میر شوکت
یہ مضمون کسی ایک واقعے کی خبر نہیں، یہ تاریخ کے طویل اور خونی باب کی بازگشت ہے، وہ باب جس میں طاقت نے خود کو حق کا مترادف بنا لیا اور کمزور کی آہ کو شورِ بازار میں گم کر دیا۔ آج جب دنیا کے نقشے پر آگ کے داغ پھیلتے جا رہے ہیں تو نگاہ خود بخود امریکہ اور اسرائیل کی عسکری جارحیت کی طرف اٹھتی ہے، جہاں جدید ہتھیار قدیم بربریت کا نیا چہرہ بن چکے ہیں اور انسانیت تاریخ کے کٹہرے میں خاموش کھڑی ہے۔
یہ صبح بھی سورج کے ساتھ طلوع ہوئی تھی، مگر اس کی کرنوں میں وہ تازگی نہ تھی جو زندگی کا پیام لاتی ہے۔ افق پر سرخی یوں پھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے آسمان پر خون سے نقش کھینچ دیا ہو۔ پرندے اڑے تو تھے مگر ان کی پرواز میں خوف تھا، جیسے وہ بھی جانتے ہوں کہ آج فضا امن کی نہیں، موت کی ہم نوا ہے۔ گلیوں میں بچے نکلے تو کھیل کے لیے نہیں، ملبے میں اپنے کھلونے ڈھونڈنے کے لیے۔ ماں کی آنکھ میں نیند کے بجائے تشویش کا سایہ تھا اور باپ کے ماتھے پر دعا کے بجائے بے بسی کی شکنیں۔ ہوا میں بارود کی بو تھی اور خاموشی میں چیخوں کی بازگشت۔ یہ کسی ایک شہر کا منظر نہیں، یہ اس صدی کا نوحہ ہے جس نے خود کو مہذب کہا مگر اپنے ہی ہاتھوں انسانیت کو لہولہان کیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت نے خود کو قانون سمجھا، تہذیب نے جنازہ اٹھایا۔ قدیم سلطنتوں کے عروج سے لے کر جدید ریاستوں کی عسکری شان تک، ہر دور میں کمزور کا لہو طاقت ور کے وقار کا ایندھن بنتا رہا۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج قتل زیادہ منظم ہے، زیادہ تیز رفتار ہے، اور زیادہ خاموشی سے قبول کیا جاتا ہے۔ توپوں کی گھن گرج میں فلسفے دب جاتے ہیں اور میزائلوں کی روشنی میں اخلاقیات کی شمع بجھ جاتی ہے۔ انسان نے ترقی کے نام پر وہ ہنر سیکھ لیا ہے جس سے وہ بیک وقت لاکھوں زندگیاں ختم کر سکتا ہے اور اسے حکمتِ عملی کہہ سکتا ہے۔
شام ڈھلتی ہے تو سورج خون کی طرح سرخ ہو کر ڈوبتا ہے۔ یہ لالی کسی رومان کی علامت نہیں، یہ ان بچوں کی آنکھوں کی سرخی ہے جو دھماکوں کی آواز سے چونک کر جاگ اٹھتے ہیں۔ رات اترتی ہے تو ستارے نہیں جھلملاتے، صرف دھماکوں کی روشنی ہوتی ہے۔ ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی رہتی ہے، گویا اپنی چھاتی کو ڈھال بنا کر آسمان کی طرف دیکھ رہی ہو۔ باپ چھت کے نیچے کھڑا ہے، جیسے ہر لمحہ تقدیر سے سوال کر رہا ہو۔آج کس کا گھر رہے گا اور کس کا ملبہ بنے گا؟ یہ رات نیند کی نہیں، امتحان کی ہے۔ یہ رات انسان کی طاقت نہیں بلکہ اس کی بے بسی کی گواہی دیتی ہے۔
دنیا کے ایوانوں میں بیانات لکھے جاتے ہیں، قراردادیں پڑھی جاتی ہیں، مگر ملبے کے نیچے دبے بچوں کے کانوں تک ان لفظوں کی کوئی آواز نہیں پہنچتی۔ وہاں نہ سیاست کا شور ہے نہ سفارت کی زبان، صرف دھول ہے، صرف خون ہے، اور صرف خاموشی۔ یہ خاموشی سب سے خطرناک ہتھیار ہے، کیونکہ یہ ظلم کو معمول بنا دیتی ہے۔ جب لاشیں گنی جائیں اور ضمیر نہ جاگے تو انسانیت خبر بن جاتی ہے اور خبر جلد پرانی ہو جاتی ہے۔
