عمران بن رشید
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،’’ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اُتاری جس کا علاج نہ اتاراہو۔‘‘(البخاری؍5678)۔غرض کہ اللہ نے ہر بیماری کا علاج نازل کیا ہے۔ہر بیماری سے مراد ہر دو طرح کی جسمانی اور روحانی بیماریاں ہیں،مشہور ماہرِ طب بو علی سینا نے اسی حدیث سے اپنی مشہور کتاب’القانون فی الطب‘کی ابتداء کی ہے۔ یہ کتاب طبِ نبویؐ کے حوالے سے بے انتہا مشہور ہے۔چنانچہ امام ابن قیمؒ نے اپنی کتاب ’طبِ نبوی‘میں اس کتاب کا قریب قریب دس مرتبہ ذکرکیا ہے اور تو اور مغربی ممالک میں اس کتاب کا انگریزی میں (The law of medicine )کے نام سے ترجمہ کر کے تقریباًدو سو برس تک بطورِ نصاب کالجوں میں پڑھایا گیا۔بہرحال حدیث زیرِ مطالعہ کے حوالے سے عبدالرحمان ناصرالسِعدیؒرقمطراز ہیں،’’ تمام طرح کی ظاہری اور باطنی بیماریوں کی دوا موجود ہے(بھجۃ قلوب الابرار و قرۃ عیون الاخیار)۔ظاہری عوارض تو بہرحال قابلِ فہم بھی ہیں اور قابلِ علاج بھی ،لیکن آج کی تیزرفتار اور گھٹن سے بھری دنیا میں ہر شخص اندر سے کھوکھلا ہوچکا ہے،ذہنی تنائو(Depression)مایوسی اور افسردگی نے بُری طرح سے انسانوں کو اپنے پنجوں میں جھکڑ لیا ہے ۔محمد ناصر افتخارؔنے اس موضوع سے متعلق ایک بہترین کتاب سپردِ قرطاس کی ہےجو ہر شخص کے مطالعہ میں رہنی چاہیے،اس کتاب’’خود سے خدا تک ‘‘میں وہ لکھتے ہیں ’’بلامبالغہ ہر آدمی ایک نفسیاتی مریض بن کر رہ گیا ہے ۔ایک چلتی پھرتی لاش جس کا صرف ایک ہی مقصد ہے۔مزید ترقی ،مزید پیسہ ،کاروبار میں اضافہ ،بڑے مکان ،بڑی گاڑیاں ۔کیا یہ ہمارامقصدِ زندگی ہے؟کیا ہمیں اس لئے دنیا میں بھیجا گیا ہے؟ڈپریشن اور اینگزائٹی میں بلا مبالغہ ہر شخص گرفتار ہوچکا ہے۔‘‘(خود سے خدا تک؍14)۔
دنیا جو اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے،انسانیت امن و آشتی کے لئے تڑپ رہی ہے۔ ایک طرف جنگوں کی بھرمار اور دوسری جانب تیزرفتار زندگی کے تقاضوں نے انسان کی کمرتوڑکر رکھ دی ہے ۔انسان کوطرح طرح کے مشکلات نے آگھیراہے اور نتیجتاًانسان اینگزیٹی(Anxiety) اور ڈپریشن(Depression)جیسے بھیانک امراض سے دوچار ہوگیا ۔اس بڑھتے ذہنی تنائو (stress)نے انسان کو ایک ایسی ہیجانی کیفیت (Hysteria)میں مبتلا کیا ہے کہ اس کے وجود کو اندر سے گویا جھنجوڑکے رکھ دیا ہے۔مایوسی ،افسردگی اور بے کیفی کے احساس نے آج کے انسان کی زندگی اجیرن بنادی ہے،ایک امریکی ماہرنفسیات اور قلم کار دیل کارنیجی(Dale Carnagie)نے صدہا انسانوں کی زندگیوں کو غور سے دیکھااورobserveکیا،جس میں اُس نے پایا کہ انسانوں کے ذہنوں پر دبائو کے اثرات شدید بھیانک بھی ہوتے ہیں اور دوررس بھی ۔وہ لکھتا ہے’’You do not get stomach ulcers from what you eat ‘ you get ulcers from what is eating you‘‘یعنی انسان کے بیمار ہونے کی اصل وجہ اُس کا کھانا نہیں بلکہ ذہنی تنائو ہے جو اُسے اندر سے کھائے جاتاہے[How to stop worrying and start living]۔جس طرح سفید سنڈی(white grub)ایک مضبوط اور تناور درخت کی جڑوں میں پڑکر اسے اندر ہی اندر کمزور اور کھوکھلا کرتا ہے بالکل اسی طرح اینگزیٹی ‘ ڈپریشن ‘ذہنی تنائو اور خوف ایک قوی ہیکل انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے،پھر انسان ہروقت احساسِ محرومی میں جینے لگتا ہے اور خودکشی کے خیالات اِ س پر غالب رہنے لگتے ہیں۔ایسے میں انسان کسی راہِ نجات کی تلاش کرنے لگتا ہے،سکون اور اطمینان کے لئے سحرامیں پھنسے انسان کی طرح کبھی ادھر گھومنے لگتا ہے تو کبھی اُدھر۔کچھ لوگ منشیات (Drugs)کا سہارا لینے لگتے ہیں اور کچھ لوگ چند دیگر ذرائع سے دل بہلانے کی کششیں کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیئے کہ بیماری کے علاج سے پہلے بیماری کی وجہ معلوم ہونا ضروری ہے۔ایک فارسی شعر ہے۔ ؎
دست ہر نااہل بیمارد کُند سوئے مادر آ کہ تیمارد کُند
