زینہ گیر نہر تباہی کے دہانے پر| مقامی آبادی برہم، کاشت کاروں میں تشویش

سوپور//شمالی قصبہ سوپور اور علاقہ زینہ گیر میں ہزاروں کنال زرعی اراضی کو سیراب کرنے والی مشہور زینہ گیر نہر متعلقہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے کوڑے دان میں تبدیل ہوچکی ہے جس سے نہر کے کنارے کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں اور زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی لوگوں اور زمینداروں کا کہنا ہے کہ محکمہ آبپاشی کی لاپرواہی اور عدم توجہی کی وجہ سے زینہ گیر نہر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور ہزاروں کنال زرعی اراضی بنجر بن چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر سال زمینداروں کو کھیت سیراب کرنے کے لئے پانی کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لوگ از خود نکل کر اس نہرکی صفائی کرتے ہیں۔ نہر کے گرد نواح میں رہائش پذیر لوگوں کا کہنا ہے کہ چند سال قبل اس آبپاشی نہر سے انتہائی صاف وشفاف پانی فراہم ہوتا تھا اور مقامی لوگ کھانے پینے کے لئے بھی اس کا پانی استعمال کرتے تھے لیکن آج یہ نہر گندگی وغلاظت سے بھری پڑی ہے اور نہر نے کوڑے دان کی صورت اختیار کی ہے۔ صدیق کالونی اور شالیمار کالونی جو زینہ گیر نہر کے کنارے پر آباد ہے، کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گرمیاں شروع ہوتے ہی اس نہر میں موجود گندگی سے بدبو پھیلتی ہے جس سے یہاں بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خطرہ لاحق رہتاہے۔ انہوں نے کہا ہے ’’ ہم نے کئی مرتبہ محکمہ آبپاشی کو نہر کی صفائی کرنے کیلئے گزارش کی لیکن اُن کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔محکمہ آبپاشی کے افسران کا اس سلسلے میںکہنا ہے کہ محکمہ نے بہت ساری جگہوں پر نہر کی صفائی کی تاہم موجودہ حالات کی وجہ سے ابھی مزید کام باقی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ بہت جلد صفائی کا کام پھر سے شروع ہوگا۔