آصف حسین الکشمیری
درودِ شریف محض چند الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ ایمان کی خوشبو، محبت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہچان اور روح کی غذا ہے۔ یہ وہ نورانی عمل ہے جو دل کی ویرانی کو آباد کرتا ہے، فکر کی الجھنوں کو سلجھاتا ہے اور انسان کو باطن کی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ جس دل نے درودِ پاک کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا، وہ دل دنیا کے غموں میں بھی سکون کی دولت پا لیتا ہے۔ امتِ مسلمہ کی روحانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ درودِ شریف نے بے شمار دلوں کو نورِ ہدایت سے منور کیا اور بے چین روحوں کو قرار عطا فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں خود اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کا ذکر فرمایا اور اہلِ ایمان کو اس مبارک عمل کا حکم دیا۔ یہ ایسا شرف ہے جو کسی اور عبادت کو حاصل نہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے خود نبی کریمؐ پر درود بھیجتے ہیں اور مومنوں کو بھی اس میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ درودِ شریف دراصل بندے اور رسولِ اکرمؐ کے درمیان محبت اور وفاداری کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ رشتہ صرف زبان کا نہیں بلکہ دل، کردار اور عمل کا رشتہ ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں درودِ شریف کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایک مرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے دس گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے دس درجے بلند کرتا ہے۔ یہ درود صرف ثواب کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی کا وسیلہ بھی ہے۔ کثرتِ درود سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے، غصہ کم ہوتا ہے، حسد اور کینہ ختم ہونے لگتا ہے اور انسان کے اندر محبت و اخلاص کا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔
درودِ شریف مسلسل پڑھنے سے معرفت اور عشقِ نبوی حاصل ہوتا ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ جب مجھے کبھی اضطراب اور پریشانی لاحق ہوتی تو میں مسلسل نبی کریمؐ پر درود پڑھتا، اللہ تعالیٰ مجھے درود کی برکت سے اس پریشانی سے نکال دیتے اور مجھے امن، سکون اور راحت نصیب ہوتی۔ کتنے ہی علما، عارفین، عابدین اور صالحین ایسے گزرے ہیں ،جنہیں درودِ شریف کی کثرت کی بدولت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ اور کتنے ہی خوش نصیب وہ ہوں گے جو دنیا میں درود پڑھتے رہے اور قیامت کے دن نبی کریمؐ ان کی شفاعت فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
آج کا انسان ذہنی دباؤ، بے سکونی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ مادی ترقی کے باوجود دل مطمئن نہیں۔ ایسے ماحول میں درودِ شریف وہ نسخۂ شفا ہے جو روح کو تازگی بخشتا ہے۔ جب انسان خاموشی سے بیٹھ کر محبت کے ساتھ درود پڑھتا ہے تو اس کے دل میں ایک عجیب سی ٹھنڈک اترتی ہے، جیسے رحمت کی بارش ہو رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اولیائے کرام نے درود کو اپنی مجالس کا محور بنایا اور اسے ہر مشکل کا حل قرار دیا۔
درودِ شریف قربِ رسول ؐ کا سب سے آسان اور مضبوط ذریعہ ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ قریب وہی ہوگا جو دنیا میں سب سے زیادہ درود پڑھنے والا ہوگا۔ یہ قرب صرف آخرت تک محدود نہیں بلکہ دنیا میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ جو شخص درود کو اپنا معمول بناتا ہے، اس کے اخلاق سنور جاتے ہیں، اس کی زبان نرم ہو جاتی ہے اور اس کا رویہ دوسروں کے لیے باعثِ راحت بن جاتا ہے۔ وہ نفرت کے بجائے محبت بانٹتا ہے اور انتقام کے بجائے درگزر کو اختیار کرتا ہے۔
درودِ شریف دعا کی قبولیت کا ذریعہ بھی ہے۔ علما فرماتے ہیں کہ جو دعا درود سے شروع ہو اور درود پر ختم ہو وہ اللہ کے حضور رد نہیں ہوتی۔ گویا درود دعا کے لیے قبولیت کی کنجی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین ہر مشکل گھڑی میں درود کو اپنا سہارا بناتے تھے۔ بیماری ہو، تنگ دستی ہو یا خوف و بے یقینی—درودِ شریف ہر حالت میں دل کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں عبادات کو اکثر رسم بنا دیا گیا ہے، مگر درودِ شریف رسم نہیں بلکہ رشتہ ہے۔ یہ رشتہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کس امت سے تعلق رکھتے ہیں اور ہماری زندگی کا نمونہ کون ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں سکون آئے، ہمارے معاشرے میں اخلاق پیدا ہوں اور ہماری نسلیں گمراہی سے بچیں تو ہمیں درودِ شریف کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
درودِ شریف ہمیں سیرتِ رسولؐ کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ جب ہم درود پڑھتے ہیں تو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچائی، امانت داری، شفقت اور عدل یاد آتا ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر امتِ مسلمہ درود کے ساتھ سیرتِ نبوی کو اپنی زندگی میں نافذ کرے تو وہ دوبارہ عزت اور وقار حاصل کر سکتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ درودِ شریف دنیا و آخرت کی کامیابی کا روشن راستہ ہے۔ یہ دلوں کی تاریکی کو نور میں بدل دیتا ہے، زندگی کو مقصد عطا کرتا ہے اور بندے کو قربِ رسولؐ کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم درودِ شریف کو وقتی عمل نہ بنائیں بلکہ اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں۔ یہی وہ چراغ ہے جو ہمارے باطن کو منور کرے گا اور یہی وہ سرمایہ ہے جو ہمیں قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا حق دار بنائے گا۔
رابطہ۔ 9797888975
[email protected]