آصف حسین کشمیری
اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جو انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کو بھی عدل، رحم، مساوات اور ہمدردی کے اصولوں پر استوار کرتا ہے۔ اس دین کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عبادات کو صرف مسجد اور محراب تک محدود نہیں رکھا بلکہ معاشرتی، معاشی اور اخلاقی زندگی کے ہر گوشے کے لیے واضح رہنمائی فراہم کی ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات اسی فلاحی نظام کے بنیادی ستون ہیں، جو نہ صرف دولت کی تطہیر کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ غرباء و محتاجوں کی کفالت کا مؤثر اور مضبوط نظام بھی فراہم کرتے ہیں۔آج کا انسان مادہ پرستی کی دوڑ میں اس قدر آگے نکل چکا ہے کہ دولت کو مقصدِ حیات سمجھ بیٹھا ہے۔ امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے اور غریب غربت کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جا رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کا معاشی نظام اپنی معنویت اور افادیت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ زکوٰۃ محض چند سکوں یا چند فیصد مال کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جو معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو کم کرتا ہے۔
زکوٰۃ کا لغوی معنیٰ پاکیزگی اور بڑھوتری ہے۔ جب کوئی شخص اپنے مال میں سے اللہ کے حکم کے مطابق زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو وہ اپنے مال کو بخل، حرص اور خود غرضی سے پاک کرتا ہے۔ یہ عمل صرف مالی مدد تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کے دل میں دردِ انسانیت، ہمدردی اور بھائی چارے کے جذبات کو بیدار کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں نماز کے ساتھ بار بار زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ عبادت صرف سجدے اور رکوع تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی خدمت بھی عبادت کا حصہ ہے۔
صدقات کا دائرہ زکوٰۃ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ زکوٰۃ ایک فرض عبادت ہے جبکہ صدقہ ایک نفلی عمل ہے، مگر اس کی تاثیر اور برکت کسی طرح کم نہیں۔ صدقہ انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار اور قربانی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا، کسی ننگے کو کپڑا پہنا دینا، کسی بیمار کے علاج میں مدد کر دینا، کسی طالب علم کی فیس ادا کر دینا، کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دینا—یہ سب صدقہ ہیں۔ یہ اعمال نہ صرف غرباء کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں محبت، اعتماد اور اخوت کی فضا بھی قائم کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کو محض ایک رسمی فریضہ سمجھ لیا گیا ہے۔ لوگ سال کے ایک مخصوص دن حساب لگا کر چند ہزار روپے نکال دیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ذمہ داری پوری ہو گئی۔ حالانکہ زکوٰۃ کا اصل مقصد صرف مال کم کرنا نہیں بلکہ غربت کم کرنا ہے۔ اگر زکوٰۃ اور صدقات کو منظم اور باقاعدہ نظام کے تحت ادا کیا جائے تو بے روزگاری، بھوک اور افلاس جیسے مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
اسلامی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایسے ادوار بھی گزرے ہیں جب زکوٰۃ لینے والا کوئی مستحق نہیں ملتا تھا۔ یہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ زکوٰۃ کوئی خیالی تصور نہیں بلکہ ایک عملی معاشی نظام ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اسے دیانت داری، اخلاص اور اجتماعی شعور کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ اگر آج ہمارے معاشرے میں کوئی بھوکا ہے، کوئی علاج سے محروم ہے، کوئی تعلیم سے دور ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم زکوٰۃ و صدقات کے حقیقی فلسفے سے غافل ہو چکے ہیں۔
زکوٰۃ اور صدقات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ امیر اور غریب کے درمیان فاصلے کو کم کرتے ہیں۔ جب امیر اپنے مال میں سے غریب کا حق ادا کرتا ہے تو دونوں کے درمیان حسد اور نفرت کی دیواریں گرنے لگتی ہیں۔ غریب کے دل میں احساسِ محرومی کے بجائے شکر اور دعا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، اور امیر کے دل میں غرور کے بجائے عاجزی اور ذمہ داری کا احساس جنم لیتا ہے۔ اس طرح معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کے بجائے اتحاد اور استحکام کی طرف بڑھتا ہے۔
