محمد تسکین
بانہال/ضلع مجسٹریٹ رام بن، محمد الیاس خان نے ضلع میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے پیش نظر سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز، جھوٹے اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ کے خلاف ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
یہ حکم بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت نافذ کیا گیا ہے، جو فوری طور پر مؤثر ہوگا اور آئندہ 60 دنوں تک لاگو رہے گا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ، فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹیلیگرام جیسے پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرتے ہوئے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلایا جا رہا ہے، جو عوامی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ایسے مواد کی اشاعت، شیئرنگ یا فارورڈنگ پر مکمل پابندی ہوگی جو مذہب، نسل، ذات، زبان یا علاقہ کی بنیاد پر نفرت یا دشمنی کو فروغ دے۔
اسی طرح جھوٹی یا گمراہ کن معلومات، سیاق و سباق سے ہٹ کر تصاویر و ویڈیوز، دھمکی آمیز مواد، تشدد پر اکسانا، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا مواد اور افواہوں کی تشہیر بھی سختی سے ممنوع قرار دی گئی ہے۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانہ اور قید دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی خبر یا مواد کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق کریں اور مشتبہ یا اشتعال انگیز مواد کی فوری اطلاع پولیس یا سائبر کرائم یونٹ کو دیں۔
سوشل میڈیا گروپس کے ایڈمنز کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ ایسے مواد کی روک تھام کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رام بن کو ہدایت دی گئی ہے کہ حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے۔
اس کے علاوہ سائبر کرائم یونٹ کو 24 گھنٹے سوشل میڈیا کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ سب ڈویژن سطح پر خصوصی مانیٹرنگ سیلز بھی قائم کیے جائیں گے۔
انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام ضلع میں امن، قانون کی بالادستی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
رام بن میں سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد کے خلاف سخت حکم نامہ جاری