جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے افراد اردو زبان و ادب سے محبت کرتے ہیں۔بھدرواہ کا خوبصورت علاقہ بھی اس محبت میں پیچھے نہیں ہے ۔اس زرخیز زمین سے بھی ایسے محبان اردو اٹھے ہیں جنہوں نے اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا اصل شعبہ اور ذریعہ معاش کچھ اور تھا لیکن اردو زبان سے محبت کے بنا پر اسی زبان کے ہوکر رہ گئے ہیں۔اس زبان کو نہ صرف اپنے احساسات و جذبات اور سوچ و فکر کا ترجمان بنایا بلکہ جنون کی حد تک اس سے محبت کی۔ایسا ہی ایک نام ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی کا ہے جو پیشے سے ڈاکٹر تھے لیکن اردو کی محبت دل میں کیا رچ بس گئی کہ اسی کے ہوکے رہے۔
ڈاکٹر عبد المجید 3 مئی 1942 ء میں بھدرواہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام خواجہ عبد الکریم تھا۔ڈاکٹر عبد المجید نے میڈیکل کالج پٹیالہ سے ایم بی بی ایس کی ٹریننگ کی ہے۔مختلف اضلاع میں مریضوں کو صحت جیسی نعمت سے دوبارہ آشنا کیا اور 2002 ء میں سرکاری نوکری سے بحیثیت ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ سبکدوش ہوئے ۔2003 ء اور 2005 ء میں فریضہ حج بھی ادا کیا اور چند برسوں سے ہر سال عمرہ کرنے جاتے ہیں۔بحیثیت افسانہ نگار پہچان رکھتے ہیں پہلا افسانہ " لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا" 1975 ء کے آس پاس ہفتہ روزہ قومی آواز جموں میں شائع ہوا۔اس کے بعد ایک اور افسانہ "آنچ" 1983ء میں شیرازہ اردو نوجوان نمبر میں شائع ہوا۔ان کے افسانے " آدمی آدمی" کو غلام نبی خیال نے انگریزی میں ترجمہ کیا اور اپنے انگریزی اخبار وائس آف کشمیر میں شائع کیا۔ ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی کے افسانوں کی ایک ضخیم کتاب " چبھن " کے عنوان سے 2021ء میں شائع ہو چکی ہے۔اس افسانوی مجموعے میں پینسٹھ افسانے شامل ہیں۔مصنف کے علاوہ کتاب میں نور شاہ، اسیر کشتواڑی،ش م احمد،پروفیسر محمداسد اللہ وانی ،دھرم کانت ڈوگرہ وغیرہ کے تاثرات اور تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی اردو زبان سے ہی شغف نہیں رکھتے بلکہ مذہبات سے بھی خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔اسلامیات کے حوالے سے ان کے پانچ کتابچے انتخاب نور (2008)ء، مختصر طریقہ حج اور عمرہ ، درود و سلام، دیار حبیبؐ حصہ اول (2015) ء ، دیار حبیب ؐحصہ دوم (2016) ء اور چہل احادیث (2019) ء میں چھپ چکے ہیں۔ڈاکٹر عبد المجید نے ان کتابچوں کو سہل اور سادہ زبان میں مرتب کیا ہے۔یہ کتابچے لوگوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں تاکہ ثواب والدین کو ملے۔
