لیلتہ القدر
محمد عرفات وانی
اسلام میں بعض اوقات اور راتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص عظمت اور فضیلت عطا فرمائی ہے اور انہی مبارک راتوں میں سب سے زیادہ مقدس اور بابرکت رات شبِ قدر ہے۔ یہ رات رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا ذریعہ بنایا ہے۔ شبِ قدر دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے جس میں بندوں کو اپنے گناہوں کی معافی مانگنے، اپنے دلوں کو پاک کرنے اور اللہ کے قریب ہونے کا بہترین موقع ملتا ہے۔ یہ رات انسان کو یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا اور نیکی کے راستے پر چلنا ہے۔شبِ قدر کی بڑی فضیلت یہ ہے کہ اسی مبارک رات میں قرآن مجید جیسی عظیم کتاب کا نزول ہوا۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری آسمانی کلام ہے جو انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس رات کی عظمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کو شب قدر میں نازل کیا گیا۔ مفسرین کے مطابق قرآن مجید کو سب سے پہلے لوح محفوظ سے آسمان دنیا کے مقام بیت العزہ پر شب قدر میں نازل کیا گیا اور پھر وہاں سے تئیس سال کے عرصے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مختلف مواقع اور حالات کے مطابق نازل ہوتا رہا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ شبِ قدر کی عظمت میں فرماتے ہیں کہ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس ایک رات کی عبادت کا اجر تقریبا ًتراسی سال سے زیادہ عبادت کے برابر ہے۔ اسی لیے یہ رات مسلمانوں کے لیے انتہائی قیمتی اور بابرکت سمجھی جاتی ہے۔لفظ’ قدر‘ کے کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ عربی زبان میں قدر کے معنی عظمت، قدر و قیمت، تقدیر اور فیصلے کے بھی ہیں۔ مفسرین کے مطابق اس رات کو شبِ قدر اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے بہت سے معاملات اور تقدیروں کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرماتا ہے۔ اس کے علاوہ اس رات کی عبادت کی قدر و قیمت بھی بہت زیادہ ہے، اس لیے اسے قدر کی رات کہا جاتا ہے۔ اسی رات میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت خاص طور پر نازل ہوتی ہے۔احادیث میں بھی شبِ قدر کی بے شمار فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بیان ہوا ہے کہ جو شخص شبِ قدر کو ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت میں گزارے گا، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ ؐعبادت میں مزید اضافہ کر دیتے۔ آپ ؐراتوں کو جاگتے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی عبادت کے لیے جگاتے۔ اسی سنت کی پیروی میں بہت سے مسلمان رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے ہیں تاکہ وہ دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر مکمل طور پر عبادت اور دعا میں مشغول ہو سکیں۔علماء کے مطابق شبِ قدر رمضان کی آخری طاق راتوں یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا انتیسویں رات میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے۔ اگرچہ بہت سے علماء کے نزدیک ستائیسویں رات کو شبِ قدر ہونے کا زیادہ امکان ہے، لیکن اصل مقصد یہی ہے کہ مسلمان پورے آخری عشرے میں عبادت کا خاص اہتمام کریں تاکہ وہ اس مبارک رات کی برکتوں سے محروم نہ رہیں۔
شبِ قدر کی عبادت کے کئی طریقے ہیں جن میں قرآن مجید کی تلاوت، نوافل ادا کرنا، ذکر و اذکار کرنا، درود شریف پڑھنا، صدقہ و خیرات کرنا اور دل کی گہرائیوں سے دعا کرنا شامل ہے۔ رسول اللہؐ نے اس رات کے لیے ایک خاص دعا بھی سکھائی ہے کہ’’ اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي ‘‘یعنی اے اللہ آپ معاف کرنے والے ہیں اور معافی کو پسند کرتے ہیں لہٰذا مجھے بھی معاف فرما دیں۔ یہ دعا انسان کو عاجزی اور اخلاص کے ساتھ اللہ کے سامنے پیش ہونے کی تعلیم دیتی ہے۔اسلامی تاریخ میں صحابہ کرام، تابعین اور صوفیاء کرام شبِ قدر کی عبادت کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے۔ وہ اس رات کو عبادت، تلاوت اور دعا میں گزارتے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت اور ہدایت کی دعا کرتے۔ بزرگ علماء کے مطابق شبِ قدر انسان کو اپنی زندگی کا جائزہ لینے، اپنی غلطیوں کو پہچاننے اور انہیں درست کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ رات انسان کے دل میں عاجزی، شکر اور نیکی کی محبت پیدا کرتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شبِ قدر مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور رحمت ہے۔ یہ رات ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنے دلوں کو پاک کریں اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کریں۔ جو شخص اس رات کو ایمان، اخلاص اور عبادت کے ساتھ گزارے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت
دونوں میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ رمضان کے آخری عشرے میں اس مبارک رات کو تلاش کرے، عبادت کرے، دعا کرے، قرآن مجید کی تلاوت کرے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی زندگی کی بھلائی اور کامیابی کی دعا مانگے۔
رابطہ۔9622881110