بشار ت بشیرؔ
ماہ رحمت وغفران جلوہ گر ہے چمنستان دھر میںعجب فرحت وسرور ہے، ذوق عبادت اور شوق بندگی بڑھتا جارہا ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہاں صرف بندگی کی کسی خاص شکل وصورت کو دیکھنا مقصودنہیںبلکہ ایک ہدف اس پورے ایک ماہ کی مشق کا ہے۔ اور وہ ہے زمین ِنفس میں تقویٰ کی تخم ریزی۔ جی ہاں !اس مقصد کے حصول کے لئے ایک بندئہ مؤمن کو سارے ماہ مختلف صبر آزما مراحل سے گذرنا ہوگا، بھوک کی شدت اور پیاس کی تکلیف بھی گوارا کرنی ہوگی ،زبان کو قابو میںرکھنے کا عمل بھی عملانا ہوگا ،رجو ع الی اللہ کا خوگر بننا ہوگا، قلب وذہن کو اللہ کی پُر خلوص اطاعت کے لئے آمادہ کرنا ہوگا، اپنے گناہوں پر تائب ہوکر آئندہ شاہراہ مستقیم پر گامزن ہونے کا عہد کرنا ہوگااور جب وہ تسلسل کے ساتھ یہ امور انجام دے گا تو اس کی روح قرآن کے بحر عمیق میں غوطہ زن ہوگی۔توحید سے اس کا تعلق مضبوط ہوگا ، تراویح میں اس مبارک کتاب کے مقدس آیات کی روح پرور تلاوت جہاں اس کی آنکھوں کو اشکبار کرے گی وہاں اس کا اندرون بھی مکمل تبدیل ہوگا ،اُس کی بھوک اور پیاس اُس کے اندر فاقہ مستوں، ناداروں اورغریبوں سے محبت اور لاچاروں کی اعانت کے جذبات کو مہمیز دے گی ۔روزوں کے عمل سے گذرتے ہوئے مصائب کے ماروں اور مشکلات کی چکی میں پسے جارہے لوگوں کا کرب دیکھ کر اُس کا قلب وذہن درد آشنا بن جاتا ہے ٗ وہ دکھی انسانیت کی مدد کے لئے تڑپ اُٹھتا ہے، وہ رمضانی عرصہ بہار سے گذرتے ہوئے صبر کی لازوال دولت کے حصول کے لئے کمر بستہ رہتا ہے ،وہ رمضانی دن کے جلد گذرنے کی تمنا نہیں کرتابلکہ اس کے ہر پل سے خوب مستفید ہوکر اللہ کی رحمتوں کے بہت قریب جاتا ہے۔ اس کا ہر قدم اُس کے خالق کی خوشنودی کے لئے اُٹھتا ہے اور ہر آن اپنے نفس کے تزکیہ کے کام میں مگن رہتا ہے۔
یاد رہے کہ روزوں کے حوالہ سے رب جلیل کا ارشاد اس اُمت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے روزہ تو کم وبیش ہر مذہب وقوم میں موجود ہے لیکن اسلام کا تصور صوم ہر لحاظ سے منفرد اور جداگانہ ہے ۔انسائیکلوپیڈیا آف جیوز میں دوسری اقوام کے روزوں کے بارے میں لکھا ہے :’’یہودی اور عیسائی روزہ بطور کفارہ گناہ یا توبہ یا پھر ان سے بھی تنگ تر مقاصد کے لئے رکھتے تھے اور اُن کا روزہ محض رسمی نوعیت کا ہوتا تھا یا پھر قدیم ترایام میںروزہ ماتم کے نشان کے طور پر رکھا جاتا تھا ‘‘(ان سائیکلو پیڈیا آف جیوز)یعنی لوگوں نے اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لئے روزہ کو محدود کرلیا تھا ۔ مگر اسلام کا اس حوالہ سے نظریہ انتہائی ہمہ گیر اور وسیع ہے۔ اس کے یہاں روزہ باقاعدہ ایک نظام تربیت ہے اور اس تربیت کے عمل سے گذر کر بندئہ مؤمن کا اللہ سے تعلق کی استواری اور اُس کے ارشادات کی ہمہ وقت تعمیل کے لئے کمر بستہ رہنے کا اُس کا عمل نمایاں ہوکر نظر آتا ہے۔ اسی کتاب میں روزوں کے حوالہ سے لکھا گیا ہے کہ ’’ یہ اسلام ہی ہے جس نے روزوں کے بارے میں اپنا زاویہ نگاہ اور دائرئہ کار وسیع کرایا اور روزہ کے اغراض ومقاصد کو بلند کردیا ،زندگی کی وہ تمنائیں اور خواہشات نفسانیہ جو عام طور پر جائزہیں۔ اسلامی روزہ میںاُن پر بھی متعین عرصہ کے لئے پابندی کردی جاتی ہے اور اسلام کا ماننے والا ان پابندیوں کو اپنی رغبت ومسرت کے ساتھ اپنے اُوپر عائد کرلیتا ہے، یہ چیز جسم وروح دونوں کے لئے ایک مفید ورزش ہے۔
جیسا کہ عرض کرچکا کہ اس ایک ماہ کے طویل عمل کا ایک ہی ہدف بیان کیاگیا ہے، وہ ہے ’’حصول ِتقویٰ‘‘ یعنی ہر فرد پرہیز گاری کے خوبصورت اور باوقار رنگ میںرنگنے کا کام کرے۔ اصطلاح شریعت میں تقویٰ کی تعریف یوں کی جاتی ہے۔ حفظ نفس عما یوثم یعنی نفس کو ہر اُس چیز سے بچانا جو گناہ کا مؤجب ہو۔ جی ہاں !یہی روزہ کی اصل غرض وغایت ہے۔ تقویٰ والی زندگی میںانسان کو دائمی زندگی میں فائز المرام اور سرخرو بناتی ہے۔تقویٰ انسان کو شیطانی حملوں سے محفوظ ومامون رکھنے کا کام کرتا ہے ۔تصفیہ باطن اور تشکیل سیرت کا کام کرتا ہے ۔یاد رہے کہ جو لوگ صرف لذت کا م ودھن سے علاقہ رکھتے ہیں ۔ شکم پروری جن کا معمول ہو، گوشت پوست کے جسم کو فربہ بنانے کا عمل جن کا مشغلہ ہو، صرف زرق برق اور خوبصورت لباس زیب تن کرنا جن کے یہاں مقصد حیات ٹھہرا ہو، حصول زر جن کا مدعا اور عیش ونشاط کی زندگی کواصل فلاح اور کامیابی سمجھناجن کی سوچ کی انتہاہو۔ وہ بھلا رمضانی ہدفِ تقویٰ کو کیا سمجھ لیں گے۔ مقصد گفتگو یہی کہ روزوں کا مقصد {لعلکم تتقون}اگر ہم سمجھ نہیں پائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا حق فرامو شی اور بدقسمتی ہوسکتی ہے۔
یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ یہ مقدس مہینہ ہماری سننے ماننے کے لئے نہیں بلکہ اپنی منوانے کے لئے آتا ہے اور جب اُس کی مانی جائے تو پھر عرش معلی پر ہماری مانی جائے گی۔ رمضان ہمیں رمضانی خواہش کے عین مطابق گذارنا ہے رمضان میں ہم اپنے لائف اسٹائل کو دیکھ لیں تو زیادہ تر وقت سحری وافطار کے موقع پر مرغن غذائوں کے کھانے اور اچھے مشروبات کے پینے میں گذرجاتا ہے ،لمبی لمبی دعوتوں کا اہتمام ہوتا ہے ۔اعلیٰ ترین ضیافتوں سے دسترخوانوںکو سجانے کا شوق ہر دل میںمچلتا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی خریداری میںوقت کا ایک بڑا حصہ صرف ہوتا ہے اور اگر کچھ وقت بچتا ہے تو وہ نیند کی نذر ہوجاتا ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں جو فجر کی ادائیگی کے بعد ہی نرم اور گداز بستروں پر لیٹ گئے، کروٹیں بدلتے رہے ،خراٹیں لیتے رہے اور جب مؤذن نے ظہر کی اذان دی تو آنکھ کھلی اور پھر جیسا کہ عرض کرچکا ظہر کی ادائیگی کے بعد افطاری کے لئے انواع واقسام کی نعمتوں کی خریداری کا کام شروع ہوجاتا ہے ۔