فکر انگیز
ڈاکٹر روبینہ
سن 1921ء کی بات ہے۔ ایک بحری جہاز بحیرۂ روم کی نیلی لہروں کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ ڈیک پر کھڑے ایک دبلے پتلے ہندوستانی نوجوان کی نظریں پانی پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ یورپ سے واپس آ رہا تھا، دل میں ہزار خیال اور آنکھوں میں ہزار سوال۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک بات آئی جو بچپن سے اسے پریشان کرتی تھی:’’یہ سمندر نیلا کیوں ہے؟ کیا یہ آسمان کا عکس ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟‘‘یہ نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ چندرشیکھر وینکٹ رامن تھے جنہیں ہم سر سی وی رامن کے نام سے جانتے ہیں۔ وطن واپس آتے ہی انہوں نے تجربات شروع کر دیے۔ سات سال کی محنت، سینکڑوں تجربات اور پھر 28 فروری 1928ء کو وہ لمحہ آیا جب انہوں نے دریافت کیا کہ جب روشنی کسی شفاف مادے سے گزرتی ہے تو اس کی طولِ موج میں تبدیلی آتی ہے۔ یہی ’’رامن اثر‘‘ تھا جس نے انہیں 1930ء میں نوبل انعام دلایا اور سائنس کی دنیا میں برصغیر کا سر فخر سے بلند کر دیا، لیکن اس پوری کہانی میں اصل سبق نوبل انعام نہیں ہے۔ اصل سبق وہ سوال ہے جو ایک جہاز کے ڈیک پر پیدا ہوا تھا۔ سر سی وی رامن اس بات پر زور دیتے تھے کہ سائنسی دریافت کی بنیاد درست سوال سے پڑتی ہے۔ ان کے نزدیک فطرت کے راز اسی وقت کھلتے ہیں جب انسان تجسس کے ساتھ سوال اٹھاتا ہے اور تجربے کے ذریعے جواب تلاش کرتا ہے۔ یہی بے چینی اور جستجو سائنسی مزاج کی اصل روح ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ 51Ahایک اہم دفعہ ہے جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ہر ہندوستانی شہری کا فرض ہے کہ وہ ’’سائنسی مزاج، انسان دوستی اور تحقیق و اصلاح کی روح کو فروغ دے۔‘‘ یہ محض ایک قانونی جملہ نہیں بلکہ ایک قومی وژن ہے، جس کے مطابق ہر شہری توہم پرستی کی بجائے دلیل کو اختیار کرے، افواہوں کی بجائے حقائق کو پرکھے اور اندھی تقلید کی بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔
سائنسی مزاج صرف لیبارٹری تک محدود نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے تو وہ سائنسی مزاج ہے۔ جب ایک کسان موسمی پیش گوئی کی بنیاد پر اپنی فصل کا منصوبہ بناتا ہے تو وہ سائنسی مزاج ہے۔ جب ایک نوجوان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر کو بغیر تصدیق کے آگے نہیں بڑھاتا تو وہ بھی سائنسی مزاج ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہر طبیعیات رچرڈ فائن مین نے کہا تھا:’’سائنس کی پہلی شرط یہ ہے کہ تم خود کو دھوکا نہ دو، اور تم وہ شخص ہو جسے دھوکا دینا سب سے آسان ہے۔‘‘درحقیقت سائنسی مزاج اپنے آپ سے ایمانداری کا نام ہے۔سن 2020 میں 34 سال کے طویل وقفے کے بعد ہندوستان نے نئی قومی تعلیمی پالیسی NEP 2020 کا اعلان کیا۔ وزارت تعلیم، حکومت ہند کی یہ دستاویز محض چند صفحات پر مشتمل پالیسی نہیں بلکہ تعلیم کے پورے فلسفے پر نظرثانی کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ NEP 2020 واضح طور پر کہتی ہے کہ تعلیم کا مقصد رٹہ اور امتحان پر مبنی ذہنیت سے آگے بڑھنا ہے۔ بچوں میں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا اس کا بنیادی ہدف ہے۔ ابتدائی بچپن کی تعلیم پر زور اس لیے دیا گیا ہے کہ سائنسی مزاج کی بنیاد کم عمری میں ہی رکھی جائے، کھیل، مشاہدے اور سوال کے ذریعے۔ STEM کے ساتھ آرٹس کو شامل کر کے STEAM کا تصور پیش کیا گیا ہے تاکہ سائنس کو ادب، فنون اور سماجی علوم کے ساتھ جوڑ کر متوازن شخصیت کی تعمیر کی جا سکے۔ پانچویں جماعت تک مادری زبان میں تعلیم دینے کی سفارش بھی اسی لیے کی گئی ہے کہ بچہ اپنی زبان میں بہتر طور پر سوچ اور سمجھ سکتا ہے۔ یہ تمام نکات نظری طور پر بہت متاثر کن ہیں، لیکن کاغذ سے کلاس روم تک کا سفر آسان نہیں۔ اس سفر کا سب سے اہم کردار استاد ہے۔ ASER 2023 کی رپورٹ کے مطابق ملک کے کئی سرکاری اسکولوں میں سائنس کی تدریس اب بھی محض کتابی معلومات تک محدود ہے۔ طلبہ فارمولے یاد کرتے ہیں مگر ان کے عملی اطلاق سے ناواقف رہتے ہیں۔ National Council for Teacher Education کے مطابق ملک میں اساتذہ کی کمی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں ایک استاد کو کئی جماعتیں سنبھالنی پڑتی ہیں۔