آج کے دور میں جب مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام عام ہو چکا ہے، زکوٰۃ و صدقات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم ہیں، بیمار علاج کے بغیر تڑپ رہے ہیں اور بیوہ و یتیم سہارے کے منتظر ہیں۔ اگر صاحبِ استطاعت افراد دل کھول کر زکوٰۃ اور صدقات ادا کریں تو یہ مسائل کسی حد تک ضرور کم ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ زکوٰۃ و صدقات کے نظام کو شفاف اور منظم بنایا جائے۔ مستحقین کی درست نشاندہی، امداد کی منصفانہ تقسیم اور وسائل کا صحیح استعمال ناگزیر ہے۔ صرف وقتی مدد کافی نہیں بلکہ غرباء کو خود کفیل بنانے کے منصوبے بھی شروع ہونے چاہئیں، جیسے چھوٹے کاروبار کے لیے قرضِ حسنہ، ہنر سکھانے کے مراکز، اور تعلیمی وظائف۔ اس طرح زکوٰۃ محض وقتی سہارا نہیں بلکہ مستقل حل بن سکتی ہے۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں خاص طور پر اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد بسنے والے ضرورت مندوں کو یاد کریں۔ روزہ ہمیں بھوک کا احساس دلاتا ہے تاکہ ہم بھوکے کی تکلیف کو سمجھ سکیں۔ افطار کے دسترخوان پر بیٹھ کر اگر ہمیں کسی غریب کی یاد نہ آئے تو یہ روزے کی روح کے خلاف ہے۔ اصل روزہ وہی ہے جو انسان کے دل کو نرم اور ہاتھ کو سخی بنا دے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ اور صدقات کے معاملے میں مقامی غرباء و مستحقین کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم اپنی زکوٰۃ اور خیرات دوسرے شہروں اور دور دراز علاقوں میں بھیج دیتے ہیں، مگر اپنے محلے، اپنے گاؤں اور اپنے علاقے کے محتاج ہماری نگاہوں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ ان کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور ان کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔گزشتہ رمضان المبارک کا ایک دردناک واقعہ آج بھی دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ ایک مجبور خاتون نے فون پر روتے ہوئے کہا:’’میرے تین بچے ہیں، دو دن سے گھر میں آٹا اور چاول نہیں۔ میرے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔ قیامت کے دن میں اللہ کے حضور شکایت کروں گی کہ صاحبِ ثروت لوگوں نے اپنی زکوٰۃ اور صدقات تو باہر بھیج دیے، مگر اپنے علاقے کے غریبوں کو فراموش کر دیا۔‘‘یہ صرف ایک خاتون کی فریاد نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ہم سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ہمارے گاؤں اور علاقوں میں ایسے بیمار موجود ہیں جو مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں مگر علاج کے وسائل نہیں رکھتے۔ کاش ہم ان کی کفالت کریں، کاش ہم ان کی تکلیف کو اپنا درد سمجھیں۔
اگر ہم نے غرباء اور محتاجوں کا خیال نہ رکھا تو یہی دولت ہمارے لیے زوال اور شرمندگی کا باعث بن جائے گی، کیونکہ یہ دولت دراصل ایک آزمائش ہے۔ بہت سے مستحق ایسے ہوتے ہیں جو شرم اور عزتِ نفس کے باعث سوال نہیں کر پاتے۔ ان کے لب خاموش ہوتے ہیں مگر ان کی آنکھیں سوال کرتی ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے گاؤں اور علاقوں کے اندر ایسا ماحول قائم کریں جہاں غرباء کے حقوق پامال نہ ہوں، اور انہیں در بدر ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ کیا جائے۔یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہماری ریاست سے باہر کے شہروں میں ہمارے ہی مرد و خواتین دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوتے ہیں اور یوں ان کی عزتِ نفس پامال ہوتی ہے۔ یہ ہمارے اجتماعی نظامِ زکوٰۃ و صدقات کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ لہٰذا ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور اپنے معاشرے میں ایسا فلاحی نظام قائم کریں جو لوگوں کو سوال کرنے کے بجائے خود کفیل بنائے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ہم زکوٰۃ اور خیرات وہاں دیتے ہیں جہاں ہمارا نام ہو، جہاں ہمیں سخی کہا جائے، جہاں ہماری تصویر کھنچے اور ہمارے عطیات کا چرچا ہو۔ حالانکہ اصل صدقہ وہ ہے جو خاموشی سے دیا جائے، جو کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر اس کے زخموں پر مرہم رکھے۔زکوٰۃ و صدقات صرف انفرادی عمل نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہیں۔ مسجد، مدرسہ، محلہ اور خاندان—ہر سطح پر اس شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ دولت اللہ کی امانت ہے اور اس میں محتاجوں کا حق شامل ہے۔ جب یہ احساس زندہ ہوگا تو نہ کوئی بھوکا سوئے گا اور نہ کوئی محروم رہ جائے گا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ زکوٰۃ محض وقتی جذبے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل نظام کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر ہر محلہ اور ہر گاؤں میں مستحقین کا ایک منظم ریکارڈ رکھا جائے اور زکوٰۃ کی رقم شفاف طریقے سے انہی پر خرچ کی جائے تو غربت کے کئی دروازے خود بخود بند ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زکوٰۃ و صدقات ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہیں جو معاشرے کو غربت، نفرت اور بے حسی سے نکال کر ہمدردی، مساوات اور بھائی چارے کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ یہ نظام اگر صحیح معنوں میں نافذ ہو جائے تو ہمارا معاشرہ ایک فلاحی ریاست کی خوبصورت تصویر پیش کر سکتا ہے، جہاں ہر فرد کو جینے کا حق، عزت کا مقام اور بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ہمیں چاہیے کہ ہم زکوٰۃ و صدقات کو محض رسم نہ بنائیں بلکہ ایک زندہ سماجی فریضہ سمجھ کر ادا کریں۔ اپنے آس پاس کے ضرورت مندوں کو پہچانیں، ان کی خاموش فریاد سنیں اور ان کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ یہی ہمارے دین کی روح ہے، یہی انسانیت کا تقاضا ہے اور یہی ایک صالح، منصف اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔
) 9797888975(رابطہ [email protected]