حال و احوال
ڈاکٹر عبدالقادر
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے ،اس دور میں معیشتوں کی ترقی کا راستہ ٹیکنالوجی کی گلیاروںسے ہوکر گزرتا ہے۔ ماضی میں جن کاموں کا ہونا ایک خواب کے مانند تھا وہی آج ٹیکنالوجی کی موجودگی میںوہ سب کچھ ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کی رسائی کے فوائد پر اگر نظر دالیں تو انسان کی روزمرہ کی ضروریات جیسے بینکنگ خدمات کی فراہمی میں آسانی، ریل اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ بُک کرنا، ٹیکنالوجی کے استعمال سے تعلیم کے شعبہ میں عیاں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیاں، صحت سے متعلق سہولیات کااعلیٰ معیاری اور کفایتی ہونا، ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات کی ترسیل، مصنوعی ذہانت کا استعمال اور متعدد سہولیات یہ سب ٹیکنالوجی کی ارتقاسے ممکن ہو پایاہے۔ایک طرف ٹیکنالوجی کے متعدد فوائدہیںوہی دوسری طرف اگر اس کا استعمال ہوشمندی سے نہ کیا جائے تو یہ نقصان کا سبب بھی بنتی ہے۔آج کے دور میں کثیر آبادی موبائل، لیپ ٹاپ اور دوسرے الیکٹرانک آلات کا استعمال کرتی ہے جس سے سائبر فراڈ کے خدشات میں اضافہ ممکن ہے اور یہ مسئلہ روزبروزسنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں سائبر فراڈ سے ہونے والے نقصانات پر اگر نظر ثانی کریںتوسال 2025میں ہندوستان کے باشندگان نے 22800کروڑروپے سائبر فراڈ کے واقعات میں گنوائے ہیں۔ وہی سائبر فراڈ سے متعلق پچھلے6 سالوں کا جائزہ لیںتو یہ رقم52000کروڑسے بھی زیادہ ہے۔ سائبر فراڈ کودرج کرنے والی ایک ویب سائٹس کے مطابق سال 2025میں پوری دنیا نے5.10 ٹرلین یو ایس ڈالر گنوائے ہیں، یہ مالیت سال 2015میں صرف 3ٹرلین یو ایس ڈالر تھی۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی کا ستعمال بڑھ رہا ہے سائبر فراڈ کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سائبر فراڈکی اقسام صرف زرکی چوری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع تر ہے۔براہ راست زر کی چوری کے علاوہ کسی خاص مقصد کے لئے ڈاٹا کی چوری،انٹرنیٹ کے ذریعے بینکنگ سسٹم کو ہیک کرنا، بچلی کے گریڈ کو متاثر کرنا، دانشورانہ ملکیت کو نقصان پہچانا، انفرادی اور نجی ڈاٹا کی چوری، ممالک کے دفاعی شعبوں کی ویب سائٹس سے اعلیٰ اہمیت کی حامل معلومات کی چوری وغیرہ بھی سائبر فراڈکے زمرہ میں آتے ہیں جس سے سرکار اور عوام کو بے تحاشا نقصان پہنچتا ہے۔
ہندوستان کی دارلحکومت دہلی کی پوش کالونی گریٹر کیلاش میں ایک معمرجوڑاکو( جن میں سے میاں پیشہ سے انجینئر اور بیوی ایک ڈاکٹرتھی)ایک تشویش ناک حالات کا سامنہ کرنا پڑا۔ سائبر فراڈ کے ایک واقعہ میں انہوں نے 5.14کروڑروپے گنوائے۔یہ بزرگ جوڑا امریکہ میں اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوکر پچھلے 10سالوں سے ہندوستان میں خدمت خلق کے کام انجام دے رہاتھا۔سائبرفراڈ کے اس واقعہ میں ان کو26دسمبر سے9جنوری کے درمیان ڈیجیٹل اریسٹ کی حالت میں رکھا گیاتھا، اس کے علاوہ جنوری مہینہ میں ایک اور واقعہ میںگریٹر کیلاش کے ہی علاقہ میں ایک تاجر جس کی عمر96سال تھی اس کو بھی تقریباً 9روز تک ڈیجیٹل اریسٹ کی حالت میں رکھا گیا اور سائبر فراڈسٹرس نے 9.6کروڑ روپے کی چوری کوانجام دیا۔اسی نوعیت کے ایک اور واقعہ میں سال 2024کی ابتدا میںوزیر Xجو کہ کرپٹوکرنسی میں اپنا کاروبار کرنے والی ایک ویب پلیٹ فارم ہے، ہیکنگ کے ذریعہ اس کمپنی کے سسٹم سے تقریباً235ملین یو ایس ڈالرچوری کئے گئے جس میںشمالی کوریاکے ہیکرس کا گروہ شامل تھا۔اس کہ علاوہ بھی ایسی صدہا واردات روزبروز ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں جس کے سبب ملک اور دنیا کے دیگر حصوںسے متعدد افرادنقصان کی زد میں آتے ہیں۔ ہندوستان میں مہارشٹر، کرناٹکا، اور تیلنگانہ سائبر فراڈ کی واردات میں سر فہرست ہیں۔ سائبر فراڈ کے لحاظ سے شہری اور یہی علاقوں کا موازنہ کریں تو سائبر فراڈ کے زیادہ تر واقعات بڑے شہروں تک محدود ہیں دیہی علاقوں میں یہ واردات بمقابلہ شہروں کے کم ہیں۔ اکیلہ دہلی شہر میں سال 2025میں متاثرین نہ 1250کروڑ اور سال 2024میں1100کروڑروپے گنوائے۔