ڈاکٹر عبد المجید طبیب بھی ہیں اور قلمکار بھی۔ظاہر ہے کہ انسانی نفسیات سے واقف ہیں اور معاشرے کے اتار چڑھاؤ سے بھی۔معاشرے کا مشاہدہ گہری نگاہ سے کرتے ہیں ۔معاشرے میں نظر آنے والی کوتاہیںوں ، کمزوریوں،زیادتیوں کا ذکر اپنے افسانوں میں کرتے ہیں۔صرف معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کو ہی موضوع نہیں بناتے بلکہ رشتوں کی ناقدری نہ کرنے اور ماں باپ سے حسن سلوک کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں ۔ماں کے مقدس رشتے،پیار ، محبت ،شفقت ، کو کئی افسانوں میں بیان کیا ہے۔ اپنے افسانوں میں معاشرے میں موجود لالچی اور مفاد پرست انسانوں کا نقشہ بھی کھینچتے ہیں اور عبادتوں میں ریا کاری کرنے والوں کو بھی موضوع بناتے ہیں۔ نور شاہ صاحب ان کے بارے میں اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ:
"ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی کی کہانیاں پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی نبض بخوبی جانتے اور پہنچانتے ہیں اور شاید اس لئے ان کی کہانیوں میں زندگی کے مختلف روپ ،دکھ سکھ اور احساسات و جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔وہ اپنی بات کھل کر کرتے ہیں ۔اپنی بات اشاروں اور علامتوں میں کہنے سے گریز کرتے ہیں۔معاشرتے کو بدلنے کی بات کرتے ہیں ،ناامیدی اور بے یقینی کے دامن سے چھٹکارا پانے کی بات کرتے ہیں"۔
ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی سیاست کو نہیں چھیڑتے اور نہ ہی اپنی بات علامتوں کے غلاف میں قاری کے سامنے رکھتے ہیں بلکہ براہ راست فرد کے جذبات ، اپنے تجربات ،عصری مسائل اور سماجی موضوعات کو اپنے افسانوں میں پیش کرتے ہیں۔والدین خاص کر والدہ کی محبت ، شفقت ، دعاؤں ،یادوں کو اپنے افسانوں میں بیان کیا ہے اور دیگر سماجی اور خونی رشتوں کو بھی اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔اسلام کے اسباق ہوں یا اخلاقی تعلیمات،تنہائی کا دکھ ہو یا حال دل کا ذکر ، ذہنی کیفیات ہوں یا جذبات ہر احساس اور فکر کو شدت کے ساتھ اپنے افسانوں میں بیان کرتے ہیں۔بعض دفعہ جذباتی ہوجاتے ہیں جس سے افسانہ فنی طور پر مجروح ہوجاتا ہے اور وہ افسانہ نہیں رہتا مثال کے طور پر " درد سے بھر نہ آئے کیوں" کوپیش کیا جاسکتا ہے۔اس افسانے میں مصنف نے دل کو مرکزی کردار بنا کر اس سے ہمکلامی کی ہے۔خوشی ہو یا غم مصنف ہر حال میں دل سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ اس نے نصف صدی سے زائد عرصے تک میرا ساتھ نبھایا۔مصنف کو وہ لمحے بھی یاد آتے ہیں جب اس کی والدہ کا انتقال ہوتا ہے اور دل تب بھی ساتھ دیتا ہے۔مصنف دل سے مخاطب ہے کہ گذشتہ مہینوں سے دھڑکنے کی رفتار میں بے قاعدگی آئی ہے جو خطرے کی نشانی ہے۔مصنف دل سے گزارش کرتا ہے کہ میرا ساتھ چھوڑنے سے قبل مجھے مطلع کرنا تاکہ میں مرنے کی تیاری کرلوں۔ یہ افسانہ نہیں ہے بلکہ انشائیے کے قریب ہے۔
سرکاری محکموں خاص کر اسپتالوں کا حال ہو یا عوامی مسائل، ڈاکٹروں کا رویہ ہو یا ڈرائیور کی فراخدلی ،" سریلی آواز کا کرب " ہو یا " حی علی الصلوة کی صدا، وفا داری کا لیبارٹری ٹیسٹ ہو یا خواب اور آنسو، آدھا شوہر ہو یا استقبال دعا، نگاہ مرد مومن ہو یا تعمیر مسجد کیلئے،ان کے یہاں لہو کی پکار بھی ہے اور آپ بیتی کا بیان بھی۔