NEP 2020 کے باب پنجم میں اساتذہ کو تعلیمی اصلاحات کا محور قرار دیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ استاد ہی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اساتذہ کو وہ وسائل، تربیت اور عزت فراہم کی ہے جو اس ذمہ داری کے لیے ضروری ہے؟ کیرالا کے اسکولوں میں سائنس فیسٹیول کی روایت نے طلبہ میں تحقیق اور تجربے کا رجحان پیدا کیا ہے۔ گجرات کے بعض اضلاع میں Atal Innovation Mission کی اٹل ٹنکرنگ لیبز نے بچوں کو سائنسی ایجادات کی طرف راغب کیا ہے۔ راجستھان کے ایک استاد نے مقامی اور کم خرچ اشیاء سے سائنسی کٹ تیار کی جسے NCERT نے سراہا۔ وہ کسی اعلیٰ تحقیقی ادارے سے وابستہ نہیں تھے بلکہ ایک عام سرکاری اسکول کے استاد تھے۔ یہ انفرادی کوششیں حوصلہ افزا ہیں ۔ NCERT کے نئے نصابی فریم ورک NCF-2023 میں تجرباتی اور سرگرمی پر مبنی تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ Department of Science and Technology کی INSPIRE اسکیم نے نوجوانوں کو سائنس کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ Vigyan Prasar نے مقامی زبانوں میں سائنسی مواد فراہم کر کے علمی رسائی کو وسعت دی ہے۔یہ تمام کوششیں اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گی جب روزانہ کلاس روم میں کھڑا استاد خود سائنسی مزاج کا حامل ہوگا۔ ایک اچھا استاد وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب جانتا ہو بلکہ وہ ہے جو طلبہ کو سوال پوچھنے کا حوصلہ دے اور خود بھی کہہ سکے: ’’مجھے معلوم نہیں، آئیے مل کر تلاش کرتے ہیں۔سائنسی مزاج کی حقیقی تشکیل کلاس روم میں ہوتی ہے اور اس عمل کا مرکزی کردار استاد ادا کرتا ہے۔ ایک باشعور استاد صرف معلومات منتقل نہیں کرتا بلکہ سوال پیدا کرتا ہے، وہ غلط جواب کو ناکامی نہیں سمجھتا بلکہ اسے سوچ کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بناتا ہے۔ جب تدریس سوال پر مبنی، مسئلہ حل کرنے والی اور سرگرمیوں سے جڑی ہو تو سائنسی مزاج فطری طور پر پروان چڑھتا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود ایک تخلیقی استاد روزمرہ اشیاء اور مقامی ماحول کو تجربہ گاہ بنا سکتا ہے۔ یوں استاد محض نصاب مکمل کرنے والا نہیں رہتا بلکہ فکری رہنما بن جاتا ہے اور کلاس روم رٹّے کی جگہ جستجو کی فضا میں بدل جاتا ہے۔ جیسا کہ مشہور ماہرِ تعلیم جان ڈیوی نے کہا تھا: ’’تعلیم زندگی کی تیاری نہیں بلکہ خود زندگی ہے۔‘‘NEP 2020 کے مطابق اساتذہ کے لیے سالانہ ۵۰ گھنٹے کی پیشہ ورانہ ترقی کی تربیت لازمی قرار دی گئی ہے جسے سنجیدگی سے نافذ کرنا ہوگا۔ والدین کو بھی اس عمل میں شریک کرنا ضروری ہے تاکہ گھر اور اسکول کا ماحول ہم آہنگ ہو کیونکہ جو بیج استاد اسکول میں بوتا ہے، اسے گھر میں بھی پانی ملنا چاہیے۔ اردو، ہندی اور دیگر زبانوں میں معیاری سائنسی مواد کی فراہمی بھی ناگزیر ہے کیونکہ زبان فہم کی بنیاد ہوتی ہے۔ سر سی وی رامن نے ایک سوال سے دنیا کو ایک نئی دریافت دی، لیکن وہ سوال اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ان کے اندر کا طالبِ علم کبھی نہیں مرا۔ ہمیں ایسے استاد درکار ہیں جو اپنے طلبہ کے اندر کے طالبِ علم کو زندہ رکھیں جو سوال کو خوش آمدید کہیں، جو تجربے میں ناکامی سے نہ گھبرائیں اور جو ہر کلاس روم کو رامن کے اس جہاز کے ڈیک میں بدل دیں ،جہاں سوال پیدا ہوتے ہیں، مرتے نہیں۔ جب ہمارے اسکولوں کا ہر کمرہ تجسّس کا مرکز بن جائے گا، جب ہر اُستاد رہنما کے طور پر سامنے آئے گا اور جب ہر بچہ سوال پوچھنے میں فخر محسوس کرے گا تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے سر رامن کی میراث کو سچے معنوں میں اپنایا اور قومی سائنس ڈے کا حق ادا کیا۔