اختر معراج
دریا کے کنارے ایک ضعیف عورت ہر روز آ کر بیٹھتی ہے۔
اس کی تھکی ہوئی آنکھیں لہروں کے بہاؤ میں کسی مانوس چہرے کی جھلک تلاش کرتی رہتی ہیں۔
دِل میں ایک ہی امید پلتی ہے۔
’’آج نہیں تو کل… میرا بیٹا ضرور لوٹے گا۔‘‘
مگر اسے یہ خبر نہیں کہ جس کا وہ برسوں سے انتظار کر رہی ہے،
وہ شاید اب کبھی واپس نہ آئے۔
یہ کہانی گنڈبل کے اس چھوٹے مگر غمزدہ شہر کی ہے،
جہاں دو برس پہلے ایک ایسا حادثہ ہوا جس نے سینکڑوں دل ہمیشہ کے لیے اُجڑ دیے۔
پرانا پل بوسیدہ ہو چکا تھا،
مگر کوئی ذمہ داری محسوس نہ کی گئی۔
اور پھر ایک دن وہ پل ٹوٹا۔
ایسے جیسے زمین نے خود اپنے لوگوں کے پیروں تلے سے امید کھینچ لی ہو۔
پل کے گرنے سے پینتیس جانیں دریا کی بے رحم آغوش میں گم ہو گئیں۔
نہ جانے کتنی ماؤں کی گودیں خالی ہوئیں،
کتنی بہنوں کی کلائیاں ٹوٹ گئیں،
کتنے گھروں کی ہنسی ایک ہی لمحے میں خاموش ہو گئی۔
لاشیں کبھی لکڑی کے گٹھروں میں پھنس کر ملتی تھیں،
کبھی میلوں دور کناروں پر آ کر اکیلی پڑی رہتی تھیں۔
مگر کچھ لوگ اب بھی‘‘لاپتہ’’کے لفظ میں قید ہیں،
جن کے نہ کفن نصیب ہوا اور نہ قبر۔
تاج بیگم کا بیٹا بھی انہی گمشدہ لوگوں میں شامل تھا۔
اس کا پوتا اور بہو مل گئے تھے،
مگر بیٹے کی کوئی خبر نہیں آئی۔
اور تب سے آج تک، وہ ہر روز اسی کنارے آ کر بیٹھتی ہے۔
وہاں جہاں آخری بار اس نے اپنے بیٹے کو الوداع کہا تھا۔
اس کی آنکھیں وقت کے ساتھ دھندلا گئی ہیں،
مگر امید کی روشنی آج بھی اُن میں لرزتی ہے۔
وہ ہر لہر کی آواز میں اپنے بیٹے کی آہٹ سنتی ہے،
ہر ہوا کے جھونکے میں کوئی آواز ڈھونڈتی ہے۔
کبھی کسی سایے پر چونک کر پلٹتی ہے،
کبھی کسی آہٹ پر دل کی دھڑکن بے قابو ہو جاتی ہے۔
مگر وہ سب اس کی اپنی امید کی گونج ہوتی ہے۔
دنیا آگے بڑھ گئی ہے۔
گنڈبل کے لوگ اپنے زخم چُھپانے لگے ہیں،
پل کی جگہ نیا ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا ہے،
سرکاری فائلوں میں حادثہ‘‘بند’’ہو گیا ہے۔
مگر تاج بیگم کا دِل۔
اب بھی وہیں رکا ہوا ہے،
دریا کے اُس کنارے…
جہاں اس کی ماں ہونے کی آخری دلیل ڈوب گئی تھی۔
وہ پوچھتی ہے:
’’قصور کس کا ہے؟ پل کا؟ اُن ہاتھوں کا جو اسے تھام نہ سکے؟ یا اُن کانوں کا جو چیخیں سننے سے پہلے ہی بہرے ہو گئے تھے؟‘‘
مگر سوال اب سوال نہیں رہے۔
صرف سناٹے میں گُم ہو جانے والے الفاظ رہ گئے ہیں۔
تاج بیگم آج بھی بیٹھتی ہے،
اپنی چادر کے کونے سے آنکھیں پونچھتی ہے،
اور آہستہ سے دریا سے کہتی ہے:
’’اگر وہ پانی میں کہیں سو گیا ہے…
تو اسے کہنا، امّی اب بھی انتظار کرتی ہے۔‘‘
یہ کہانی ایک ماں کے صبر،
ایک شہر کے زخم،
اور انسانی غفلت کے اُن بوجھوں کی داستان ہے
جو وقت کے ساتھ ہلکے نہیں ہوتے۔
بس دل پر نقش ہو جاتے ہیں۔
���
مومن آباد، بٹہ مالو، سرینگر ، کشمیر
موبائل نمبر؛7780819607