یہ جارحیت صرف زمین پر نہیں گرتی، یہ دلوں پر بھی گرتی ہے۔ جب اسکول ملبہ بن جائیں تو صرف عمارت نہیں ٹوٹتی، مستقبل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ جب اسپتال جل جائیں تو صرف دیواریں نہیں گرتیں، انسان کا یقین بھی جل جاتا ہے۔ جب عبادت گاہوں پر بارود برسایا جائے تو صرف پتھر نہیں بکھرتے، دعا بھی سہم جاتی ہے۔ یہ حملے صرف جسموں کو نہیں مارتے، یہ امید کو زخمی کرتے ہیں، اور امید کے زخمی ہونے سے تہذیب اپاہج ہو جاتی ہے۔طاقت کا اصل امتحان ضبط میں ہے، مگر یہاں ضبط کو کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔ رحم کو سیاست سے باہر کر دیا گیا ہے اور انصاف کو مفاد کے ترازو میں تول لیا گیا ہے۔ انسان اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کا قاتل بن گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جنگ آخری حل ہے، مگر ہر مسئلے کا پہلا جواب بنا دیتا ہے۔ وہ امن کے نعرے لگاتا ہے مگر امن کو بموں کی حفاظت میں رکھتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں اخلاقیات تقریروں میں زندہ ہیں اور میدانوں میں دفن۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر طاقت ور نے خود کو دائمی سمجھا، مگر وقت نے اسے مٹی بنا دیا۔ رومیوں کی شان ہو یا منگولوں کی تلوار، سب ماضی کی کہانیاں بن گئیں۔ آج کے ہتھیار بھی کل کے عجائب گھروں میں رکھے جائیں گے، مگر ماؤں کے آنسو اور بچوں کی چیخیں تاریخ کے سینے پر نقش رہیں گی۔ یہی وہ سچ ہے جس سے طاقت گھبراتی ہے، کیونکہ آنسو کو شکست نہیں دی جا سکتی۔یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی، یہ انسان اور انسانیت کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی ہے، دوسری طرف ننگے پاؤں بچے۔ ایک طرف ایوانوں کی روشنی ہے، دوسری طرف ملبے میں ڈھونڈی گئی سانسیں۔ یہ عدم توازن خود ایک سوال ہے۔ کیا دنیا واقعی انصاف پر قائم ہے یا صرف طاقت کے سائے میں جی رہی ہے؟
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ جب ہم محض تماشائی بن جائیں تو تاریخ ہمیں بھی اسی صف میں کھڑا کر دیتی ہے جہاں ظالم کھڑے ہوتے ہیں۔ آنے والی نسلیں پوچھیں گی کہ جب زمین پر آگ برس رہی تھی تو تم نے کیا کیا؟ کیا تم نے سچ کو آواز دی یا خوف کو حکمت کا نام دیا؟
یہ وقت محض غصے کا نہیں بلکہ شعور کا ہے۔ یہ وقت محض آنسو بہانے کا نہیں بلکہ ضمیر جگانے کا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس تاریخ کا حصہ بننا چاہتے ہیں: ظلم کے عہد کا یا انسانیت کے امکان کا۔ کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ جنگ ہوتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ لوگ اسے معمول سمجھ لیتے ہیں۔
اور شاید یہی اس دور کا سب سے بڑا سبق ہے۔جب طاقت اندھی ہو جائے تو انسانیت کو آنکھ بننا چاہیے، جب توپ بولے تو ضمیر کو بولنا چاہیے، ورنہ یہ زمین میدانِ جنگ بن کر رہ جائے گی اور تاریخ ہمیں ایک ایسی نسل کے طور پر یاد رکھے گی جس نے روشنی کے زمانے میں بھی اندھیرے کا انتخاب کیا۔
[email protected]