افطاری ہوئی ،پھر تراویح کی کئی رکعتیں تیز تیز پڑھ ڈالیں ،پھر وادی نوم میںچلے گئے ۔بھلا بتائیے شب وروز کے کس لمحہ میں ہم نے اپنے اعمال کا احتساب کیا، انسانیت کی امداد و اعانت میں کتنا وقت ہم نے گذارا ۔قرآن کی تلاوت میںکتنا وقت لگایا ،اس کتاب مبین کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے کے لئے ہم نے کیا کیا ،کچھ بھی تو نہیں ۔آخری عشرے میں تلاش شب قدر کے لئے کس قدر حساس وسنجیدہ رہے، اللہ کی بارگاہ میںکتنا گڑگرائے ، کتنے طویل قیام کئے کس قدر انہماک سے قرآن کے بحرعمیق میںڈوب گئے۔ مقام افسوس تو یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سارے لوگوں کے یہاں تو شب قدر کو انٹرٹینمٹ میں تبدیل کردیا گیا، اس موقع پر بھی وقت کا ایک بڑا حصہ لذت کام ودھن میںصرف ہوجاتا ہے، قسم قسم کے میوے، مشروبات اور خوردونوش کی دیگر اشیاء کی تقسیم کاری اور ان پر بندگان خدا کا پل پڑنا ہماری رمضان شناسی پر ماتم کرتا ہے۔ڈسپلن نام کی کوئی چیز ہماری مساجد میںنہیں رہتی، اس شب کی تلاش کے حوالہ سے یہ محنتیں ہم سے کیوں کرائی جاتی ہیں۔اس کے حکمت وفلسفہ سے ہی بے بہرہ ہیں۔ وہ جس رات کی عبادت کو ہزار ماہ کی عبادت سے افضل وبہتر بتایا گیا ہو، اُس رات کو بھی اُمت اس قدر اپنی لاپرواہی سستی اور شکم پروری کی شکار بنادے، اس سے بڑھ کر اور کیا افسو س ناک بات ہوسکتی ہے۔ لازم ہے کہ علماء کرام اس تعلق سے رمضان کے آغاز سے ہی خصوصی طور اس ماہ کے مقصد تقویٰ کو سمجھانے کی کو شش کریں۔شب قدر کی عظمتوں کو گوش گذار کرنے کا بطور خاص اہتمام کریں کہ اس رات میں اگر ہماری نداء سنی جائے گی تو پھر ہر عقد وا اور ہر مشکل حل سمجھئے ۔دنیا تو بنے گی ہی، آخرت بھی خوبصورت ترین ہوگی ۔رمضان کاایک ایک ختم ہونے والا لمحہ ہماری عبادات وبندگی کے سلسلہ کو بڑھاوا دینے کا باعث بننا چاہیے ،کیا معلوم آئندہ یہ نصیب میں ہو نہ ہو۔ عقل وشوق دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ جس قدر مہینہ اپنے عروج کی جانب یعنی آخری ایام میںداخل ہوہم اس قدر اللہ کے قریب جائیں ،اپنے معاملات ومسائل اس کے آگے رکھیں ،پریشانیوں اور مصائب کا فائل اس کے دفتر میںپیش کریں۔ گناہوں کا نامۂ سیاہ اپنے اشکوں سے دھونے اور اللہ سے ان سئیات کو کامل طور مٹانے کی روروکے مناجات و درخواست کریں ۔ حیف ہے اس شخص پر جو ان غنیمت لمحات کو بھی اپنی غفلتوں کا شکار بنادے ، عید کی آمد کے نام پر ہم ان مبارک ایام میں تسلسل کے ساتھ برسنے والی رحمتوں کو سمیٹنے کے لئے بجائے اپنا وقت مارکیٹوں اور بازاروں میںعید سامان کی خریداری اور اپنے بچوں کے لئے حسین ملبوسات کی سلائی وخریداری میںگنواتے ہیں۔ آخری عشرہ اس بھاگم دوڑ کی نذر ہوگیا تو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہم رمضان کی اہمیت اور روزوں کے مقصد کو سمجھ گئے ہیں۔یاد رہے کہ عید اُسی کی جس کے گناہوںکی مغفرت ہوئی جس کی آخرت سنور گئی جس نے قرآن کے مقصد تقویٰ کو سمجھ کر اپنی زندگی کو جادئہ مستقیم پر ڈالنے کا عہد کیا ۔ تقویٰ والی زندگی کا آغاز کیا دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اپنے اوپر لازم ٹھہرائی نگاہ پر خدا کا پہرہ بٹھایا۔فکر وسوچ پر اللہ کی حکمرانی قائم ہوگئی ذہن ودل یک سوئی کے ساتھ اللہ کی جانب مائل ہوئے سنتوں پر عمل پیرائی والے دور کا آغاز کیا بدعات ورسوم ورواج والی زندگی سے دست کش ہوئے خرافات وغلط روایات سے تائب ہوئے ۔
یاد رہے کہ ہلال عید کے جلوہ گر ہونے کے ساتھ ہی نیکیوں کا دریا کچھ تھم جاتا کچھ مدہم ہوجاتا ہے ۔اس لئے کامل طور بس اللہ کے ہوکے رہ جائیے وہ آپ کا ہوکے رہے گا۔ رمضان کے اختتام پرصاف جھلکے کہ ہم بدل گئے رمضان سے پہلے ہمارے گھر کا ماحول کیسا تھا اب کیسا ہے رمضان سے پہلے ہمارے گھر کے ماحول میںکس قدر پابندی وقت کے ساتھ نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام تھا اب کس قدر ہے رمضان سے پہلے ہماری گھروں میں تلاوت اور فہم قرآن کے حوالہ سے کیسی کیسی کاوشیں تھیں اب کتنی ہیں ، رمضان میں مساکین وپریشان حالوںکی امداد کے تعلق سے ہم کتنے حساس تھے اب کتنے ہیں۔سوشل میڈیا پر آپ پہلے کیا دیکھتے تھے اب کیا دیکھتے ہیں۔موبائل فون پر آپ کی نگاہیں کس چیز کی پہلے متلاشی تھیں اب کیا ڈھونڈتی ہیں ، پہلے آپ کے کان کیا سن کر مسرور ہوتے تھے اب کیا سن رہے ہیں ۔پہلے ہمارا بزنس کیسا تھا اور اب کیسا ہے۔ غرض کیا ہم گناہوں سے واقعی تائب ہوگئے ہیں اور کیا ہمارے قدم گناہوں کی جانب بڑھنے سے اب رُک گئے ہیں یا رُکے رہیں گے ۔ہماری رفتار وگفتار، لب ولہجہ، چلنا پھرنا ،تجارت ،دکانداری، سیاست، معیشت، غرض ہر شعبہ زندگی پر کیا اب اسلامی چھاپ اس قدر مضبوط ہے کہ گناہوں کے دلدل میںواپس جانے کا تصور بھی دلوں کو دھلادیتا ہے،ہم یہ نہیں کہتے کہ گناہ نہیں ہوں گے لیکن دانستہ اور جان بوجھ کر دل بہلائی کے نام پر جوگناہ ہورہے ہیں اُن سے تائب ہونا ہی بندگی ہے۔سحری اچھی ضرور کریں ،لیکن سحر خیزی کے روحانی فوائد بھی سمیٹئے ۔ افطاری اچھی اور معتدل ضرورکریں،لیکن ہر افطاری کو افطار پارٹی نہ بنائیں ۔رمضان درس وحدت بھی دے رہا ہے ۔اس شیرازہ ملت کو منتشر ہونے سے بچانے کے لئے کم سے کم یہ تو دیکھیں کہ میری وجہ سے اس میںکوئی دراڑ تو نہیں پڑ رہی ہےکہ اللہ تعالیٰ ہمیں صالحیت کے سانچے میں ڈھال دے اور اس سانچے میں ڈھلنے کے لئے ہمیں رمضان اُسی مالک کے بتائے مقصدروزہ کو سمجھ کر گذارنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔
رابطہ۔7006055300