمسار کر کے رکھ دیا۔ جب ایک پولیس افسر کی بچی وحشیانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتر دی جائے، قرآن سینے سے لگا کر درس گاہ جانے والی معصوم کو اغوا کیا جائے، بارہ سالہ بچی سے تجاوز کیا جائے اور پھر اسی اپنے ہی محلے میں مار دیا جائے تو آنکھوں سے خون کے آنسو بہانے چاہئیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے زوال کی علامت ہے۔
کشمیر میں بڑھتے ہوئے دلخراش واقعات :
کشمیر میں روزانہ قتل، خودکشی، جھگڑے، شراب نوشی اور نشے کی لت معمول بن چکے ہیں۔ جب بھی ان حالات پر سوال اٹھتے ہیں تو صرف ادارے اور انتظامیہ نشانے پر آتی ہے، حالانکہ اس میں گھر کا ماحول، محلے کی برادری، مساجد کے امام، مفتیان اور واعظان بھی برابر کے شریک ہیں۔ ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور ان فتنوں سے پوری قوم کو نجات دلانی ہوگی۔
معاشرتی برائیوں کے اسباب و عوامل :
معاشرے میں ان برائیوں کے پھیلنے کے چند اہم کلی اور جزئی عوامل درج ہیں:(۱)اسلامی اقدار سے بے توجہی(۲)مادیات کا بول بالا ہونا(۳)سوشل میڈیا کا بے جا استعمال(۴)منشیات اور شراب کا عام ہونا(۵)والدین، اساتذہ اور معزز شخصیات کی بے عزتی
قرآنی تعلیمات کی روشنی میں معاشرتی اصلاح :
ناحق قتل کی مذمت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور اس جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے، ناحق قتل نہ کرو۔‘‘(الأنعام: 151)۔ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’جس نے کسی انسان کو بغیر قصاص یا زمین میں فساد کے قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔‘‘(المائدہ: 32)۔معصوم بچی کا قتل انتہائی سنگین جرم ہے اور لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ انہیں کس گناہ میں مارا گیا ہے۔
بے حجابی اور پردے کی اہمیت: قرآن میں حکم دیا گیا،’’اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘(النور: 31)
جب معاشرے میں پردے اور حجاب کا تصور کمزور ہوتا ہے تو بے راہ روی بڑھتی ہے۔ بچیوں اور عورتوں کے اغوا اور زیادتی کے واقعات اسی بے راہ روی کا نتیجہ ہیں۔
شراب اور نشے کی مذمت : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسے یہ سب گندے کام ہیں جو شیطانی ہیں، ان سے بچو۔‘‘(المائدہ: 90)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،’’ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔‘‘آج کل نوجوانوں میں منشیات کا عام ہونا، اور ہر گلی کوچے میں شراب خانہ پایاجانا اور شراب نوشی کا رواج معاشرتی زوال کی بڑی علامات ہیں۔ انہی چیزوں نے انسانوں کو حیوانیت کی طرف دھکیل دیا ہے۔
والدین اور اساتذہ کی تعظیم : اللہ کا حکم ہے:’’اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔‘‘(الاسراء: 23)
جب معاشرے میں بچے والدین، اساتذہ اور بزرگوں کی بے عزتی کرنے لگیں تو یہ پوری قوم کے زوال کی علامت ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ہم میں سے وہ نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے۔‘‘
اصلاح کے لیے عملی اقدامات :
گھر سے آغاز:والدین اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پروان چڑھائیں۔ نماز، روزہ، صبر و حیا اور قرآن کی تعلیم کو یقینی بنائیں۔مساجد کا کردار:ائمہ اور خطیب اپنے خطبات میں معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔ نوجوانوں کی اصلاح کے لیے خصوصی پروگرام بنائیں۔
سوشل میڈیا کا مناسب استعمال:غیر ضروری اور فحش مواد سے بچیں۔ اسلامی معلومات اور اخلاقی تعلیمات کو فروغ دیں۔ حکومت وقت بھی پورونوگرافی، فحاشی اور بیھودہ ویب سائٹس پر فلٹرنگ کرے۔
منشیات کے خلاف جنگ:پولیس، انتظامیہ اور علماء مل کر منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں اور وادی بھر شراب خانہ کھولنے پر پابندی لگائیں اور نشے کے عادی افراد کے علاج کا انتظام کریں۔
محلے کی برادری: پڑوسیوں کو ایک دوسرے کے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر کوئی مشکوک حرکت نظر آئے تو فوری اطلاع دی جائے۔
مظلومہ و مقتولہ کے والدین سے اظہار ہمدردی اور ہر محلے میں مظلومہ کے لیے قرآن خوانی کرنا، اس سے نہ صرف میت کو ثواب پہنچے گا بلکہ زندہ لوگوں کو بھی عبرت حاصل ہوگی۔
مدرسے اور دانشگاہیں معاشرے کے فکری مراکز ہیں۔ ان میں مستقل بنیادوں پر خواتین کے تحفظ، بچوں کے حقوق، نشوں کے نقصانات اور اسلامی اقدار پر سیمینار اور کانفرنسز کا مسلسل انعقاد کیا جائے۔
مجرم کی کڑی سزا: شریعت محمدی ؐکے مطابق ایسے جرم کے مرتکب ہونے والے مجرم کو سرعام پھانسی دی جانی چاہئے تاکہ دوسروں کو کیلئے باعث عبرت بنے اگر چہ سرِ عام پھانسی دینا یہاں ممکن نہیں مگر ہندوستان کے قانون کے مطابق بھی ایسے مجرم کو پھانسی ہی ملے گی دفع (BNS Section 65(2)) کے مطابق۔
مجرم کے حوالے سے ماہر نفسیات اور تحقیقاتی انکشافات سے عوام کو آگاہی۔ اکثر ایسے واقعات میں مجرم کی نفسیاتی حالت، اس کے ماضی، اس کے محرکات کو چھپا دیا جاتا ہے یا سنسنی خیز بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہر نفسیات (psychologist) اور تفتیشی اداروں کے انکشافات کو باقاعدہ پریس بریفنگ یا آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے تاکہ لوگ جرائم کی جڑوں کو سمجھ سکیں اور مستقبل میں احتیاط برتیں۔
خلاصہ کلام: گلوان پورہ بڈگام کا واقعہ ہمارے لیے آئینہ دار ہے۔ ہمیں اب بیدار ہونا ہوگا۔ صرف اداروں پر الزام لگانے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہر شخص کو اپنے دائرے میں اصلاح کرنی ہوگی۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کو اپنانا ہی واحد راہ نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
آخری پیغام:’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔‘‘(الرعد: 11)