یعنی تو نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں پڑکر بیمار ہوچکا ہے،تیرا علاج بس یہ ہے کہ تو اپنی ماں یعنی قرآن کی طرف واپس لوٹ آ، تو ٹھیک ہوجائے گا۔جو انسان اپنی اصل سے کٹ جائے تو وہ یقیناً اندھیروں میں بھٹکتا رہے گاجہاں مایوسی، ناامیدی، بے کیفی اور خوف و ہراس اس کا احاطہ کرتے ہیں۔ انسان کی اصل یہ ہے کہ اس کی تخلیق اللہ کی عبادت کے لئے ہوئی ہے ’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ ‘‘ لہٰذا ہر آن اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں ہی اس کے لئے خیر اور اطمینان پوشیدہ ہے بالکل اس درخت کی طرح جو اپنی جڑوں کو مضبوط تھامتا ہے اور ہر وقت سبز اور کھلا کھلا رہتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’ جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔‘‘ (الرعد/28۔36)۔اس آیت کی تفسیر میںمفسرین لکھتے ہیں،’’ جن کے دلوںکو اللہ کی وحدانیت اور اُس کے ذکر سے سکون ملتا ہے اللہ اُن کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ سکون حاصل کریں۔‘‘درحقیقت اللہ اطاعت ،اس کی یاد اور اس کے اجر سے ہی دلوں کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتاہے(التّفسیرالمیّسر)۔اسی طرح ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’ اور جو رحمٰن کے ذکر سے اعراض کرے تو ہم اس کے لیے شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔‘‘(البقرہ؍155)یہ آیت اُن لوگوں کو متضمن ہے جو اپنے رب پر کامل یقین رکھتے ہیں اور ہر خیر اور شر کو اُسی کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔اُن کے لئے دشمن کا خوف ،بھوک اور مال ومتاع کی کمی کبھی پریشانی اور ذہنی تنائو کا سبب نہیں بنتی بلکہ وہ صبر کا دامن تھامنتے ہیں اور اپنے رب سے لو لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں کو سکون اور اطمینان بخشتا ہے، حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں ایک صحابی ؓ کا ذکرآتا ہے کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہؐ کے ایک جانب کھڑا کھجوریں کھارہا تھا اسی دوران اُس نے رسول اللہ ؐ سے پوچھا کہ جو لوگ اس غزوہ میں قتل ہورہے ہیں اُن کو کیا ملے گا ۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ انہیں جنت ملے گی ،یہ سننا تھا کہ اُس صحابیؓ نے ہاتھ سے کھجوریں نیچے پھینکی اور میدان کی طرف دوڑ پڑا اور جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ واقع کوئی معمولی واقع نہیں ہے بلکہ اس واقع سے پتہ چلتا ہے کہ جب انسان اپنے رب پر یقینِ کامل رکھتا ہو،جب انسان اپنی تمام تر توجہ اور توقعات کا محور و مرکز اپنے رب کو بناتاہے تو وہ جان جیسی قیمتی شے کو بھی خوشی خوشی قربان کرتا ہے۔اسے کوئی خوف لاحق نہیں ہوتا،اُس کے لئے کوئی تکلیف اتنی ضرر رساں نہیں ہوتی کہ وہ ذہنی مرض میں مبتلا ہوجائےبلکہ وہ صبرو استقامت کا دامن تھامے اپنے ربّ سے تمام امیدیں وابستہ کرتا ہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،’’ جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘‘(البقرہ؍156)۔جو شخص اپنی توجہ ،توقعات اور امیدیں دنیا سے وابستہ کرے گا یقینا ًوہ پریشانی اور ناامیدی سے دوچار ہوگا۔اس کے برعکس جو شخص اللہ رخی زندگی اختیار کرے یعنی اپنے ہر معاملہ کو اللہ کے سپرد کرے وہ کبھی ناامیدی اور مایوسی کا شکار نہیں ہوگا بلکہ وہ ہر محرومی کو اپنے ربّ کی جانب سے ایک آزمائش مان کر چلتا ہے ۔
ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی عمومی وجہ مستقبل کا خوف اور ماضی پر پچھتاوا قرار دیا جاتا ہے،جو اصل میں اپنے ربّ سے دوری کے سبب ہی ہوتا ہے۔چنانچہ ایک سوال کے جواب میں ابن عثیمینؒ رقمطراز ہیں ’’انسان نفسیاتی طور پر بیمار ہوسکتا ہے،جس کی وجہ یا تو مستقبل کا خوف ہے یا پھر ماضی پر پچھتاوا،اس مرض کا علاج کیمیائی ادویات سے بھی کیا جاتا ہے اور شرعی طور پر بھی،رقیہ اور دم کرکے اس کا علاج ممکن ہے۔ ‘‘ مصیبت کے وقت انسان کا کمزور ہونا اورتکلیف محسوس کرنافطری ہے لیکن ناامید ہونا ایمان کی کمزوری اور اپنے ربّ سے دوری کی علامت ہے،’’اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجائو‘‘۔انس ابن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ‘ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ، وَالْکَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّیْنِ، وَغَلَبَۃِ الرِّجَال‘اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے(بخاری۔حدیث نمبر 6369)گویا کہ پیغمبرؑ بھی غم والم سے نجات مانگاکرتے تھے،لہٰذا دوسروں کا غم سے خوف کھانا کوئی عجب یا عیب نہیں ،لیکن غم والم کے وقت صبر اختیار نہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے اور یہی چیز انسان کو ذہنی تنائو میں مبتلا کرتی ہے۔