ان کے اکثر افسانوں کا عنوان شعر یا اشعار کا کوئی مصرعہ ہے۔" درد سے بھر نہ آئے کیوں ، کچھ تو مجبوریاں رہی ہوگی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا، یاد ماضی عذاب ہے یارب ، چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی کو جن حالات و واقعات کا سامنا رہتا ہے ان کو اپنے افسانوں میں پیش کرتے ہیں۔بیٹا دور دراز نوکری کر رہا ہو تو والد کی کیا کیفیات ہوتی ہیں، اپنی کیفیات ، جذبات اور بیٹے کے بچپن سے جڑی یادوں کو افسانہ چھبن میں پیش کیا ہے۔امجد والدین کو فون کرتا ہے اور اپنی بیٹی سعدیہ کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے۔اسے یقین نہیں آتا کہ میری بیٹی پندرہ سال کی ہوگئی ہے۔اس پر امجد کو والدین سمجھاتے ہیں کہ بیٹا جو پیدا ہوتا ہے وہ بڑا بھی ہوتا ہے ،بوڑھا بھی اور ایک وقت آتا ہے جب وہ یہ دنیا چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔امجد کے والد کو خیال آتا ہے اور وہ پنتالیس سال پیچھے امجد کی پیدائش کے وقت کو یاد کرتا ہے ۔امجد بہت خوبصورت ،گورا چٹا ،گول مٹول اور خوبصورت تھا۔خاندان کے تمام افراد ہی نہیں بلکہ ہمسائے ،رشتے دار بھی اس سے بہت پیار کرتے تھے۔جب ایک سال کا ہوا تو اسے بخار ہوا۔دوائی لائی پر افاقہ نہ ہوا۔کسی نے جوتشی کو دکھانے کی صلاح دی۔پیروں فقیروں کو دکھایا لیکن امجد روز بروز کمزور ہوتا گیا۔آخر کار بچوں کے ڈاکٹر کو دکھایا اور ہفتہ دس دن میں امجد ٹھیک ہوگیا۔
ایک دن سردار ہری سنگھ چنڈیل سے راوی کی ملاقات ہوتی ہے اور اس نے بھی بچے کو پیار کرنا شروع کیا۔سردار بچے کو ہوا میں اچھال اچھال کر کھیلتا تھا۔امجد کی کنیت راجہ بھی سردار نے ہی رکھی تھی۔راوی اور سردار جی کی دوستی گہری ہوئی اور ایک دن سردار نے بتایا کہ گھر میں وہ اور اس کی بیٹی رہتی ہے۔سردار کی بیوی کا انتقال چند برس قبل ہوا تھا اور اکلوتا بیٹا کنیڈا میں ایک کمپنی میں جنرل منیجر ہے۔سردار کو اپنے بیٹے کی یاد بہت ستاتی ہے۔سردار کو یہ بھی پریشانی تھی کہ بیٹی جوان ہو گئی ہے۔مصنف سردار کو تسلی دیتا ہے۔ مصنف کو خود بھی بیٹے کی یاد ستاتی ہے اور پنتالیس سال کا ہونے کے باوجود دوری کی چھبن سے ٹیس اٹھتی ہے۔ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی کے افسانوں میں جذباتیت کا غلبہ ہے۔وہ جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں جس سے افسانہ فنی اعتبار سے کمزور پڑ جاتا ہے۔یہ خامی ان کے تقریبا ہر افسانہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
یہاں یہ ذکر بیجا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر عبد المجید کے دو بیٹے ہیں۔ بڑے بیٹے کا نام امجد کریم ہے۔یہ دوبئی میں جنرل منیجر ہے ۔اسی کے نام پر کتاب کا نام چبھن رکھا ہے اور چبھن افسانے میں اسی کا ذکر ملتا ہے۔دوسرا بیٹا خالد مجید اسپیشل سیکریٹری آف ہوم ڈیپارٹمنٹ ہے۔ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی افسانوں کے علاوہ تنقیدی مضامین بھی لکھتے ہیں۔ان کی تخلیقات وادی کے معروف اخبارات و رسائل کی زینت بنتی ہیں۔ابھی روانی سے لکھ رہے ہیں اور امید ہے کہ ان کے قلم سے مزید فن پارے وجود میں آئیں گے۔
رابطہ:-8493981240