وہی رکوری کی شرح پر نظر ڈالیں توسال 2025میں ریکوری کی شرح 24فی صدرہی ہے۔NCRBکے مطابق سال2018میں سائبر فراڈ کے 27000معاملہ پیش آئے جبکہ سال 2025میں سائبر فراڈ کے معاملات میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی اور اس طرح کے تقریباً 25لاکھ معاملہ درج کئے گئے ۔ اگر سائبر فراڈ کی نوعیت پر نظر ثانی کریں تو : شیئر بازار میں تجارت اور اصل کاری کے بہانے سے کل سائبرفراڈکا ۷۷فی صد،ڈیجیٹل اریسٹ: جس میں فراڈسٹرس اپنے آپ کو سرکاری ملازم ، سی بی آئی کا اہل کاربتا کر بینک کھاتوں سے پیسہ کی چوری، انفورسمینٹ ڈائریکٹریٹ کا افسر بتا کرمتاثرین کے بینک کھاتوں سے پیسہ کو عارضی کھاتوں میں ٹرانسفر کرکے مزید کھاتوں میں ملک سے باہر منتقل کر دیتے ہیں اور اس رقم کو کرپٹو کرنسی میں صرف کر دیتے ہیں۔فی الحال کے معاملات میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کے سائبر فراڈ میں ملوث یہ لوگ اپنے آپریشن کمبوڈیا، میانمار، تھائی لینڈ اور لائوس جیسے ممالک سے انجام دے رہے ہیں۔سائبر فراڈ میں ملوث فراڈسٹرس مصنوعی ذہانت کی مدد سے تصاویر، آواز کے نمونہ نقل کرکے،کریڈیٹ کارڈکی کلونگ کرکے باآسانی اس طرح کی واردات کو انجام دیتے ہیں۔
عدم واقفیت، لالچ، لاپرواہی سے انٹرنیٹ کا استعمال، کمزور سائبر سکیورٹی اسٹرکچر، وغیرہ سائبر فراڈمیں معاون اہم وجوہات ہیں۔ موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کا بے جاہ استعمال سائبرفراڈ کو دعوت دیتا ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر آبادی والے ملک میں جہاں تقریباً700ملین افراد اسمارٹ فون کا استعمال کر رہے ہیں ، بڑی تعداد میں اسمارٹ فون کا استعمال سائبر فراڈ کے واقعات میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔اسمارٹ فون پر مہیا مختلف ویب پلیٹ فارم اور ویب ایپ اور دوسری خدمات کا استعمال کرتے ہیں یہ ویب ایپ ہماری اہم معلومات کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور اگر یہ معلومات سائبر فراڈسرٹرس کے ہاتھ لگ جاتی ہے تو وہ اس کا استعمال سائبر فراڈ کی وارداتوں کو انجام دینے میں کرتے ہیں۔اس کہ علاوہ آدھار کی جانکاری کے لیک ہونے سے،بینکنگ خدمات مہیا کرانے والے ویب ایپ سے معلومات کی چوری، ای کامرس کمپنیوں کے ایپ کے استعمال میں دھوکہ بازی، اے ٹی ایم کی کلونگ، سوشل میڈیا کے ذریعہ فراڈ کی واردات وغیرہ ایسے طریقہ کار ہیں جن کے ذریعہ اس طرح کے فراڈ کو انجام دیا جاتا ہے۔
سائبرفراڈ کی واقعات اور ان سے ہونے والے نقصانات میں روزبرروز اضافہ ہونے کی وجہ سے سرکار اس سے متعلق قوانین ، ان سے بچنے کے طریقہ کار، اور سسٹم کو مضبوط کرنے کے لئے وقتاًفوقتاً مختلف قدم اٹھاتی رہتی ہے۔ ہندوستان کی سرکار نے سائبر فراڈ کے معاملات کو درج کرنے کہ لئے ایک ہیلپ لائن اور ویب پورٹل جاری کیا ہے جہاں پر متاثرین اس طرح کی شکایت درج کر سکتے ہیں۔سائبر فراڈ میں قصوروار لوگوں پر IT Act 2000کے تحت متعدد دفعات میں کارروائی کے انتظامات ہیں۔ اس کے علاوہ سرکارعام باشندگان کو وقتاًفوقتاً اشتہارات کے ذریعہ بیداری کی مہیم بھی چلاتی ہے لیکن اس طرح کے اشتہارات کی رسائی ہر فرد تک نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سائبر فراڈ کا شکار ہو جاتے ہیں۔سرکار کے ذریعہ سائبرفراڈ کو روکنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے باوجود سائبر فراڈ کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان معاملات میں ملک گیر ریکوری کی شرح اوسطاً 10فی صدسے بھی کم ہے۔ریکوری کا انحصار فراڈ کو درج ہونے کے درمیان وقفہ سے ہے۔ فراڈ جتنی جلدی جانچ کے دائرے میں آئے گا ریکوری کے امکانات زیادہ ہونگے۔ عوام میں بیداری کی مہم چلاکر، الیکٹرانک آلات کا استعمال ہوشمندی سے کرکے ، سوشل میڈیا کا محتاط استعمال، ای کامرس کی ویب سائٹس پر دھوکہ بازی سے بچنا،بینکنگ اور اصل کاری کی ویب سائٹس پرلالچ اور جھانسے کے واقعات سے بچائو، انٹرنیٹ پر واقع ویب سائٹس پر اپنی اہم اور حساس معلومات کو ساجھا کرنے سے غریز وہ انفرادی اقدامات ہو سکتے ہیں جن کو ذہن نشین رکھ کر سائبر فراڈ کے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔
رابطہ۔ 9891712197
[email protected]